Daily Mashriq


توانائی کا حالیہ بحران

توانائی کا حالیہ بحران

ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 5ہزار 782 میگا واٹ تک پہنچ جانے سے پیدا شدہ صورتحال واقعتا افسوسناک ہے۔ طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کا شکار صارفین یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ 10/12 ہزار میگا واٹ بجلی کہاں گئی جس کے بارے میں دھما چوکڑی کیساتھ اعلانات کئے جاتے اور داد وصول کی جاتی تھی کہ یہ بجلی کے مرکزی نظام کا حصہ بنا دی گئی ہے؟ پاور ڈویژن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب 23952 میگا واٹ ہے جبکہ مرکزی نظام میں 18170 میگا واٹ موجود ہے۔ بے مقصد الزام تراشی اور دوسری باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے اس حوالے سے سابق حکومت کے ان ذمہ داروں کو حقیقت حال سامنے لانی چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی 10 سے 12 ہزار میگا واٹ بجلی مرکزی نظام کا حصہ بنا دی گئی تھی تو پھر تین چار مہینوں میں پیداوار اور کھپت میں عدم توازن کیسے پیش آیا۔ دوسری طرف توانائی کے حالیہ بحران کے حوالے سے ماہرین کی آراء یہ ہیں کہ سابق حکومت کے آخری سال میں بجلی کے بحران پر مصنوعی طریقے سے قابو پایا گیا۔ انرجی سیکٹر کی نجی کمپنیوں کو ادائیگیوں کی یقین دہانی پر پیداوار بڑھانے کیلئے کیا گیا تاکہ انتخابی عمل میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا نعرہ لگا کر حمایت حاصل کی جاسکے مگر ان کمپنیوں کو بروقت ادائیگی نہیں کی گئی جس کی بدولت نجی پاور کمپنیوں نے بتدریج پیداوار کم کر دی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف تو نجی کمپنیوں کے گیارہ سو ساڑھے بارہ سو ارب روپے کے واجبات ہیں اور دوسری طرف کم پیداوار کی بدولت پیدا ہونے والا شارٹ فال۔ ہر دو امور یقینا موجودہ حکومت کی فوری توجہ کے مستحق ہیں مگر اس کیساتھ ساتھ اس امر کی تحقیقات بھی ضروری ہے کہ سابقہ دور کے اوائل میں نجی پاور کمپنیوں کو آڈٹ کے بغیر پانچ سو اسی ارب روپے کی جو ادائیگی کی گئی اس کے بعد کتنی رقم کس طریقے سے ادا ہوئی اور بقایاجات کا حجم اس قدر زیادہ کیوں ہے؟ امید واثق ہے کہ حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور اس سے منسلک معاملات کے حوالے سے کسی تاخیر کے بغیر اقدامات کرے گی۔

ٹاسک فورسوں کیلئے قانون سازی ناگزیر ہے

نومنتخب وفاقی حکومت نے اپنے انتخابی منشور اور وعدوں پر عمل درآمد اور اصلاحات کے ایجنڈے کیلئے جو ٹاسک فورسز قائم کی ہیں ان کی کارکردگی اور پیش کردہ تجاویز اپنی جگہ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی قانون سازی کے بغیر ان ٹاسک فورسوں کی سفارشات پر عمل درست ہوگا؟ قانونی ماہرین کی یہ رائے درست ہے کہ حکومت ٹاسک فورسوں کی سفارشات پر عمل سے قبل ضروری قانون سازی کر لے۔ اس قانون سازی کیلئے آئینی ترمیم کی ضرورت ناگزیر ہے۔ دستوری ترمیم کیلئے پارلیمان میں دوتہائی اکثریت درکار ہوگی۔ اندریں حالات اس امر کا مدنظر رکھا جانا بھی ضروری ہے کہ ضروری قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ماضی میں بھی قائم کی جانے والی ٹاسک فورسوں کی سفارشات فائلوں کا حصہ ہی رہیں۔ ماضی کے تجربات اور قانونی ضرورتوں دونوں کو سامنے رکھ کر حکومت کسی تاخیر کے بغیر قانونی ترمیم کا مسودہ پارلیمان میں لائے۔ امر واقع یہ ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اصلاحات لانے اور عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے انقلابی خطوط پر کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ اسی طور ممکن ہے جب اصلاحات کو دستوری تحفظ حاصل ہو۔ مسائل ومشکلات سے دو چار عوام نئی حکومت کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ٹاسک فورسوں کے قیام اور ان کی سفارشات پر عمل ہر دو کو اگر قانونی تحفظ حاصل نہ ہوا تو اصلاحات وتبدیلی کے سارے وعدے پانی کا بلبلہ ثابت ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ جناب وزیراعظم وفاقی وزارت قانون کو کسی تاخیر کے بغیر قانونی مسودے کی تیاری اور اسے پارلیمان میں پیش کرنے کا حکم دیں گے تاکہ نظام میں اصلاحات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کیساتھ ساتھ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے وعدے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ خبریں