Daily Mashriq


پانی بحران۔۔۔ ذمہ دار کون؟

پانی بحران۔۔۔ ذمہ دار کون؟

’’پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز‘‘ نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر حکومت نے آبی وسائل کو محفوظ بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات نہ کئے تو یہ ملک 2025ء تک بنجر ہو جائے گا۔ PCRWR نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان 1990ء میں پانی کے دباؤ والی حد (Water Stress Line) پار کر چکا تھا جبکہ 2005ء میں پانی کی قلت کے نشان (Water Scarcity Line) کو بھی عبور کر چکا ہے۔ اگر سرکاری سطح پر عدم توجہی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک میں پانی کی ایسی سخت قلت ہو جائے گی کہ اس کا ابھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور خشک سالی اپنی بدترین صورت میں نظر آسکتی ہے۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانی کے خوفناک بحران کی وجہ سے پاکستان کی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہے لیکن مقامی حکام بظاہر اس سے لاتعلق اور بے پروا نظر آتے ہیں۔ 1960ء کی دہائی کے بعد پاکستان نے اب تک کوئی نیا ڈیم تعمیر نہیں کیا‘ تاہم حکام کو اس بارے میں اب سنجیدہ ہو جانا چاہئے۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے کہ ہم اس وقت صرف 30 دنوں کیلئے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ارسا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال 21ارب ڈالر مالیت کا قیمتی پانی سمندر میں ضائع کر دیتا ہے۔ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں ہمالیائی گلیشیئرز‘ مون سون کی بارشوں اور سیلابوں کی کوئی کمی نہیں اس کے باوجود اس کے پاس صرف تین بڑے آبی ذخائر ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں جنوبی افریقہ اور کینیڈا میں ایک ہزار سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل موجود ہیں۔ پاکستان میں پانی جس طرح زراعت کیلئے استعمال کیا جارہا ہے وہ عقل کیخلاف بھی محسوس ہوتا ہے۔ شمالی علاقوں میں جہاں بارشیں بہت ہوتی ہیں زراعت کو ترقی دینے کی بجائے سندھ اور پنجاب کے ان بنجر علاقوں میں آبپاشی پر توجہ دے رہے ہیں جہاں درجہ حرارت 50ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے اور ان علاقوں میں چاول اور گنے کی فصل کاشت کرتے ہیں جنہیں پانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ پی سی آر ڈبلیو آر کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں بورنگ کے ذریعہ پانی کے حصول کی کوششوں سے زیرِ زمین پانی کی سطح دن بہ دن نیچے جا رہی ہے جہاں قدرتی طور پر سنکھیا کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ گزشتہ اگست میں لئے گئے ایک بین الاقوامی جائزے میں بتایا گیا تھا کہ پانچ سے چھ کروڑ پاکستانی سنکھیا سے آلودہ پانی پی کر خود کو ’’سلوپوائزننگ‘‘ کا شکار کر رہے ہیں۔پاکستان پانی استعمال کرنے کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ اس کی پانی کی شدت کی شرح (Water Intensity Rate) یعنی مکعب میٹرز میں پانی کی وہ مقدار ہے جو مجموعی قومی پیداوار کے ایک یونٹ میں استعمال ہوتی ہے‘ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کسی ملک کی معیشت کو پانی کی اتنی زیادہ ضرورت نہیں ہے جتنی پاکستان کو ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مطابق پاکستان پہلے ہی دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں پانی کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ اس وقت اس کی فی کس سالانہ پانی کی دستیابی 1017 مکعب میٹر ہے جو پانی کی شدید قلت کی آخری حد 1000 مکعب میٹر کے بہت قریب ہے۔ 2009ء میں پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1500 مکعب میٹر تھی۔ ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر حکام کی عدم دلچسپی کا یہی عالم رہا تو 2025ء تک پانی کی دستیابی کی شرح 500مکعب میٹرز سے بھی کم ہو جائے گی جو اس وقت جنگ زدہ صومالیہ میں دستیاب پانی کا ایک تہائی حصہ ہے۔ پاکستان کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک کا 90فیصد پانی زراعت کیلئے استعمال ہوتا ہے جس کیلئے نہروں کے ذریعہ آبپاشی کا نظام برسہا برس پہلے برطانوی استعمار کے دور میں بنایا گیا تھا جو اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق نہروں کے ذریعے زمینداروں کو بہت کم قیمت پر پانی فراہم کیا جاتا ہے جس سے نہری نظام کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال پر اٹھنے والے اخراجات کا صرف ایک چوتھائی حصہ وصول ہو پاتا ہے۔ اسی کیساتھ سطح زمین پر دستیاب تقریباً تمام پانی جس زراعتی شعبے کے حوالے کیا جاتا ہے اسے ٹیکس کی چھوٹ بھی دی جاتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ آبادی میں اضافہ اور دیہی علاقوں کو شہروں میں تبدیل کرنے کی روش (Urbanization) سے بھی پانی کا مسئلہ خوفناک رُخ اختیار کر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی‘ پانی کی فراہمی اور تقسیم کے ناقص انتظامات اور بحران سے نمٹنے میں سیاسی عزم کے فقدان کے باعث پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور سیاستدانوں کے درمیان باہمی محاذ آرائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت پاکستان کی طرف بہہ کر آنے والے تمام دریاؤں پر دھڑا دھڑ ڈیمز تعمیر کر کے اپنی توانائی اور ذخیرۂ آب کی ضرورتیں پوری کر رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے ان اقدامات کے ذریعے پاکستان کو بنجر بنانے کی کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن ہمارے اہل سیاست کو باہمی چپقلش اور محاذ آرائی سے فرصت نہیں کہ وہ اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ دیں۔پاکستانی قوم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قومیں جن قومی امور پر متفق نظر آتی ہیں ہم ان امور میں بھی تقسیم کی گہری کھائیوں میں جا گرتے ہیں‘ یہی ہماری تاریخ ہے۔ پاکستان میں 1990ء سے پانی کا بحران جاری ہے جو 2018ء میں شدت اختیار کر گیا ہے۔ پانی کے اس بحران پر قابو پانے کیلئے‘ اپنی آنے والی نسلوںکو اس بحران اور زمینوں کو بنجر ہونے سے بچانے کیلئے منصوبہ بندی کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ چونکہ کسی ایک علاقے‘ فرد یا قبیلے کا مسئلہ نہیں ہے، اس لئے اس مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے کی اشد ضرورت تھی لیکن افسوس ہم اس قومی ایشو پر بھی تقسیم نظر آ رہے ہیں۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں