Daily Mashriq


پوت کر ے بھٹار کے آگے آئے

پوت کر ے بھٹار کے آگے آئے

سو دن کی گنتی اُلٹی شروع ہو چکی ہے اب تک عمران خان کی حکومت نے عوام کی لوٹی دولت واپس لانے کیلئے کیا اقدام کئے اس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں، آف شور کمپنیوں کا بڑا غوغا مچا تھا، عمران خان سپریم کورٹ جا پہنچے تھے کہ نواز شریف کی آف شور کمپنیاں ہیں مگر عدالت کیا کسی بھی مقام پر ثابت نہیں ہو سکا کہ نوازشریف کی کوئی ایک آدھ کمپنی ایسی ہے جس کا رشتہ پاناما لیکس سے جوڑا جا سکے، پاناما لیکس میں تقریباً چار سو بتیس کمپنیوں کا حوالہ آیا تھا جس میں سے ایک بھی سابق وزیراعظم کے نام نہیں نکلیں، البتہ عمران خان کا یہ مؤقف درست تھاکہ یہ آف شور کمپنیاں بیرون ملک جو قائم کی گئی ہیں ان کا سرمایہ پاکستان سے ہی منتقل ہوا ہے چنانچہ وہ بہت دھڑلے سے دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ عوام کی لوٹی دولت ہے اور ایک ایک پائی واپس لائیں گے مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ چارسو بتیس کمپنیاں بنی گالہ کی پہاڑیوں میںگم ہو گئی ہیں۔ کہیں پر ان کا اب ذکر نہیںمل رہا ہے جبکہ عوام اس بات کے بے چینی سے منتظر ہیں کہ عمران خان اپنے وعدوں پر کب سے عمل درآمد کرتے ہیں۔ جو اقدام ہوئے ہیں اس بارے میں اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کہہ رہی ہے کہ بیس فیصد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کے نرخوں میں نظرثانی، گیس کی قیمتیں چھیالیس فیصد بڑھانے اور عام استعمال کی بعض چیزوں کی درآمد پر پابندی کے بعد مہنگائی کا گراف پچاس فیصد سے اوپر ہو جانے کا امکان ہے۔عمران خان دراصل جب سے اقتدار میں آئے ہیں تب سے وہ اس مساعی میں مبتلا ہیں کہ کسی طرح وہ غیر معروف فیصلے نہ کر پائیں بلکہ معروف فیصلے کسی طرح سے ہو جائیں تاکہ جس طور انہوں نے بحیثیت حزب اختلاف لیڈر کے بیانیہ جاری کر کے عوام میں مقبولیت حاصل کی تھی اس کو آٹھ چاند سے مزّین کر دیا جائے جو امکانات میں سے نہیں ہے، اس وقت حکومت کی جو کارکردگی نظر آرہی ہے وہ اس وقت دو مسائل میں بنیادی طور پر پھنسی نظر آرہی ہے اور باقی اس کا اُلجھاؤ خود پیدا کردہ ہے، حکومت عوام کو یہ یقین دہانی کرانے کیلئے کہ موجودہ حکومت دیانتدار اور امانتدار ہے بار بار یہ پروپیگنڈہ کر رہی ہے کہ عوام کے ایک ایک پیسے کی حفاظت کی جائے گی چنانچہ دن رات حکومتی ذرائع سابق حکومت کو شاہ خرچ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور حکومت کی طرف سے اخراجات میں بچت کو نمایاں کیا جا رہا ہے، مثلاً جتنی بار بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس کا ذکر ہوتا ہے یا ایسے کسی اجلاس کی بات ہوتی ہے تو اجلاس کی کارروائی سے زیادہ اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ تقریب میں صرف چائے اور بسکٹ سے تواضع کی گئی حالانکہ صرف چائے سے تواضع کر کے بسکٹ پر خرچہ نہ کرنے سے بھی مزید بچت کی جا سکتی تھی، اس موقعہ پر قائداعظم کا زمانہ یاد آیا جب قائداعظم کے دور میں پہلی مرتبہ مرکزی کابینہ کا اجلاس ہو رہا تھا تو قائد کے سیکرٹری نے قائداعظم سے استفسار کیا کہ اجلاس کے شرکاء کی تواضع کیلئے کیا بندوبست کیا جائے تو قائداعظم نے جو اباً کہا کہ وہ سرکاری کام کیلئے اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں کسی ضیافت میں مدعو نہیں ہیں۔ کسی قسم کی تواضع کی ضرورت نہیں ہے فارغ ہوکر گھر جائیں اور گھر میںجو دل چاہے کھائے پئیں۔یہ بھی محسوس کیا جا رہا ہے کہ حکومت کو تجربہ کاری کا بھی مسئلہ ہے، ملک کو اقتصادی اُلجھاؤ سے نکالنے کیلئے سولہ رکنی اقتصادی مشاورتی کونسل تشکیل دینا پڑی، جس میں اسے ایک رکن جو بہت پہلے سے متنازعہ تھے ان کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ گیا، عاطف میاں کے بارے میں تحریک انصاف کی انتخابی مہم کے دوران ہی ردعمل آگیا تھا جس پر عمران خان نے وضاحت بھی کر دی تھی جس کے بعد یہ یقین ہو چلا تھا کہ عاطف میاں کو حکومت میں نہیں لیا جائے گا، تاہم جب لیا تو عوامی ردعمل کا شدت کیساتھ سامنا کرنا پڑا اور بادل نخواستہ عاطف کی چھٹی کرنا پڑ گئی، ان کی چھٹی پر دو دوسرے ارکان کونسل نے بھی استعفے پیش کر دیئے۔ ان کا موقف ہے کہ وہ میاں عاطف کے کہنے پر شامل ہوئے تھے، ایک طرح سے اچھا ہوا کیونکہ ان کے بیانئے کے مطابق ان کو صرف عاطف میاں سے غرض ہے ملک سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ عاطف میاں کی علیحدگی کو عالمی سطح پر بھی اچھالنے کی سعی کی گئی جہاں عاصم اعجاز خواجہ اور عمران رسول مستعفی ہوئے وہاں عالمی سطح پر عاطف میاںسے یکجہتی کا اظہار بھی کرانے کی کوشش کی گئی جس کا مقصد پاکستان کو انتہاپسند مذہبی ریاست کے طور پر پیش کرنا مقصد تھا۔ ان میں دو امریکی پروفیسر ڈینی روڈک اور اوسٹن کولسبے بھی شامل ہیں۔ لاہور میںلمز یونیورسٹی کے طلباء کو بھی احتجاج پر ورغلانے کی مساعی ناکام بھی کی گئی۔اقتصادی مشاورتی کونسل کی ترتیب، ترکیب اور ہیئت کا جائزہ لیا جائے تو یہ چلی فیم لگتی ہے، ان ماہرین کو شکاگو بوائز کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے چلی ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہو چکا ہے، ایک بہت بڑی تعداد بیروزگاری کا شکار ہوئی اور ان شکاگو بوائز کی کارستانیو ں کو امریکی سازش قرار دیا گیا تھا کیونکہ چلی کی معیشت سنبھلنے کی بجائے تباہ ہو کر رہ گئی تھی، ادھر عاطف میاں، عمران رسول اور عاصم خواجہ تینوں کا لاہور کی لمز یونیورسٹی کے شعبہ سینئر فار اکنامک ریسرچ ان پاکستان سے تعلق ہے۔ جس طرح شکاگو بوائز کا امریکی یونیورسٹی سے تعلق تھا لمز کا یہ شعبہ ہاورڈ یونیورسٹی کے کینڈی اسکول شکاگو نے قائم کیا۔ عاطف میاں کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ان کو اس لئے نکالا گیا کہ ان کا تعلق قادیانیت سے ہے، یہ بات کسی حد تک درست کہی جا سکتی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے، مسئلہ یہ ہے کہ عاطف میاں قادیانی ہیں اس میں کوئی شک وشبہ نہیںہے۔

( باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں