Daily Mashriq


وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کا ڈیم فنڈ

وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کا ڈیم فنڈ

وزیراعظم عمران خان اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے پانی سے بجلی بنانے اور پانی ذخیرہ کرنے کی غرض سے ڈیموں کیلئے فنڈز جمع کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور چیف جسٹس آف پاکستان دو ڈیم بنانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ڈیم دیامیر بھاشا ڈیم جس سے4500 واٹ بجلی بنائی جائے گی اور ساتھ ساتھ اس میں 85لاکھ فٹ پانی جمع کرنے کی گنجائش ہوگی جبکہ دوسرا ڈیم مہمند ڈیم ہوگا اس میں 12لاکھ فٹ پانی جمع کرنے کی گنجائش ہوگی اور اس ڈیم سے 800میگاواٹ سستی بجلی بنائی جا سکے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اچھا فیصلہ ہے۔ جس سے ملک میں پانی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ میں نہ صرف کمی آئے گی بلکہ اس سے تقریباً بجلی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے ملک کے اندر اور سمندر پار پاکستانیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس فنڈ میں دل کھول کر چندہ دیں تاکہ بجلی بنا کر اور پانی ذخیرہ کرکے ان دو مسائل پر قابو پایا جاسکے۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو اس وقت ملک میں 8سے 12گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جس سے عام لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے۔ اگر ہم مزید غور کریں تو پاکستان جو جوہری طاقت کیساتھ میزائل طاقت بھی ہے یہاں پر فی کس بجلی کا خرچہ 40 واٹ ہے اور بجلی کے استعمال میں ہم ایتھوپیا، رانڈا، نائجیریا اور کومورو جیسے ممالک کی صف میں شامل ہیں جو ماضی میں پاکستان سے سینکڑوں چند پیچھے تھے۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو ترقی یافتہ ممالک میں بجلی کا فی کس استعمال 4ہزار واٹس سے5 ہزار واٹس تک ہے جو ترقی پذیر ممالک اور پاکستان سے 150چند زیادہ ہے۔ جنوبی ایشیا کے وہ ممالک جو ہمارے پڑوسی ہیں اوردنیا کے وہ انتہائی پسماندہ مفلوک الحال ممالک جو پاکستان سے حد سے زیادہ غریب ہیں وہاں پر بھی بجلی کا استعمال ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مثلاً بھارت میں بجلی کا فی کس استعمال 130واٹ، بھوٹان 317 واٹ، چین کا فی کس بجلی استعمال492 واٹ اور پسماندہ ممالک جیسے الجیریا کا فی کس بجلی کا استعمال 136واٹ، پیرو کا 144 واٹ، زمبابوے 62واٹ فی کس بجلی استعمال کرتا ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ریاستیں کبھی بھی عطیات یعنی ڈونیشن پر پروان نہیں چڑھ سکتی بلکہ ریاستوں کے وسائل اور اس قسم کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ایک پورا اقتصادی میکنزم اور طریقہ کار ہوتا ہے مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم ریاست کو ایک چیریٹی یعنی خیراتی طریقہ کار پر چلا رہے ہیں۔ جیسا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان دھرنوں اور پبلک میٹنگز میں اکثر وبیشتر فرمایا کرتے تھے کہ اس ملک کو نواز شریف، زرداری اور ان کے حواریوں نے لوٹا ہے، اقتدار میں آکر ہم ان سے یہ رقم نکالیں گے۔ محترم عمران خان یہ بھی کہتے تھے کہ اس ملک کے سابقہ حکمرانوں نے اس دھرتی کو لوٹا ہے اور انشاء اللہ اقتدار میں آکر ہم ان کے گھر اور جائیدادیں نیلام کر کے دم لیں گے۔ اب جبکہ خان صاحب اقتدار میں ہیں تو ان لٹیروں اور ڈاکوؤں کیخلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا۔ قومی احتساب کمیشن کے پاس بڑے عرصے سے کرپشن کے بڑے 150 کیسز پڑے ہوئے ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ ان کیخلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا۔ عمران خان یہ بھی فرماتے تھے کہ وطن عزیز میں دن کو 13ارب اور سالانہ 5ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے، اقتدار میں آکر ہم کرپشن اور بدعنوانی کیخلاف ایکشن لیں گے مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ وزیراعظم نے اب تک اس سلسلے میں نہ کوئی بات کی ہے اور نہ کوئی حکمت عملی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ اکثر یہ دعوے کرتے رہتے تھے کہ نواز شریف حکومت میں تیل کے الٹر پر 40روپے اور بجلی فی یونٹ پر10سے لیکر اوربعض حالتوں میں ۱۲۵روپے یونٹ لئے جاتے ہیں اور اقتدار میں آکر ہم عوام کو سستا پٹرول اور سستی بجلی دیں گے مگر اب تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ آپ نے اور بھی بہت سے وعدے کئے تھے۔ نوجوانوں نے آپ سے بہت اُمیدیں وابستہ کی ہیں مگر چند روزہ حکومت سے تو یہ پتہ چلتا ہے جیسے آپ کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں۔ بدقسمتی سے آپ کی کابینہ کے وزرائے کرام ایک ہی مسئلے اور ایشوز پر مختلف بیانات دیتے ہیں اور کسی کو پتہ نہیں کہ کس طرح ریاستی معاملات کو معاملہ فہمی اور تدبر سے حل کیا جائے۔ بہرحال پاکستانیوں اور خاص کر جوانوں نے آپ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں اور وہ پراُمید ہیں کہ آپ اس ملک اور دھرتی کیلئے بہت کچھ کریں گے۔ غریب عوام کی دعائیں آپ کیلئے ہیں۔ کوشش کرنی چاہئے کہ متنازعہ بیانات سے گزیز کیا جائے اور ملکی معاملات کو معاملہ فہمی کیساتھ چلایا جائے کیونکہ پاکستان کے اردگرد حالات کشیدہ ہیں اور دشمن اس تاک میں ہے کہ پاکستان کو کمزور کیا جائے۔

متعلقہ خبریں