عوام کا وسیع تر مفاد ہی اولین ترجیح

11 ستمبر 2018

حکومتیں جب کوئی عوامی فلاح اور سہولیات کی فراہمی کا کام کرتی ہیں تو ان کی خواہش اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس کام سے عوام کو فائدہ پہنچے اور ساتھ ہی حکومت کو بھی آمدنی وغیرہ کا کچھ حصہ ملے کیونکہ حکومت کو بھی چلنے چلانے کیلئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ حکومت اور عوام کا رشتہ بھی بڑا عجیب ہے ایک ہاتھ سے حکومت عوام پر تنخواہوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں ضروری اشیاء کی فراہمی پر اربوں کھربوں خرچ کرتی ہے اور دوسرے ہاتھ سے ٹیکسوں اور مختلف اداروں، کارخانوں، صنعتوں اور شعبوں کی آمدنی کے ذریعے وصول کرتی ہے، یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ جن ملکوں میں اس لین دین اور کام کاروبار کا سلسلہ تیز اور سرگرمی اور دیانتداری سے چلتا ہے وہاں ترقی تیزی سے ہوتی ہے اور جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں ہمارا جیسا حال ہوتا ہے۔ دنیا میں جن ملکوں نے تیزی کیساتھ ترقی کی ہے اُن میں جرمنی، جاپان، ملائیشیا، کوریا اور چین شامل ہیں۔ ان ملکوں میں پالیسی کے بنیادی نکات عوام کی فلاح وبہبود رہے ہیں۔ ان کو جب کبھی وقت اور ضرورت کے مطابق کہیں بھی کوئی نئی اور مفید چیز نظر آئی ہے انہوں نے اپنانے میں دیر نہیں کی ہے۔ ان کے ہاں دیگر ملکوں اور قوموں سے اچھی چیز لینے اور اختیار کرنے میں یہ اصول طے شدہ ہے کہ جو چیزصاف ہو وہ لے لو جو مکدر (گدلا) ہو وہ چھوڑ دو، لیکن ہمارے ہاں بعض اوقات بعض اچھی چیزوں کی دستیابی کے باوجود نقش کہن پر اڑے رہنے کو ترجیح دی جاتی ہے اور بعض اوقات اُسے جوں کے توں قائم رکھنے کیلئے حکومت وقت پر مختلف قسم کے دباؤ ڈالنے کے حربے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔لاہور میں ایک زمانے میں شہر کے اندر آمدورفت کیلئے مشہور سواری تانگے ہوتے تھے۔ سنا ہے کہ جب رکشہ آیا تو تانگے بانوں نے باقاعدہ جلوس نکالے کہ پھر ہم روزی روٹی کس طرح کمائیں گے۔ تانگے کیساتھ صرف تانگے بان کی روزی نہیں بلکہ اس پیشے کیساتھ دیگر کئی ماہرین کسب کی روزی بھی وابستہ ہے لیکن پھر دنیا نے دیکھا انہی تانگے بانوں نے گھوڑے بیچ کر رکشے لے لئے۔ اسی طرح اور بہت ساری چیزیں ایسی تھیں جن سے لوگوں کا روزگار وابستہ تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ پرانی چیزوں کی جگہ نئی نے لے لی۔پاکستان میں ایک اور بڑی قباحت یہ ہے کہ حکومت ملکی ضروریات کی تکمیل کیلئے منصوبے بنا کر عملی صورت میں پیش کرتی ہیں۔ عوام ان پراجیکٹس کو چلاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں حکومتیں یعنی سیاسی جماعتیں ’’اپنے لوگوں‘‘ کو نوازنے کیلئے میرٹ اور ضرورت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان اداروں اور صنعتوں میں گھسیڑ لیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کراچی سٹیل مل کو بھٹو نے کس محنت سے روس کیساتھ تعلقات بنا کر حاصل کیا تھا لیکن جیالوں اور کچھ دیگر حکومتوں کے ہاتھوں اور عناصر وعوامل کے سبب گزشتہ دو عشروں سے کروڑوں اربوں کے خسارے میں جارہا ہے۔ اگر یہی مل نجی تحویل میں کر دی جائے تو پہلے ہی سال نفع کمانا شروع کردے گی۔ یہی حال کبھی عظیم پی آئی اے کا تھا۔ دونوں بڑے قومی اداروں کو میرٹ کیخلاف اور ضرورت سے زیادہ بھرتیوں نے کنگال کر کے رکھ دیا ہے۔ پچھلی اور موجودہ حکومت ان دونوں اداروں کی پرائیویٹائزیشن کا ارادہ اور منصوبہ رکھتی تھیں لیکن حزب اختلاف اور بعض دیگر عناصر کے احتجاج کی دھمکیوں اور پارلیمنٹ میں مخالفت کے سبب دونوں ادارے خسارے میں جاتے ہوئے ملکی خزانے کیلئے سفید ہاتھی ثابت ہوئے ہیں۔ پچھلے دنوں یوٹیلٹی سٹورز کو ختم کرنے کی اُڑتی سی خبر شائع ہوئی تو یار لوگوں نے فوراً مخالفت شروع کر دی حالانکہ یہ ادارہ بھی کرپشن اور ایمپلائمنٹ اور چوری چکاری کے سبب خسارے کا شکار ہے۔ یہاں تک کہ حکومت غریب عوام کیلئے رمضان کے مبارک مہینے میں جو چند روپوں کا پیکج دیتی ہے وہ بھی پوری طرح عوام کو مل نہیں رہی۔ رمضان کو گزرے تین مہینے ہوگئے لیکن گزشتہ دنوں گھر میں آئل کا گتے والا چار کلو کا پیکٹ دیکھا تو اُس پر صاف لکھا تھا ’’رمضان پر بچت آفر‘‘ جو یوٹیلٹی والوں نے دکاندار کو بیچا ہوگا۔ اس کے علاوہ اور کئی ایک اشیاء جو تین چار روپے یہاں سستی ہوتی ہیں، پرائیویٹ دکانداروں کے ہاں پہنچ جاتی ہیں اور یوٹیلٹی سٹورز پر دستیاب نہیں ہوتیں۔ پھر ان سٹوروں کا کتنے فیصد عوام کو فائدہ ہوگا؟ اور دیہاتوں کی ستر فیصد آبادی کیلئے کتنے یوٹیلٹی سٹورز موجود ہیں اور کتنے فیصد عوام ان سٹوروں سے سودا سلف خریدتے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز بھی دیگر کئی خسارے میں چلنے والے حکومتی اداروں بالخصوص جی ٹی ایس کی طرح کرپشن اور نافرض شناسی کے سبب ایک نہ ایک دن ختم ہونے والے ہیں لیکن قبل اس کے کہ حکومت کو بہت خسارہ ہو، اس کا کوئی مناسب حل تلاش کیا جائے اور پھر اگر اس کا چلانا واقعی ناگزیر ہے اور عوام کو اس کی بہت ضرورت ہے تو اس کو پاک فوج کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اسے سی ایس ڈی (CSD)کی طرح چلائے اور اس کا منافع حکومت اور عوام دونوں کو ملے۔ دکانداریاں کرنا حکومتوں کا کام نہیں ہے۔ میرے خیال میں بھارت اور دیگر پڑوسی ملکوں میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ عوام کے وسیع تر مفادکے پیش نظر سیاست سے ہٹ کر اور چند مخصوص گروہوں کے احتجاج کو نظرانداز کرکے اُن تمام اداروں کو پرائیویٹائز کیا جائے یا ختم کیا جائے جو ملکی خزانے پر بوجھ ہیں۔

مزیدخبریں