مشرقیات

11 ستمبر 2018

میں شیخ علائی نامی ایک شخص گزرا ہے۔ علوم وفنون میں اسے کامل دسترس تھی۔ باپ اس کا حسن نامی بنگالہ کے شیوخ میں سے تھا۔ باپ کے بعد خود مسند ارشاد پر بیٹھا۔ جائے سکونت بیانہ تھی۔

شیخ علائی دن میں دو مرتبہ قرآن کریم کا درس دیتے۔ وعظ میں وہ تاثیر تھی کہ لوگ دم بخود ہو کر بیٹھے رہتے تھے اور خواہ کوئی کیسا ہی گنہگار کیوں نہ ہوتا ایک دفعہ تو گناہوں سے توبہ کر لیتا تھا۔ یہ زمانہ سلیم شاہ سوری (مئی 1545ء کوتخت نشین ہوا) کا تھا، اس نے شیخ علائی کی شہرت سنی اور بیانہ سے بلوا بھیجا۔ حسب الحکم شیخ علائی آگرہ آئے۔ اہل دربار نے مراسم وآداب شاہانہ سے مطلع کیا لیکن آپ نے رسوم وآداب شہنشاہی سب کو بالائے طاق رکھا اور سنت نبویؐ کے مطابق السلام علیکم کے سوا اور کچھ نہ کہا۔

بادشاہ کو برا معلوم ہوا، اور بڑی کراہت سے جواب دیا۔ امرائے دربار کو بھی یہ حرکت ناگوار گزری بلکہ ایک درباری نے تو شیخ علائی کی شکستہ حالی اور پھٹے پرانے کپڑوں اور ٹوٹی ہوئی جوتیوں پر پھبتی جمائی لیکن شیخ پر نہ اہل دربار کی چہ مگوئیوں اور نہ سلیم شاہ کے غصہ کا کچھ اثر ہوا۔ انہوں نے قرآن کریم کی چند آیتوں سے تقریر شروع کر کے دنیا کی مذمت، احوال آخرت اور دین فروش بے عمل اور جاہ پسند علما کی قوم فروشیوں کا ذکر شروع کر دیا۔ وعظ میں اس قسم کا جادو تھا کہ بادشاہ اور مقربین بارگاہ سب پر وجدانی کیفیت طاری ہوگئی۔بادشاہ نے محل سرا میں جاکر شیخ اور اس کے ہمراہیوں کاکھانا بھجوایا لیکن ان میں سے کسی نے بھی نہ کھایا۔ سلیم شاہ نے واپس آکر سبب پوچھا تو شیخ نے جواب دیا: تمہارا خزانہ بیت المال ہے جو سب مسلمانوں کا حق ہے اور چونکہ تمہارا تصرف اس میں بے جا ہے اور بغیر مسلمانوں کی رضامندی کے بیت المال کا روپیہ خرچ کر رہے ہو، اس لئے تمہاری دعوت کا قبول کرنا ہم پر جائز نہیں ہے۔ سلیم شاہ کو غصہ آیا مگر ضبط کرگیا، اس لئے کہ بات سچی تھی۔ آپ نے شاہی آداب پر سنت کو ترجیح دی۔ (تاریخ فرشہ، تاریخ ہند ذکاء)

سلطان بہلول ایک مرتبہ حضرت اسماء الحق کی خدمت میں آگئے۔ حضرت کا قاعدہ تھا کہ جب کبھی بادشاہ سے ملتا، وہ کسی نہ کسی پیرانہ میں پندونصیحت کا فرض پورا کر دیا کرتے تھے۔ اس مرتبہ بھی آپ نے فرمایا: تین آدمی اللہ تعالیٰ کے انعامات سے ہمیشہ محروم رہیں گے۔ اول وہ بوڑھا جو سفید بال ہے اور سیاہ دل جانتا ہے کہ میں گور میں پیر لٹکائے بیٹھا ہوں لیکن گناہوں سے باز نہیں آتا۔ دوسرے وہ جوان نادان جو توبہ واستغفار کا وقت صرف پیری اور بڑھاپے ہی کو سمجھ رہا ہے اور نہیں جانتا کہ شاید کل ہی اجل اسے اپنا نوالہ بنالے۔ تیسرے وہ بادشاہ جو زور وقوت کے بھروسہ پر بیگناہ رعایا کو پامال کرتا اور عدل وانصاف سے غافل ہے اور دنیائے فانی کیلئے عاقبت کی فکر سے بے پروا ہے۔ سیرالعارفین میں لکھا ہے کہ بادشاہ کے قلب پر اس گفتگو کا بڑا اثر ہوا اور بہت دیر تک محویت وبیخودی کے عالم میں رہا۔ (تاریخی واقعات)

مزیدخبریں