Daily Mashriq

بلاول کا مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کے بجائے اخلاقی حمایت کا فیصلہ

بلاول کا مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کے بجائے اخلاقی حمایت کا فیصلہ

جامشورو: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور ایشوز کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں تاہم دھرنے سے متعلق پالیسی پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک ہے۔

جامشورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے کشمیریوں کی آواز بننے کی کوشش نہیں کی، وزیراعظم جو بھی اعلان کرتے ہیں اس پر یوٹرن لیتے ہیں، مسئلہ کشمیر پر حکومت کی نااہلی برداشت نہیں کرسکتے اور نہ اس معاملے پر کوئی بھی پاکستانی کسی قسم کی کوتاہی برداشت کرے گا۔

 بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو جیل میں بدل دیا، یہ تاریخی حملہ ہے، ذوالفقار بھٹو شہید نے کہا تھا کہ نیند میں بھی کشمیر پر غلطی نہیں کرسکتا لیکن سلیکٹڈ نمائندےغلطی پرغلطی کررہے ہیں، ہماری حکومت ہوتی تو وزیر اعظم پورے ملک کا وزیراعظم ہوتا، ہماراوزیراعظم کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچاتا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت غیرجمہوری رویہ اپنارہی ہے،پیپلز پارٹی نے ہر دور میں آمروں کا مقابلہ کیا، سلیکٹڈ حکومت میں یہ اہلیت نہیں کہ وہ ملکی معیشت سنبھال سکے جب کہ کلین کراچی مہم میں کچرا ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا گیا، ہمارے صوبے اور عوام کا معاشی قتل کیا جارہا ہے، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ وفاق این ایف سی کی مد میں صوبے کا حصہ دے، پہلے دن کہا تھا جیل میں بند کرنا ہے تو کردیں پیپلز پارٹی ہرظلم برداشت کرنے کے لئے تیار ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور ایشوز کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں تاہم دھرنے سے متعلق پالیسی پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک ہے، پیپلزپارٹی پہلے بھی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دھرنا سیاست میں شریک نہیں ہوئی۔  جے یو آئی (ف) کے امیر فضل الرحمان کے دھرنے کے ساتھ اخلاقی حمایت رہے گی۔ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں ہوں گے اور میں پورے پاکستان کا دورہ کروں گا، دونوں کا بیانیہ ایک ہی ہوگا کہ کٹھ پتلی حکومت کو برداشت نہیں کرسکتے۔

متعلقہ خبریں