Daily Mashriq


کلبھوشن کو سزا

کلبھوشن کو سزا

بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے اور اعترافی بیانات دینے والے جاسوس کو سزائے موت سنایا جانا پاکستانی قوم کے لئے قابل اطمینان اور جذبات کے تسکین کا موقع ضرور ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد ہونے کے مراحل عجلت سے طے کئے جاتے ہیں یا پھر اس ضمن میں بھی روایتی طرز عمل اپنایا جاتا ہے۔ قبل ازیں بھارتی جاسوسوں کو دی جانے والی موت کی سزائوں پر عملدرآمد کی شرح کچھ حوصلہ افزاء نہیں مستزد اس طرح کے معاملات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور کشیدگی جیسے معاملات بھی آڑے آتے ہیں۔ بھارت کا اپنے جاسوس کو سزائے موت سنائے جانے پر آگ بگولا ہونا فطری امر ہے مگر اس کے رد عمل سے ملکی مفاد اور ملکی سا لمیت سے کھیلتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے جاسوس کی سزا پر فرق نہیں پڑنا چاہئے۔ جنیوا کنونشن پر جنگی قوانین لاگو ہوتے ہیں جس کے تحت قومیں جنگ کرتی ہیں یا جنگ کے حصول میں جب بھی کوئی جاسوس اپنا یونیفارم چھوڑ کر سول کپڑوں کے اندر ایک نئے روپ میں آپ کے خلاف دشمنی کرتا ہوا پکڑا جائے تواس کا پہلے فیلڈ کورٹ مارشل کیا جاتا ہے اور اس کے بعد سزا دی جاتی ہے۔ بنا بریں کلبھوشن کو جو سزا سنائی گئی ہے وہ انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق اور قانونی ہے جس پر کسی شک و شبے اور گنجائش نکالنے کی ضرورت نہیں۔پاکستان کی جاسوسی اور کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا فیصلہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے لیکن گرفتاری کے بعد سے پاکستان نے اس معاملے کو دنیا کے سامنے اٹھانے میں اس طرح سرگرمی کامظاہرہ نہیں کیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ حزب اختلاف کے مطالبے کے باوجود اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے قومی اسمبلی میں اس حوالے سے اظہار خیال سے اجتناب کا رویہ اپنایا۔ بہر حال کلبھوشن یادیو جیسے جاسوس کی گرفتاری اور اس کا خود اپنے جرائم کا اعتراف کرنا ایک بہت بڑی بات تھی، لیکن پاکستان نے ان ثبوتوں کو اقوامِ متحدہ میں نہیں اٹھایا جو اس کیس کی تفتیش سے حاصل ہوئے۔ کلبھوشن کی گرفتاری ایک بہت بڑی کامیابی تھی اور اب جبکہ سزائے موت کا فیصلہ ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود یہ قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ شاید اس فیصلے پر عمل نہ ہوسکے ۔بعض مبصرین کے مطابق اس فیصلے پر عمل کرنے میں کچھ پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے لیکن ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔واضح رہے کہ 3 مارچ 2016 کو حساس اداروں نے بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے بھارتی جاسوس اور نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔ را ایجنٹ کی گرفتاری کے چند روز بعد اس کی ویڈیو بھی سامنے لائی گئی تھی، جس میں کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی را میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔بھارت کی جانب سے اس ضمن میں احتجاج اور یہ کہنا کہ اگر اس سزا پر عملدرآمد ہوا تو اسے منصوبہ بندی سے کیا گیا قتل تصور کیا جائے گاکوئی اچنبھے کی بات نہیں۔بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے چند دن بعد جب اس کا ایک اعترافی ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں کلبھوشن نے اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ وہ انڈین بحریہ کاحاضر سروس افسرہے اور وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہے تھے۔اس وقت انڈیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا بھارت کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔تاہم بعد میں انڈین حکومت کی جانب سے تسلیم کیا گیا تھا کہ کلبھوشن انڈین شہری ہے اور انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ وہ ماضی میں انڈین بحریہ کے لیے کام کرتا رہا ہے۔بھارت اگر اس وقت اس طرح کی دو عملی کا مظاہرہ نہ کرتا اور کلبھوشن سے یکسر لا تعلقی اختیار نہ کرتا اور اپنے ''بندر کے ہمارے قبضے میں ہونے'' کا اعتراف اگر ممکن نہ تھا تو کم از کم اس پر خاموشی بھی اختیار کرلیتا یا پاکستانی دعوے کو ہی مسترد کردیتا تو بھی آج ان کے پاس موقع تھا مگر اس نے خود ہی پہلے انکار بعد میں اقرار کرکے معامملے کو مشکوک بنا دیا تھا۔ گو کہ پاکستانی حکومت نے اس معاملے کو عالمی سطح پر مناسب طریقے سے نہ اٹھانے کی غلطی کی تھی ۔ اگر بھارت کو کلبھوشن کا اپنے بحریہ کے افسر ہونے کا اعتراف ہی کرنا تھا تو اس کو چاہئے تھا کہ وہ اس بارے میں عالمی سطح پر کوئی مناسب حکمت عملی ا ختیار کرکے پاکستان کو اس پر مقدمہ چلا کر سزائے موت سنائے جانے سے روک لیتا ۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق دو ممالک کے درمیان اس طرح کے معاملات معمول کی بات ہے جس کا مقصد بالآخر اپنے اپنے مقاصد کا ممکنہ حصول ہوتا ہے۔ پاکستانی قوم کا اس طرح کے معاملات میں جذباتی ہونا کوئی راز کی بات نہیں۔ کلبھوشن کے معاملے پر سیاسی قیادت کو پہلے ہی سے عوامی دبائو کا سامنا ہے۔ اس لئے حکومت کے پاس کسی مصلحت کا شکار ہونے کے زیادہ مواقع نہیں ۔اس معاملے کو خلاف واقعہ جس طرح عوام کے سامنے پیش کیاگیا وہ روایتی جاسوسوں سے سلوک اور اخفاء برتنے کے برعکس تھا۔ بنا بریں جو تجزیہ نگار معاملات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔ سیاسی قیادت کے لئے اس قسم کی کسی مصلحت کے اثرات سے نمٹنا شاید ممکن نہ ہو۔

متعلقہ خبریں