والدین ہوشیار

والدین ہوشیار

معاشرے میں ویڈیو کیمروں اور ویڈیو بنانے کی سہولت رکھنے والے سیل فونز کے غلط استعمال کے جو نت نئے مظاہرسامنے آرہے ہیں اس کے پیش نظر یہ تجویز مضحکہ خیز نہیں ہونی چاہیئے کہ حکومت اس امر پر غور کرے کہ اسلحہ رکھنے کے اجازت نامہ کی طرح ان چیزوں کی خریداری اور استعمال کیلئے بھی اجازت نامہ کو لازمی قرار دیا جائے ان چیزوں کا غلط اور بلیک میلنگ کیلئے جس طرح کا استعمال سامنے آرہا ہے اس کی روشنی میں صاف طور پر یہ نظر آتا ہے کہ یہ چیزیں آتشیں اسلحہ سے کہیں زیادہ موذی اور خطر ناک ہے۔ اسلحہ سے کسی کو مارا جا سکتا ہے کسی کو زخمی کیا جا سکتا ہے مگر ویڈیو کیمروں کے ذریعے جیتے جی مرنے کا سامان ہونے لگا ہے ایبٹ آباد کے ایک سکول ٹیچر کا معصوم بچوں کی مخرب اخلاق ویڈیوبنا کر ان کو بلیک میل کرنے کا واقعہ شرمناک اور معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہی نہیں ہم سب کیلئے ثابت عبر ت اور قابل توجہ ہے ۔ اس طرح کے واقعات کے بعد کسی صاحب اولاد کسی کا بھی شخص پر اعتماد نہ کرنے کا رویہ وہم کے زمرے میں نہیں بلکہ مثبت اور احتیاط کے زمرے میں شمار کرنا غلط نہ ہوگا۔ اگر سکولوں میں اساتذہ کے ہاتھوں بھی بچے محفوظ نہ ہوں تو آخر کوئی کس پر اعتبار کرے ۔ ایبٹ آباد نجی سکول کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں اس طرح کے واقعات کا معمول ہونے کے درجنوں مقامات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے خاص طور پر طالبات کو ایک منظم طریقہ سے بلیک میل کرنے کے واقعات نرسنگ ہا سٹلز سمیت دیگر مقامات پر ایسا کرنے کی کہانیاں زبان زد خاص وعام ہیں۔ اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ اس قسم کے واقعات کے متاثرین اور ان کے اعزہ معاشرے میں شرمساری کے باعث ایسے واقعات کو اخفاء میں رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جہاں کہیں قانون کی مدد کے حصول کی سعی ہوتی ہے اس سعی کا بلائے جان بن جانا اور ذمہ داروںکا صاف نکلنا کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ سائبر کرائمز بارے قوانین غیر مئو ثر اور نہ ہونے کے برابر ہیں پھر ان کی تفتیش کر کے ثابت کرنے کے لئے جس مہارت کی ضرورت ہوتی ہے وہ سرے سے ہے ہی نہیں اسی طرح خواتین کو ان کی ڈیوٹی کے مقامات اور دیگر جگہوں میں ہراساں کرنے کے معاملات ہوں اس پر حکومت قانون سازی کے باوجود قابو پانا تو درکنار اس میں کمی لانے ہی میں کامیاب نظر نہیں آتی ۔ ان سارے عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے والدین ہی کو مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی قدم قدم پر نگرانی اور ان کے حالات سے آگاہی کے فریضے پر مزید توجہ دیں۔ سکولوں کی انتظامیہ پر پابندی عائد کی جائے کہ وہ بچوں کو اس طرح کے ٹورز پر نہ بھیجیں جہاں ان کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانے سے قاصر ہوں ۔ ایبٹ آباد کے واقعہ کی تحقیقات کر کے سکول کی انتظامیہ اور اس مذموم واقعے کے ذمہ دار شخص( جسے استاد اور معلم لکھنا اس مقد س پیشے کی تو ہین ہے )کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔
عجیب و غریب معاملہ
ڈاکٹروں کی جانب سے اے سی آرز جمع کرانے میں لیت و لعل کے باعث اے سی آر جمع نہ کرانے والے ڈاکٹر وں کو سپر سیڈ کرنے کا محکمہ صحت کا فیصلہ بامر مجبوری جائز ہے جن سات سوڈاکٹروں کو نامزد کیا گیا ہے ان کو ایک مختصر مدت کا موقع دیا جائے جس کے بعد اے سی آر جمع کرانے والے ڈاکٹروں کو چھوڑ کر باقی ڈاکٹروں کو ترقی دی جائے۔ ہمارے تئیں محکمہ صحت کی جانب سے محض ناموں پر دائرہ لگا دینا کافی نہیں بلکہ اس مقصد کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ڈاکٹروں کواخبار ات کے ذریعے باقاعدہ نوٹس کر کے قانونی ضرورت پوری کی جائے اس ضمن میں اگر ضروری ہوا تو باقاعدہ قانون سازی کی جائے تاکہ کسی بھی محکمے میں جان بوجھ کر ارتکاب غفلت کرنے والے عملے کے خلاف کارروائی کی جا سکے ۔ جنرل کیڈر کے جوڈ اکٹر ز ترقی پر کلینک چلانے کو ترجیح دیتے ہیں وہ ان کی صوابدید ہے لیکن محکمہ صحت کے پاس بھی بہر حال یہ صوابدیدموجود ہے کہ وہ ان ڈاکٹروں کے بڑے پیمانے پر تبادلے کرے۔ ایسا کرنے میں ناکامی یا اس ضمن میں کوتاہی سے خود محکمہ صحت کی بھی ملی بھگت عیاں ہے ۔ جب تک اس طرح کی صورتحال کا توڑ نہیں نکالا جائے گا تب تک حقدار اور ترقی کے منتظر ڈاکٹروں ہی کو اپنی ترقی کیلئے انتظار اور محرومی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اس سے عوام کا بھی متاثرہونا اور علاج معالجے کی سہولتوں سے محرومی بھی فطری امر ہوگا ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اس حوالے سے جلد سے جلد راست اقدامات کئے جائیں گے اور ہر ممکن قانونی اقدامات اختیارکرنے میں مزید تامل کا مظاہر ہ نہیں ہوگا۔

اداریہ