(ر) جنرل راحیل شریف کی نئی ذمہ داریاں اور میڈیا

(ر) جنرل راحیل شریف کی نئی ذمہ داریاں اور میڈیا

ریڈیو پاکستان نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی پارٹی مسلم لیگ ن کے لیڈروں کو ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کے بارے میں متنازع بیانات جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے ایک ٹویٹ کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ساری قوم ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو ان کی شاندار خدمات پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ ہر اہم شخصیت کی طرح ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کے بارے میں مختلف النوع بیانات تب سے جاری کیے جارہے ہیں جب ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے میڈیا میں ان کے بروقت ریٹائر ہو جانے یا انہیں ملازمت میں توسیع دیے جانے کے بارے میں بحث شروع ہو گئی۔ اس بحث کے سیاسی پہلو بھی تھے جن سے قارئین واقف ہیں۔ جنرل صاحب نے یہ بحث ایک مختصر بیان کے ذریعے ختم کر دی تھی کہ وہ وقت آنے پر ریٹائر ہو جائیں گے اور وقت آنے پر وہ اپنی بات پر پورے اترے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد یہ خبر عام ہوئی کہ ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف سعودی عرب کی قیادت میں 41اسلامی ملکوں کے اتحاد کی فوج کے سربراہ ہونے جا رہے ہیں۔ جنرل صاحب تشہیر پسند آدمی نہیں ہیں انہوں نے اس پرخاموشی اختیار کیے رکھی لیکن حکومت کی طرف سے بھی اس خبر کی بروقت تائید یا تردید نہ آئی جس کی وجہ سے یہ معاملہ عام بحث اور ٹی وی ٹاک شوز کا محبوب موضوع بن گیا۔ پہلے پہل ایسے سوالات ابھرے کہ یہ مشترکہ فوج ہے کہاں ؟ اس میں کس کس ملک کے کتنے فوجی ہیں۔ اس کی فنڈنگ کون کرے گا؟ جنرل صاحب کس سے ہدایات لیں گے اور کس کو جوابدہ ہوں گے؟ اسلامی ممالک کی یہ فوج اگر ان ملکوں کی دیگر افواج سے الگ ہوگی تو اس کے مقاصد کیا ہوں گے؟ چند دن کے بعد سوالات کی دوسری کھیپ سامنے آئی جس میں اسلامی ملکوں کے مجوزہ فوجی اتحاد کو زیرِ بحث لایا گیا۔ ایسے سوال کیے گئے کہ اگر یہ اسلامی ممالک کا اتحاد ہے تو اس میں صرف 39یا 41ممالک کیوں شامل ہیں دیگر اسلامی ممالک کیوں شامل نہیں ہیں۔ اس اتحاد میں عراق ' ایران اور شام شامل نہیں ہیں۔ جہاں شیعہ اکثریت ہے یا جہاں حکومتیں شیعہ ہیں اس لیے یہ سنی ممالک کا شیعہ ممالک کے خلاف اتحاد ہے۔ اس ضمن میں پارلیمنٹ کے اس فیصلے کا بھی ذکر آیا جو کچھ عرصہ پہلے یمن کے تنازع کو فرو کرنے کے لیے پاکستانی فوج بھیجنے سے متعلق تھا۔ یمن کی خانہ جنگی میں ایک فریق کی سرپرستی سعودی عرب کر رہا تھا اور دوسرے کی ایران۔ اس تنازعہ کو دور کرنے کے لیے پاکستانی فوج بھیجنے کی سعودی درخواست پارلیمنٹ نے اس بنا پر منظور نہیں کی تھی کہ پاکستان کسی برادر اسلامی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دے سکتا۔ اس فیصلے کی بنا پر حکومت پاکستان نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے معذرت کر لی تھی لیکن سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں نے بھی اس پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ انہی دنوں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے عرب ممالک کا دورہ کیا تھا اور متعدد مہنگے معاہدوں پر دستخط بھی کیے تھے۔ میڈیا پر ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کے 41ملکوں کی فوج کی سربراہی سنبھالنے کے بارے میں جو بحث جاری ہے اس میں اب بھی پارلیمنٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔ اور یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ جنرل صاحب قواعد کے مطابق ریٹائر ہونے کے دو سال بعد تک کوئی نئی ملازمت اختیار نہیں کر سکتے ' تاآنکہ حکومت پاکستان اس کی خصوصی اجازت دے دے۔ اس کا جواب جلد ہی آ گیا اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتا دیا کہ حکومت کی طرف سے ایسی اجازت دی جا رہی ہے۔ وزیر دفاع نے بھی اس وضاحت کے لیے میڈیا کے ٹاک شو ہی کا انتخاب کیا حالانکہ ان کے منصب کا تقاضا تھا کہ وہ محض نوٹی فکیشن جاری کرتے۔ ان میں سے کچھ سوالوں کے جواب بھی آئے۔ وہ بھی میڈیا پر بعض ریٹائرڈ فوجی مبصرین نے بتایا کہ جنرل صاحب کے ا یرانی حکام سے بھی بہت اچھے تعلقات ہیں اور اسلامی ملکوں کے اتحاد کی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے وہ ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے کی کوشش کریں گے ۔ اس میں ان کی ذاتی صلاحیت کا تو ذکر کیا گیا لیکن یہ بات سامنے نہیں آئی کہ وہ اس متوقع مصالحتی کارروائی میں کس کی نمائندگی کریں گے۔ خود اپنے وژن کے مطابق کام کریں گے یا پاکستان ' سعودی عرب اور ایران کی حکومتوں کے مابین سرکاری سطح پر سفارت کاری کی خدمات انجام دیں گے۔ الغرض جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی نئی ذمہ داریوں کے بارے میں بحث طویل عرصے سے میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔ اس سے بہت کچھ متاثر بھی ہو رہا ہے۔ مثلاً پانامہ مقدمے کے فیصلے کے انتظار کی کیفیت' انتخابی اصلاحات پر کم کوشی اور قانون سازی کی رفتار' ایک قانون ایسا بھی بنایا جا رہا ہے جس کے تحت بیرون ملک یا ایسی دولت ظاہر کرنے پر جس کا ٹیکس ادا نہ کیا گیا ہو نہ صرف اہل تجارت کو عام معافی دینا مقصود ہے بلکہ عوامی عہدوں پر فائز لوگ بھی اس رعایت سے فائدہ اُٹھا سکیں گے۔ اس صورت حال میں سندھ کے گورنر جو اس سے پہلے حکمران مسلم لیگ ن کے وزیر تھے یہ تبصرہ کر دیا کہ میڈیا نے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کوان کے قد سے بڑا بنایا ہے۔ اور یہ کہ وہ ایک عام جرنیل ہیں۔ اس سے ان کا بحث کا محور ہونا ختم نہیں ہوا بلکہ ان کا قد اور بھی بڑھ سکتا ہے۔یہ بحث ختم ہو سکتی ہے اگر حکومت پاکستان اور سعودی عرب کی حکومت کے درمیان ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کی نئی ذمہ داریوں کے بارے میں طے پانے والے انتظام کو عام کر دیا جائے۔ لیکن نہ سعودی عرب کی حکومت سے کوئی باقاعدہ بیان آ رہا ہے ' نہ حکومت پاکستان کی طرف سے کوئی ایسی وضاحت کی جا رہی ہے جس میں میڈیا پر اٹھنے والے سوالوں کے جواب عوام کو مل جائیں۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ اپنی پارٹی کے ارکان کو خاموشی کی ہدایت جاری کرنے کی بجائے اس معاملے میں سرکاری پوزیشن واضح کردیں۔

اداریہ