ہر سو گُھپ گھور اندھیرا ہے

ہر سو گُھپ گھور اندھیرا ہے

رواداری' محبت' ایثار اور برداشت کی جگہ نفرت و تعصب' عدم برداشت' فتوئوں کی چاند ماری اور پدرم سلطان بود کے زعم نے کب جگہ بنائی اور کیسے علم و عمل کی جگہ جہل و کج بحثی نے لی اس پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔ پچھلے 70برسوں کی تاریخ اٹھالیجئے' صفحات الٹئے آپ پر پورا سچ دو چندہوتا چلا جائے گا۔ یہاں ایک سوال البتہ اہم ہے وہ یہ کہ کیا واقعتا ہمارے یہاں تاریخ ایک زندہ مضمون کے طور پر موجود ہے؟ سادہ سا جواب یہ ہوگا جی نہیں۔ زندگی کی حرارت سے محروم سماج میں بوزنوں کی اچھل کود زندگی نہیں بلکہ موت کارقص ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ فقط اتنی ہے کہ ہم دوسروں کی آنکھ میںبال تلاش کرلیتے ہیں مگر اپنی آنکھ میں موجود شہتیر نہیں۔ فقیر راحموں نے ایک دن کہا تھا ''آنکھوں سے بڑا استاد اور رہنما کوئی نہیں پر افسوس کے ہم اس سے فقط اس ٹٹولنے کاکام لیتے ہیں یا پھر چسکے کا''۔ دو دن ادھر جنم شہر ملتان کے دوستوں کی ایک نشست میں عرض گزار ہوا ''اگر ہم اپنے اپنے سینوں میں سجائے بتوں کی پوجا کو ترک نہیں کرسکتے تو پھر کوئی حق نہیں رکھتے کہ دوسروں پر شخصیت پرستی کا الزام دھریں یا ان کا تمسخر اڑائیں''۔ فی الوقت حالات یہ ہیں کہ اس ملک میں کلبھوشن یادو کی سزائے موت کے فیصلے کو لے کر جس اعلیٰ دانش کے مظاہرے ہو رہے ہیں اس پر خاموشی بھلی۔ اصل میں ہم کانٹے بو کر گلاب اگانے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ میرے ایک محترم دوست نے جن کا تعلق جے یو آئی ف سے ہے ایک میسج میں فرمایا '' جے یو آئی (ف) کا ایمان پرور اجتماع لبرلز کی نیندیں اڑا گیا''۔کبھی عجیب نہیں لگتا کہ لوگ لبرل ازم اور سیکولر ازم بارے جانتے کچھ نہیں بس انہیں ان کے دنیاوی خدائوں نے جو بتا دیا اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ ایک کثیر القومی و کثیر المسلکی ملک چل ہی لبرل اور سیکولر انداز میں سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی مذہبی جماعتوں کے ہندوستانی ایڈیشن سیکولر ازم کے حامی ہیں مگر پاکستان میں اسے کفر قرار دیتے ہیں۔ وجہ پوچھیں تو ایمان خطرے میں پڑتا ہے۔ نبی رحمتۖ انسانیت کے لئے خیر و بھلائی کا پیغام لے کر تشریف لائے تھے۔ ہم ہیں کہ ایک دوسرے کی جان ومال اور ایمان کے دشمن ہیں۔ کم از کم میں سارا قصور مولویوں کا نہیں سمجھتا اس صورتحال کے ذمہ دار اجتماعی طور پر ہم سب ہیں اور سب سے زیادہ ریاست۔ ریاست اس لئے کہ تعلیم' صحت' روز گار اور سماجی و معاشی مساوات کی فراہمی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مگر پچھلے 70 برسوں کے دوران تعلیم کبھی بھی کسی حکومت کی اولین ترجیح قرار نہیں پائی۔ وجہ۔ وہ یہ ہے کہ تعلیم علم کادروازہ کھولتی ہے۔ علم آگہی کا اور آگہی سوال کرنے کا۔ سارے فساد کی جڑ سوال بنتے ہیں۔ انگنت صدیوں سے ہم سوالوں سے ہی تو بھاگتے پھر رہے ہیں۔ مثلاً آج ہم یہ سوال نہیں کرسکتے کہ پاکستان نے 39ملکی اسلامی عسکری اتحاد میں شمولیت کے مسلط شدہ فیصلے کو قبول کیوں کیا۔ یا یہ کہ راحیل شریف کی نئی ملازمت پر منتخب پارلیمان میں بات کیوں نہیں ہوسکتی؟ لیکن یہاں تو سی پیک جیسے منصوبے پر پارلیمان میں بات نہیں ہوسکتی 45 سے 47 ارب ڈالر کے قرضوں کے اس منصوبے کی ادائیگی ہمیں 90ارب ڈالر کی واپسی میں کرنا ہے۔ ہائے کیا خوب کہا تھا کبھی چچا غالب مرحوم نے

رض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے یہ
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
بس ہمیں بھی فاقہ مستی کے رنگ لانے کاانتظار ہے چاہے 45 کے بدلے 45ارب ڈالر سود ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ان سطور میں کئی بار عرض کرچکا کہ اگر سی پیک منصوبے پر پارلیمان میں کھلی بحث سے اجتناب جاری رہا تو آنے والے برسوں میں یہ نہ صرف متنا زعہ ہوگا بلکہ انگنت مسائل پیدا ہوں گے ، کبھی امریکہ کی اندھی اطاعت میں پالیسی سازوں نے اس ملک کو بر باد کیا اور اب پاک چین دوستی کے جنون میں نئے بحران کے دروازنے کھولے جا رہے ہیں۔ مگر فرمان امر وز یہ ہے کہ پاکستان خطے میں تیز رفتار ترقی کرنے والا ملک بن جائے گا ۔ساون کے اندھوں کو ہر یالی کے سوا سوجتا بھی کچھ نہیں ۔ اچھا محض یہی ایک بحران تیزی کے ساتھ پاکستان کی سمت بڑھتا چلا نہیں آرہا بلکہ اور بحران بھی دستک دے رہے ہیں ۔ خدا نہ کرے لیکن بے ہنگم پالیسیوں کا خمیازہ 20بائیس کروڑ پاکستانیوں کو بھگتنا پڑے گا ۔ چار میں سے تین پڑوسی ناراض ہیں ان سے معاملات بہتر کرنے کا وقت نہیں ہمارے پالیسی سازوں کے پاس ۔ الزام تراشی کے کھابوں سے نظام مملکت چلانے والے نابغوں سے کبھی کوئی دریافت تو کرے آزاد و غیر جانبدار خارجہ پالیسی سے منہ موڑ ے رکھنے کی وجہ کیا ہے ؟ ۔ سوال اپنی ذمہ داری پر کیجئے گا ۔ مجھے تو ان سموں قاہرہ کی گلیوں میں گھومتا ہوا وہ دیوانہ تو اب بن محمد ابن موسیٰ یاد آرہا ہے ( یہ فاطمی سلطنت کے اجڑنے والے مہینوں کے دنوں کا کردار ہے ) تو اب کہتا پھرتا تھا ۔ '' لوگو ! تم نے بھلا دیا اپنی تخلیق کا مقصد ، بے رحم ہوئے ۔اپنے پیاروں کے لئے ۔ عاجزی کو ترک کر کے تکبر کی چادر اوڑھ لی ۔ فیصلہ کرنے سے بھاگتے ہو ۔ غلامی کو اطاعت کا نام دے کر جی بہلا تے رہو ، پھر ایک دن تمہاری اگلی نسلیں تمہارا ذکر کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کریں گی ۔ تلواروں کی تیز دھاروں سے گھبرانے والو۔ حساب کے دن کو یاد کرو ۔ اور سوچو اپنے خالق حقیقی کو کیا جواب دو گے ۔ ان اعمال و افعال کا ۔ لوگو ! انصاف میں پہل کرو بھائی کی ڈھال بنوں ، رشتوں کو نبھائو ، علم کے نور سے جہالت کا مقابلہ کرو ۔ سمجھ لو کہ علم میں زندگی ہے ۔ ہمارے اس عہد میں تو کوئی تواب بن محمد ابن موسیٰ بھی نہیں اس لئے ہر سو گھپ گھور اندھیرا ہے ۔