Daily Mashriq


ہم کب سدھریں گے ؟

ہم کب سدھریں گے ؟

کسی مرد دانا کا قول ہے کہ خوشی دو غموں کے درمیانی وقفے کا نام ہے اسی طرح ہر دانش ورنے خوشیوں کے حصول کا کوئی نہ کوئی طریقہ سکھانے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ مارک ٹوئین کہتا ہے ۔ اچھے دوست، اچھی کتابیں اور سویا ہوا شعور ہی اصل زندگی ہے اچھی صحت اور کمزور حافظہ بھی انسان کو خوشیاں دینے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔کمزور حافظے کی مدد سے انسان زندگی کی تلخیاں بہت جلد فراموش کر دیتا ہے اور اچھی صحت اسے بیماریوں کے دکھ سے اپنی پناہ میں رکھتی ہے۔سالک صاحب نے بالکل ٹھیک کہا تھاآج وہ ہوتے تو دیکھتے کہ کیسے کیسے تندرست و توانا جوان بے روزگاری کی وجہ سے مارے مارے پھرتے ہیں۔ درخواستیں دے دے کر ان کا کباڑا نکل چکا ہے ۔ اتنے انٹرویو دے چکے ہیں کہ جن کا شمار بھی ممکن نہیں ہے لیکن ہنوز ملازمت کالے گلاب کی طرح نا یا ب ہے۔ ان سے ملاقات ہو تو بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں ان کی بات درست ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ آج کل ملازمت کا حصول بچوں کا کھیل نہیں ہے اس کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں کچھ ایسے مقامات بھی آتے جن کو خوف فساد خلق کی وجہ سے ہم لکھنا بھی چاہیں تو نہیں لکھ سکتے۔یہاں بڑے بڑے جغادریوں کے پر جلتے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے ہمیں ایک ڈائریکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ ان کے پاس گریڈ ٹونٹی میں ریٹائر ہونے والے ایک پرانے دوست آئے اور ان سے بڑی بے تکلفی کے ساتھ کہنے لگے کہ یار تم نے میرے ایک بیٹے کو ضرور ملازمت دلانی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حیران و پریشان کہ یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے میں تو ایک چپڑاسی بھی بھرتی نہیں کرسکتا اس کے پڑھے لکھے بیٹے کو کہاں سے ملازمت دلوائوں ۔ چند دن پہلے ہم نے ایک رسالے میں ایک مضمون پڑھا جس میں کامیابی حاصل کرنے کے اسرارو روموز بتائے گئے تھے ۔مضمون نگار لکھتا ہے کہ سوچنے کے لیے کچھ وقت ضرور نکالیے یورپ میں بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کومہینے میں ایک آدھ دن صرف اس لیے دیتی ہیں کہ وہ اپنے لیے کوئی ایسا پر اجیکٹ چنیں اس پر کام کریں اور سوچیں کہ وہ کمپنی کی ترقی کے لیے کس طرح سود مند ہو سکتا ہے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ بھائی بڑے لوگوں کی بڑی باتیں اگر آپ اپنے ادارے کے لیے کچھ نہیں سوچ سکتے تو اپنی ذات کے لیے تو سوچنے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے چھوٹے چھوٹے نقا ئص تھوڑی سی سوچ بچار کے بعد دور کیے جاسکتے ہیں۔

دوسرا طریقہ یہ تھا کہ کام کو کھیل سمجھ لیں اس طرح آپ کی دلچسپی بڑھ جائے گی اور آپ تھوڑی دیر میں زیادہ اور بہتر کام کرنے کے قابل ہو جائیں گے ہمیں طریقہ نمبر دو پڑھ کر بڑے زور کی ہنسی آئی۔ ارے بھائی جو طریقہ آپ بڑے فخر سے ہمیں بتا رہے ہیں اس پر تو ہم سالہا سال سے عمل پیرا ہیں ہمارے ہاں تو کام کو کھیل ہی سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم لوگ اپنے کام سنجیدگی سے کرنا شروع کردیں تو بیمار پڑ جائیں یہی تو ہماری کامیابی کا راز ہے۔آپ کسی بہت ہی اہم کام کے لیے کسی دفتر تشریف لے جائیے تو پہلے تو آپ کو بابو صاحب اپنی سیٹ پر نہیں ملیں گے لیکن ان کی چادر ان کی کرسی پر ضرور موجود ہوگی ۔صاحب کے پاس فائلوں کا ڈھیر میز پر پڑا ہے وہ کسی کے ساتھ سرکاری فون پر ایک طویل گفتگو میں مصروف ہیں وہ کام کو کھیل ہی تو سمجھتے ہیں ورنہ ان کی میز پر ایک فائل بھی نہ ہوتی ۔تھوڑی دیر کے لیے واپڈا کی طرف چلتے ہیں آپ کا بل آیا تو آپ استعمال شدہ یونٹ کی تعداد دیکھ کر کانپ اٹھے جب آپ نے اپنے میٹر پر موجود ریڈنگ دیکھی تو سینکڑوں یونٹس کا فرق نکلا۔ آپ کو بڑا غصہ بھی آیا اور افسوس بھی ہوا کہ جب بجلی کے یونٹ کی ایک قیمت مقرر ہے اور میں اس قیمت کے مطابق بل جمع بھی کر واتا ہوں تو پھر میرے بل میں اضافی یونٹس کیوں ڈالے جاتے ہیں۔ یہ ظلم ہے اندھیر نگری اور چوپٹ راج والی بات ہے ۔ آپ اپنے بل کے ساتھ واپڈا کے دفتر پہنچ جاتے ہیں ایس ڈی او صاحب سے ملتے ہیں وہ آپ سے معذرت کرتے ہوئے آپ کو متعلقہ کلرک کے پاس بھجوا دیتا ہے۔ واپڈا میں بل کی درستی کا کوئی رواج نہیں بس آپ سے کہہ دیا جائے گا کہ یہ بل دو تین قسطوں میں جمع کروا دینا۔ایک انسان کا معاشی قتل کیا جارہا ہے اور واپڈا والے اسے کھیل سمجھ رہے ہیں! ارے بھائی کام کو تو چھوڑو ہمارے ہاں دودھ میں پانی ملانا کھیل ہے۔ جعلی دوائیوں کا کاروبار کرنا کھیل ہے اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کھیل،رشوت لینا کھیل،تجاوزات کھیل، اقربا پروری کھیل، سفارش کھیل، ذخیرہ اندوزی کھیل اور جو سچ مچ کے کھیل ہیںوہاں ہم نے پیسہ بنانا شروع کردیا ہے یا پھر سفارش اور اقربا پروری کے ہاتھوں بہترین اور با صلاحیت کھلاڑیوں کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے اور اپنے منظور نظر کھلاڑیوں کوقومی ٹیم کا حصہ بنادیا جاتا ہے۔ کبھی سکواش، ہاکی ،باکسنگ ،کرکٹ اور دوسرے بہت سے کھیلوں میں پاکستان کی اپنی شناخت ہوا کرتی تھی لیکن اب جو صورتحال ہے اسے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے !