Daily Mashriq


کلبھوشن کا عبرتناک انجام

کلبھوشن کا عبرتناک انجام

چہ دلا وراست دزدے کہ بکف چراغ داری مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوانے کے جرم کا بر ملا اعتراف کرنے والے بھارت نے دلی میں مقیم پاکستان کے سفیر عبدالباسط کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے اپنے ایک حاضر سروس نیوی آفیسر کلبھوشن یادیو کو پاکستان کے خلاف جاسوسی نیٹ ورک چلانے کے جرم کا اعتراف کرنے پر مقدمہ چلا کر سزائے موت کے احکامات پر احتجا ج کیا ہے ، تاہم پاکستانی ہائی کمشنر نے بھی دوٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ ایک جانب آپ ہمارے خلاف سازشیں کریں اور پھر اس پر احتجاج بھی کریں ۔ پاکستان نے بالکل درست فیصلہ کیا ہے ۔ آئی ایس پی آر نے کلبھوشن یادیو کے حوالے سے وضاحت کی ہے کہ اسے قانونی امداد مہیا کی گئی ہے اور یہ کہ اس نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا کہ اس نے کراچی اوربلوچستان میں افرا تفری کیلئے کردار ادا کیا ، اس کارا کے افسران کے ساتھ با قاعدہ رابطہ تھا اور اس کا دہشت گردی نیٹ ورک محولہ دونوں علاقوں میں سرگرم تھا ۔ 

جبکہ کلبھوشن یادیو کے پاس سپریم کورٹ میں جانے کے مواقع موجود ہیں اور اب آخری فیصلہ اگر کلبھوشن پاکستان کے سپریم کورٹ سے رجوع کرتا ہے تو وہیں ہوگا ۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کا ایک حاضر سروس نیول آفیسر جوپاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کیلئے نیٹ ورک قائم کرتا ہے اور اس نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان میں سبوتاژ کی کارروائیاں کرتا ہے ، اور پھر باقاعدہ اپنے جرم کا اعتراف بھی کرتا ہے ، اسے جاسوسی اور دہشت گردی کے جرم میں موت کی سزا سنائی جاتی ہے تو اس پر احتجاج چہ معنی دارد ؟ سلیم کو ثر نے کہا تھا
گو ہوا رگو ں میں اتارتی رہی زہر کو
کوئی ہاتھ تھا جو بچا کے لے گیا شہر کو
کوئی موج تھی جو لپٹ گئی کسی موج سے
کوئی لہر تھی جو بہا کے لے گئی لہر کو
اس واقعے کے بعد ہماری سیاسی قیادت اگرچہ عمومی طور پر اس فیصلے سے متفق ہے تاہم ایک آدھ آواز سزائے موت کے حوالے سے مخالفت میں اٹھ رہی ہے ، پھر ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جب سے کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا گیا ہے تب سے حز ب اختلاف کی جماعتیں حکومت پر طنز وتشنیع کے تیر برساتی ہوئی نظر آرہی تھیں کہ کلبھوشن یادیو کے واقعے پر حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے کیونکہ بقول چند سیاسی رہنمائوں کے موجودہ حکمران بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے بے چین ہیں اور یہاں تک الزامات لگائے گئے کہ کلبھوشن یادیو کو بھی دبائو میں آکر چھوڑ دیا جائے گا وغیر ہ وغیرہ ، حالانکہ وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بار بار واضح کیا کہ کلبھوشن یادیوکے نیٹ ورک کے حوالے سے تمام ثبوتوں پر مبنی ڈوز یئر اقوام متحدہ کے سیکر ٹر ی جنرل کے حوالے کر دیئے گئے ہیں ، تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں کے اعتراضات ایک لحاظ سے بہت حد تک درست بھی تھے کہ بھارت کے ایک حاضر سروس جاسوس کی گرفتاری اور اس کے نیٹ ورک میں شامل افراد کو گرفتار کرنے کے بعد عالمی سطح پر جس پر وپیگنڈ ے کی ضرورت تھی اور دنیابھر میں بھارت کے خلاف سفارتی سطح کے علاوہ میڈیا کے ذریعے حقائق دنیا کے سامنے رکھنے کی جو حکمت عملی اختیار کرنی چاہیئے تھی یقینا اس میں ہم ناکام رہے ۔
البتہ اب اس فیصلے کے بعد کم از کم حکومت پر بھارت کیلئے نرم گوشہ رکھنے کے الزامات میں کوئی جان نظر نہیں آتی ۔مگر جب سے یہ خبر آئی ہے بھارتی میڈیا پرا یک غو غا آرائی ہو رہی ہے اور کلبھوشن یادیو کو حاضر سروس نہیں بلکہ ریٹائرڈ آفیسر ثابت کیا جا رہا ہے ، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ جنرل کورٹ مارشل کا فیصلہ درست نہیں تھا ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کلبھوشن یادیو بقول اس بھارتی غوغا آرائی میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لینے والوں کے حاضر سروس نہیں بلکہ ملٹری آفیسر ہے تو پھر بھارتی حکومت بار بار بلکہ لا تعداد بار اس کے ساتھ رسائی کیلئے درخواستیں کیوں کرتی رہی اور جسے ہر بار حکومت پاکستان نے مسترد کیا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ چلیں مان لیتے ہیں کہ کلبھوشن یادیو ریٹائرڈ ہو چکا تھا تو پھر جس طرح پاکستان نے اجمل قصاب سے کوئی تعرض نہیں رکھا بلکہ ہمیشہ اسے پاکستان کی شہ پر بھارت میں مبینہ دہشت گردی کیلئے بھیجنے سے انکار کیا بلکہ حالات نے ثابت بھی کیا کہ اجمل قصاب کو خود بھارتی ایجنسیوں نے اس کام کیلئے آمادہ کیا تھا اور پھر اسے پھانسی دیکر اصل حقائق کو اس کے ساتھ ہی دفن کر دیا تھا ۔ جبکہ پاکستان نے اس پر مقدمہ چلانے کی کبھی مخالفت نہیں کی ، تو پھر کلبھوشن یادیو کو موت کی سزا سنائے جانے پر اس قدر غوغا آرائی کیو ں کی جارہی ہے ۔ جولوگ پاکستان کے عوام کویہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس فیصلے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات مزید خراب ہوں گے تو ان سے یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ تعلقات پہلے کونسے قابل رشک حد تک خوشگوار ہیں ، بھارت تو نہ صرف خود پاکستان کے خلاف معاندانہ سرگرمیا ں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ وہ ہمارے ہمسایوں کو بھی ہمارے خلاف اکسا کر جو گیم کھیل رہا ہے اس سے بھی پاکستان کے عوام اچھی طرح باخبر ہیں ۔ جبکہ اس فیصلے پر عمل در آمد سے بھارت کے دیگر جاسوسوں کو بھی احساس ہوگا کہ پاکستان ان کی سازشوں سے نہ صرف باخبر ہے بلکہ ان کا حشر بھی کلبھوشن یادیو سے مختلف نہیں ہوگا ۔

متعلقہ خبریں