Daily Mashriq


میشا شفیع نے ہراسانی کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

میشا شفیع نے ہراسانی کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

گلوکارہ میشاشفیع اور علی ظفر کا تنازع سپریم کورٹ تک پہنچ گیا میشا شفیع نے کیس کو تین ماہ میں نمٹانے کا لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ۔

 تین روز قبل لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع کے خلاف علی ظفر کے ہرجانہ کیس کا فیصلہ تین ماہ میں سنانے کا حکم دیاتھا تاہم اب گلوکارہ نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

میشا شفیع نے درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ  ٹرائل کورٹ نے گواہان پرجرح موخر کرنے کی اجازت نہیں دی، گواہان کو جانے بغیر صرف ان کے بیان کی بنیاد پر جرح کرنا ممکن نہیں، سپریم کورٹ گواہان پر جرح کی اجازت دیتے ہوئے ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے۔

اس سے قبل سیشن عدالت نے کیس کا فیصلہ 15 روز میں سنانے کا حکم دیاتھا جسے میشاشفیع نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کا فیصلہ  تبدیل کرتے ہوئے ہرجانہ کیس کا فیصلہ 15 روز کے بجائےتین ماہ میں کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔ علی ظفر کے مطابق میشا شفیع نے جھوٹی شہرت کے لئے ہراساں کرنے کے بے بنیاد الزامات عائد کئے۔ میشا شفیع کے ان جھوٹے الزامات سے پوری دنیا میں ان کی شہرت متاثر ہوئی۔ علی ظفر نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عدالت میشا شفیع کو سو کروڑ(ایک ارب) روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔

متعلقہ خبریں