Daily Mashriq

کئی گنا زائد قیمت پر ادویہ کی فروخت پر وزیراعظم کا نوٹس

کئی گنا زائد قیمت پر ادویہ کی فروخت پر وزیراعظم کا نوٹس

وزیراعظم عمران خان نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایسے عناصر کیخلاف کریک ڈؤن کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ 3دنوں کے اندر ادویات کی قیمتیں پرانی سطح پر لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کا عوامی نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ نہایت اہم قابل تحسین اور مریضوںکو اچانک درپیش مشکل صورتحال سے نجات دلانے کا حامل معاملہ ہے لیکن اگر اسے دوسرے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو جب پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی ہر چیز مہنگی ہوگئی ہیں خصوصاً ڈالر کی قیمت ایک سو بیالیس کے لگ بھگ ہوگئی ہے تو ادویہ ساز کمپنیوں سے یہ توقع کیسے رکھی جائے کہ وہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کریں۔ ہمارا مقصد کسی طور بھی ادویہ ساز کمپنیوں کی وکالت نہیں بلکہ ایک عام تاثر کا تذکرہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ 31دسمبر2018ء کو خود حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے لیکن اس نوٹیفکیشن کی آڑ میں بجائے اس کے کہ ادویات کی قیمتوں میں پندرہ فیصد اضافہ کیا جاتا ادویہ کمپنیوں نے نہ صرف ادویات کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں اور دوا کی مارکیٹ قیمت سے کئی گنا زیادہ وصول کرنے لگیں۔ مارکیٹ میں ادویات مہنگی کرنے کیلئے طلب ورسد کا توازن بری طرح بگاڑنے کیلئے ادویات کی سپلائی بہت کم یا بند کر دی گئی جس کی وجہ سے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں جس شرح سے اضافہ ہوا وہ ناقابل یقین ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے اسلام آباد کے میڈیکل سٹوروں پر چھاپوں کے بعد 25ادویہ ساز کمپنیوں کی فہرست جاری کی تھی جن میں سے بیشتر ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں۔ اس صورتحال کے سامنے آنے کے باوجود ملک بھر میں جس قسم کے اقدامات کی ضرورت تھی اس پر توجہ نہیں دی گئی اور جو تھوڑی بہت کارروائی عمل میں لائی گئی اس کے غیرمؤثر اور ناکام ہونے پر اسے نمائشی اقدام سے تعبیر کرنا غلط نہ ہوگا۔ ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک ہی مثال کافی ہوگی جس میں ایک مشہور کمپنی کی دوا جس کی قیمت چارسو روپے ہے وہ بلامبالغہ چارہزار میں فروخت ہو رہی ہے۔ ادویات کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور خاص طور پر قیمتوںکو اعتدال پر رکھنے کیلئے قائم ادارے کی غفلت کا یہ عالم ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیمتوں کے معاملے پر کوئی ایک کیس بھی ابھی تک ریکارڈ پر نہیں آیا۔ وزارت صحت کی جانب سے بھی محض اس بیان پر ہی اکتفاء سامنے آیا ہے کہ کچھ کمپنیوں کو ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دی گئی تھی لیکن دیکھا گیا کہ کچھ دوسری کمپنیوں نے خود سے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جن کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ادویات کی درست قیمتوں کے بارے میں معلومات کیلئے ایک آن لائن سہولت متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے ذریعے عوام قیمتوں کی تصدیق کر سکیں گے۔ قومی ادارہ صحت کی جانب سے ڈریپ کے صوبائی آفس کو لکھے گئے خط کے مطابق اس طرح کی شکایات کی تصدیق کی جا چکی تھی کہ ادویات کی صنعت میں موجود کچھ بددیانت عناصر نے اپنی ادویات کی قیمت وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں سے بڑھا دی ہیں۔ مراسلے کے مطابق وفاقی حکومت نے889ادویات کی زیادہ قیمت مقرر کی تھیں اور اس میں 9فیصد تک مزید اضافے کی اجازت دی گئی تھی اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ اسٹاک کی گئی اور پہلے سے برآمد کی گئی ادویات10جنوری کے نوٹیفکیشن سے پہلے کی قیمتوں پر ہی فروخت کی جائیں۔ اس حوالے سے صوبائی دفاتر کو بھی کہا گیا تھا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف ڈرگ ایکٹ 1976 اور ڈریپ2012 کے تحت کارروائی کی جائے۔ یہ سارے دعوے اور ہدایات سچ ثابت ہوئیں۔ ادویہ ساز کمپنیاں اب بھی نہ صرف من مانی قیمتوں پر ادویات فروخت کر رہی ہیں بلکہ جان بچانے والی ادویات کے حصول کیلئے مریض اپنے معالجین سے میڈیکل سٹورز کو سفارش کرانے پر مجبور ہیں، یہ صورتحال کافی عرصے سے جاری ہے۔ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو پرانے پاکستان کی قیمتوں اور نئے پاکستان کی قیمتوں کا باثبوت تقابل کر کے مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کا روزاول ہی وزیراعظم کو سخت نوٹس لینا چاہئے تھا اور وزارت صحت اور شعبۂ صحت کے متعلقہ اداروں کو ادویات کی ذخیرہ اندوزی، سمگلنگ، مصنوعی قلت پیدا کرنے اور ناقابل یقین حد تک مہنگائی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کر لینی چاہئے تھی۔ بہرحال اب جبکہ وزیراعظم ادویات کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے کی ہدایت جاری کرچکے ہیں تو اس ہدایت پر عملدرآمد کی صورتحال کا روزانہ کی بنیادوں پر رپورٹ طلبی اور جائزہ لیا جانا چاہئے۔ حکومت کو اس سنگین مسئلے کے حل کے اقدامات کے اثرات قیمتوں اور رسد سے متعلق سرکاری حکام کی بریفنگ پر اکتفاء نہیں کرنا چاہئے بلکہ ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، سول سوسائٹی، منتخب نمائندوں اور حکمران جماعت کے کارکنوں سبھی ذرائع سے صورتحال بارے آگاہی لینی چاہئے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر جتنا جلد عملدرآمد ہو یہ عوام اور حکومت دونوں کے حق میں اچھا ہوگا جو کمپنیاں لوٹ کھسوٹ میں ملوث رہی ہیں جو ڈسٹری بیوٹرز اور پرچون ادویہ فروش اس منظم مذموم تجارت کا حصہ رہے ہوں ان کیخلاف بھی تحقیقات کے بعد سخت کارروائی ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں