Daily Mashriq


مدارس کو وزارت تعلیم کے تحت لانے کا منصوبہ

مدارس کو وزارت تعلیم کے تحت لانے کا منصوبہ

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان مدارس کو مین سٹریم کر کے وزارتِ تعلیم کے ماتحت لاکر ان میں عصری علوم کی تعلیم بھی دی جائے گی۔ اصولاً اس طرح کا عندیہ حکومت اور وزارت تعلیم کی جانب سے بھی دیا جانا چاہئے تھا۔ بہرحال اس امر سے قطع نظر صورتحال یہ چلی آرہی ہے کہ حکومتیں دینی مدارس کو کسی نہ کسی طرح سرکاری انتظام میں لانے کیلئے کوشاں رہی ہیں لیکن مدارس کے منتظمین کی طرف سے اس کی سخت مخالفت یہاں تک کہ مزاحمت تک کی تیاریوں کے باعث ایسا ممکن نہیں ہو پایا ہے۔ دینی مدارس میں عصری تعلیم دینے پر اہل مدارس شاید زیادہ رد وکد کا مظاہرہ کریں اور تھوڑی بہت مخالفت کیساتھ یکے بعد دیگرے مدارس میں دینی علوم کیساتھ ساتھ عصری علوم اور ہنرمندی کی تربیت اور روزگار کمانے کے ذرائع اور طلبہ کو اس قابل بنانے کے اقدامات سے اتفاق وتعاون کرنے لگیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل طالب علموں کی بڑی تعداد کو حصول روزگار میں خاص طور پر یہ مشکلات ہیں۔ ان معاملات سے قطع نظر اصل سوال اور مشکل یہ ہے کہ آیا حکومت تیس ہزار مدارس کے 25لاکھ طلبہ کو وہ تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کے وسائل مہیا کر سکے گی جو ان کو مدارس فراہم کر رہے ہیں اور اگر حکومت 25لاکھ طلباء وطالبات کو رہائش خوراک اور مفت کتابوں کی فراہمی نہیں کرسکتی تو پھر ان مدارس کو کس طرح سے وزارت تعلیم کے ماتحت لاسکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کیلئے موزوں اور بہتر یہ ہوگا کہ حکومت ہر مدرسے میں عصری علوم کیلئے سرکاری طور پر اساتذہ مقرر کر کے طلبہ کو ہنر سکھانے کیلئے ماہرین فن تعینات کرے مدارس کے طلبہ کو بھی سکولوں کی طرح کھیلنے کیلئے میدان اور کھیلوں کا سامان مہیا کیا جائے اور اگر حکومت وسائل رکھتی ہے تو پھر مدارس کے اساتذہ کو بھی سرکاری خزانے سے تنخواہیں دی جائے اور وفاق المدارس اور مدارس بورڈز کی معاونت کیساتھ اساتذہ کی بھرتی ایک طریقہ کار کے تحت کی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام اتنا مشکل نہیں جتنا اسے بنا دیا گیا ہے۔ اس پر مل بیٹھ کر بات چیت ہوسکتی ہے قابل قبول طریقہ کار بھی طے ہونا کوئی مشکل نہیں بشرطیکہ حکومت فنڈز اور وسائل مہیا کرے یہ ممکن نہیں کہ عوام کی معاونت اور تعاون سے مدارس چلیں اور پالیسی حکومت دے۔

خصوصی افراد کی مدد، دعوے زیادہ عمل کچھ نہیں

وفاقی سیکرٹری برائے انسانی حقوق نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت معذور افراد کو قومی دھارے میں لانے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور ان کو بہترین تعلیمی، طبی اور باعزت روزگار ان کی دہلیز پر دیکر ان کے تمام حقوق کا تحفظ کریگی۔ خصوصی افراد کو قومی دھارے میں لانے اور ان کو بین الاقوامی کنونشن کے تحت معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے کام میں کتنے سال اور لگیں گے اور کب یہ زبانی کلامی دعوے حقیقت میں بدل جائیں گے۔ اس بارے وثوق سے کچھ کہنا اس لئے مشکل ہے کہ فی الوقت اگر خصوصی افراد کے مسائل سے حکومتی اداروں کے مکمل اغماز برتنے کا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ خصوصی افراد کو دیگر سہولیات اور ان کے حالت میں بہتری لانے کا تو درکنار خصوصی افراد کو ملنے والی زکوٰة بھی بآسانی نہیں ملتی حالانکہ یہ حکومت کے پاس لوگوں کی امانت ہوتی ہے جو جب تک مستحق فرد کو دے کر مالک اور قابض نہ بنایا جائے اس فریضے کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ حکومت اس ضمن میں وکیل کا جو کردار ادا کرتی ہے اسے نبھایا نہیں جاتا تو ایسے میں اس بات کی کیا توقع کی جائے کہ خصوصی افراد کے مسائل کے حل میں سنجیدگی اختیار کی جائے گی۔ بہتر ہوگا کہ وعدوں کے بجائے کام کئے جائیں اور خصوصی افراد کو زیادہ نہ سہی حتی المقدور اور کم سے کم سہولیات اور امداد کی فراہمی تو ہو۔

بستے بھاری، معیار تعلیم صفر

پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کو سکول جانے والے بچوں کے بھاری بھرکم بیگز سے متعلق قانون سازی کیلئے چار ماہ کی مہلت سے امید وابستہ کی جا سکتی ہے کہ عدالت ان بچوں کو بلاوجہ کے بھاری بستوں کے بوجھ سے نجات دلائے گی۔بچوں کے بھاری بستے ماں باپ کی جیب پر بھی بھاری ہوتے ہیں جتنی کاپیاں، کتابیں اور دیگر لوازمات بچوں اور ان کے والدین پر مسلط کیا جاتا ہے کاش کہ اس کی مناسبت سے بچوں کو تعلیم بھی دی جائے۔

متعلقہ خبریں