Daily Mashriq

بری خبروں کے درمیان ایک اچھی خبر اور خوشخبری

بری خبروں کے درمیان ایک اچھی خبر اور خوشخبری

سٹاک مارکیٹ (اسٹاک ایکسچینج) میں بدترین مندے کا رجحان برقرار ہے' پچھلے 10دنوں کے د وران چھوٹے اوردرمیانے درجہ کے سرمایہ کاروں کے دس کھرب روپے ڈوب گئے۔ سات ماہ کا حساب آنکھوں میں خون بھرنے اور فشار قلب کو بڑھانے کا موجب بنے گا۔ صرف بدھ 10اپریل کو98ارب روپے ڈوبے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب عالمی مالیاتی ادارے اور سٹیٹ بنک کچھ کر رہے ہیں اور ارسطوئے دوراں کچھ اور مودے ڈیں پٹاس نے کل فقیر راحموں کو مشورہ دیا سٹاک مارکیٹ میں مندے کے رجحان کو زرداروں پر ڈال دیتے ہیں ممکن ہے حکومت چھوٹے اور درمیانے درجہ کے سرمایہ کاروں کی مدد کردے۔ جناب وزیر اعظم نے پچھلے دو دن منگل اور بدھ لاہور میں بسر کئے۔ اس دوران سانحہ ساہیوال کے متاثرین میں سے ایک خاندان کو ان سے ملوایاگیا۔ تین کروڑ کے امدادی چیک اور انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی' وزیر اعظم نے عدالتی کمیشن بنانے کا حکم دیا۔ بہت ادب سے ایک سوال ہے آخر وہ کونسی طاقت ہے جو سی ٹی ڈی کے ایک ایس ایس پی جواد قمر کو بچانے کے لئے سانحہ ساہیوال کے ایک مقتول ذیشان جاوید کو دہشت گردوں کا سہولت کار ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے؟ جے آئی ٹی نے آزادانہ تحقیقات کی بجائے 90فیصد ان باتوں اور دستاویزات پر انحصار کیوں کیا جو جواد قمر نے فراہم کیں۔ آپریشن کا حکم دینے اور نگرانی کرنے والے اس پولیس افسر بارے لب کشائی سے لوگ کیوں خوفزدہ ہیں۔ معاملہ اتنا سادہ ہر گز نہیں جتنا بتایا جا رہا ہے کیا کوئی عدالتی کمیشن اگر قائم ہوتا ہے تو آزادانہ تحقیقات کا ڈول ڈلوا سکے گا؟ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا البتہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ یہ سانحہ نا پسندیدہ افسر کو رسوا کرنے اور پسندیدہ افسر کو شہرت کے بانس پر چڑھانے کا قصہ ہے۔ اس سے زیادہ لکھنے کا یارا مجھ میں نہیں۔بدقسمتی سے اس معاملے میں ایک خاص حکمت عملی کے تحت جھوٹ کی نائو چلائی گئی۔ پنجاب اور وفاقی حکومت کے چند وزراء اس نائو رانی میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوئے۔ مگر ہم سب یہ بھول رہے ہیں کہ ایک طاقت اور بھی ہے عادلین کا عادل ہم سب کا اللہ رب العزت سو اب اس کے انصاف کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ایک بیوہ ماں کو قرار آسکے۔

دو اچھی خبریں ہیں اولاً یہ کہ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے 20کلو آٹے کا تھیلہ 5روپے مہنگا کرنے کا اعلان کردیا۔ دوسری یہ کہ بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 81پیسے کااضافہ ہوگیا ہے۔ تیسری خبر بھی سن لیجئے گیس کمپنیاں متقاضی ہیں کہ گیس کے نرخوں میں مجموعی طور پر 18سے 94 فیصد اضافہ کیا جائے۔ وزارت پٹرولیم اس اضافے کو 18 سے 20فیصد تک محدود کروانے کے لئے کوشاں ہے۔ کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ خسارہ اربوں روپے میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا خسارے کے ذمہ داران صارفین ہیں یا ضرورت سے زیادہ افسر شاہی اور ملازمین کے لشکر؟ یوٹیلٹی بلز کے حوالے سے صورتحال خاصی تشویشناک ہے نچلے اور متوسط طبقوں کے صارفین کی کمر دوہری ہوچکی آمدنی اور اخراجات میں جو عدم توازن آج ہے یہ کسی نہ کسی طور 1977ء کے بعد سے برقرار ہے۔ بھٹو صاحب کے چند سالوں میں صورتحال کچھ بہتر ہوئی تھی۔ یاد رکھئیکچھ بہتر عرض کیا ہے ایسا نہ ہو کہ بھٹو کا نام سنتے ہی جن کا فشار خون بڑھتا ہے وہ نیزے بھالے اٹھائے چڑھ دوڑیں۔ بری خبروں کے اس موسم میں دو اچھی بلکہ یوں کہیں ایک اچھی خبر ہے اورایک خوشخبری۔ اچھی خبر یہ ہے کہ وزیراعظم نے بدھ کو لاہور میں حکم دیا کہ ادویات کی قیمتیں 72گھنٹوں میں پرانی سطح پر واپس لائی جائیں۔ ان کے اس حکم سے یہ تو طے ہوگیا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے پنجاب اور وفاق کے وزرائے صحت دروغ گوئی سے کام لے رہے تھے اور ڈریپ نامی ادارہ ادویہ ساز اداروں کے مالکان کے مفادات کے تحفظ میں مصروف تھا۔ 15سے20 فیصد قیمتیں بڑھانے کی آڑ میں 50سے 200فیصد قیمتیں بڑھائی گئیں پچھلے ایک ماہ کے دوران ادویہ ساز کمپنیوں نے اربوں روپیہ منافع کمایا۔ کیا ہم امید رکھیں کہ وزیر اعظم اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کروائیں گے تاکہ وہ جان سکیں کہ وزارت صحت اور ڈریپ کے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے ذاتی خوشنودی سے سرشار ہو کر قیمتیں بڑھوانے کا نوٹفیکیشن جاری کروایا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس عرصہ میں ادویہ ساز اداروں نے جس طرح دونوں ہاتھوں سے لوگوں کو لوٹا وہ رقم واپس کیسے ہوگی؟ ظاہر ہے کہ عام خریدار تک تو رقم واپس نہیں ہوسکتی پھر کیوں نہ حکومت اضافی قیمتوں والی رقم ان کمپنیوں کو سرکاری خزانے میں جمع کروانے کا حکم دے اور یہ رقم غریب مریضوں کو مفت ادویات فراہم کرنے والے فنڈ میں ڈال دی جائے۔خوشخبری یہ ہے کہ بدھ کے روز بلاول بھٹو اور سندھ کے وزیراعلیٰ نے تھر کول (کوئلے) کے دوپاور پلانٹ کا افتتاح کرایا۔660میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت رکھنے والے ان پاور پلانٹ کی پیداوار کو بجلی کے قومی سسٹم میں شامل کردیا گیا۔ پیداواری لاگت 3روپے فی یونٹ ہے جو آگے چل کر کچھ کم ہوگی۔ اس تقریب میں وفاقی وزیر عمر ایوب خان نے شرکت کرنا تھی انہوں نے اپنی قیادت کے حکم پر تقریب کا بائیکاٹ کیا۔ قومی اہمیت کے اس اہم ترین منصوبے کی اختتامی تقریب میں وفاق کے نمائندوں کی عدم شرکت پر افسوس ہی کیا جا سکتاہے۔سیاسی اختلافات نفرتوں میں تبدیل کردینے کا سب سے بڑ انقصان یہ ہوتا ہے کہ دوریاں بڑھتی ہیں۔ اب اگر سندھ والے یہ سوال پوچھیں کہ وفاق نے منظم انداز میں جس قومی منصوبے کا بائیکاٹ کیا ان سے پیدا ہونے والی660 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے مرکزی سسٹم میں شامل کس لیے کی جائے؟ تو یہ یکسر غلط سوال بھی نہیں ہوگا۔تھر کول پاور پلانٹ کے دو بجلی گھروں کے افتتاح کے موقع پر چین قونصلر جنرل کا کہنا تھا، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں