Daily Mashriq

کرم پر بھی ہوتا ہے دھوکہ ستم کا

کرم پر بھی ہوتا ہے دھوکہ ستم کا

جب سے نیا پاکستان کا نعرہ لگنا شروع ہوا تب ہی سے پچاس لاکھ گھر بنانے کی خبر چل رہی ہے حالانکہ گھر بنائے نہیں جاتے مکان بنتے ہیں اور گھر بسائے جاتے ہیں اسی لئے تو قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے گھر بنانے کی بجائے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تھا، اگر گھر اور مکان کے درمیان واضح فرق نہ ہوتا تو افتخار عارف کبھی نہ کہتے کہ

مرے خدا مجھے تو اتنا معتبر کردے

میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے

اللہ نہ کرے کبھی کبھی تو بسے بسائے یا ہنستے بستے گھر اجڑ بھی جاتے ہیں۔ اللہ نہ کرے کسی کا گھر اجڑے۔ خدا سدا سہاگن رکھے دلہنوں کو اور سدا سلامت رہیں ان کے سروں کے تاج ان کا گھر اس وقت بنتا ہے ، جب ان کی شادی ہوتی ہے۔ اور بستا یا آباد ہوتا اس وقت ہے جب میاں بیوی کے درمیان پیار اور محبت کا رشتہ پروان چڑھتا رہتا ہے۔ جب ہی بھولے باچھا کو اس کے بارات میں شامل دوستوں نے کہا تھا کہ ہنس لو جتنا ہنس سکتے ہو کہ شادی کے بعد تمہیں آٹے نمک کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا اور چھوڑ دو گے ہنسنا مسکرانا، اُستاد مرزا محمود سرحدی نے ایسی ہی کوئی بات کی تھی کہ پہلے میں بولتا تھا، وہ سنتی تھی، نکاح کے دوران قاضی بولتا رہا اور وہ سنتی رہی اور اب ہم دونوں بولتے ہیں اور سارا محلہ سنتا ہے، اگر گھر کا ماحول پُرسکون ہو، ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے تو کوئی وجہ نہیں گھر کا امن وسکون غارت ہو، گھر اور مکان کے درمیان معانی اور مفہوم میں نمایاں تفاوت کے باوجود ہمیں ایک بار پھر یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ ہاؤسنگ سوسائٹی نے ایک لاکھ 35ہزار گھر بنانے کی منظوری دے دی اور بلوچستان میں ایک لاکھ 10ہزار گھر بنائے جائیں گے۔ جب تک یہ گھر یا مکانات بن نہیں جاتے ہم اسے بے گھر وبے در افراد کو دکھایا جانے والا سبز باغ یا حسین خواب ہی سمجھتے رہیں گے اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہی ہوگا خواب حسیں بھی ہوتے ہیں، دلفریب بھی، خوفناک اور ڈراؤنے بھی۔ خواب جیسے بھی ہوں آخر خواب خواب ہی ہوتے ہیں اور خواب، خواب کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتے۔ وعدوں، قسموں، اور عہد وپیمان کی طرح، جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ

وعدے قسمیں پیار وفا سب

باتیں ہیں باتوں کا کیا

بقول کسے وہ وعدہ ہی کیا جو پورا ہو، اسی طرح خواب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خواب ہی کیا جس کی کوئی تعبیر ہو بقول شاعر

جس کی نہ تعبیر ہو

خواب اسی کو کہتے ہیں

ہم نے جب پہلی بار پچاس لاکھ گھر بنانے کے متعلق خبر پڑھی تو ہم اس سوچ میں پڑگئے کہ عمران خان پورے پچاس لاکھ جوڑوں کو ازدواج کی زنجیروں میں جکڑ رہے ہیں لیکن جیسے ہی ہم خواب خرگوش سے بیدار ہوئے یہ جان پائے کہ ایسا ہرگز نہیں پچاس لاکھ گھر بنانے سے مراد پچاس لاکھ سستے مکانات تعمیر کرکے ان لوگوں پر سستے دام بیچنے کے ہیں جن کے پاس سکھ اور سکوں سے رہنے کیلئے چھت اور چاردیواری نہیں، وہ کرائے کے مکانوں کی تلاش میں دربدر ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں اور جب انہیں کرائے پر کوئی مکان میسر آتا ہے تو وہ مالک مکان کو کرائے کے علاوہ ایڈوانس یا پگڑی بھی دیتے ہیں اور اس کی کڑی شرائط کے آگے سر تسلیم خم کرکے معاہدے یا کرایہ نامہ پہ دستخط کرکے ہر جائز و ناجائز شرط کے پابند ہوجاتے ہیں۔ جیسے کہ عرض کیا جاچکا ہے کہ مکان یا گھر بنانے کا وعدہ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بھی روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر کیا تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ اسلامی کانفرنس بلاکر تیسری دنیا فتح کرنے نکلے انہیں نہ روٹی کی فکر رہی نہ کپڑے کی کہ آپ مکان سے لا مکان میں پہنچ کر اپنی لیڈرانہ صلاحیتیں منوانے لگے تھے۔ یہی قدرمشترک پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان میں بھی دیکھی جارہی ہے۔ عمران خان بائیس خاندانوں کی بجائے ان حکمرانوں کو قلع قمع کرکے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے جنہوں نے مبینہ طور پر ملک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر بیرون ملک بھیجا۔ قائد عوام کی بے بدل قیادت اور ان کی محنت کا ثمر بی بی شہید کے علاوہ ان کا داماد بھی کھاتا رہا لیکن اپنے ووٹرز کو کل بھی بھٹو زندہ ہے اور آج بھی بھٹو زندہ ہے کے نعرے لگوا نچواتا رہا۔ ناچنے والے بھلا کب سوچا کرتے ہیں کہ اگر کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے تو گڑھی خدا بخش میں کون دفن ہے۔ آہ کہ چہرے اور نعرے بدلتے موسموں کی طرح اپنا چولا بدل بدل کر ایسے خزاں نصیبوں کو خوش کرتے رہے ہیں جن کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ

بہلا رہے ہیں اپنی طبیعت خزاں نصیب

دامن پہ کھینچ کھینچ کے نقشہ بہار کا

اب کے جو نیا پاکستان بنانے والوں کے دعوے داروں نے پچاس لاکھ گھر بنانے کے پہلے مرحلے کا اعلان کرتے ہویے ایک لاکھ 35 ہزار مکانات کی تعمیر کی منظوری کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے 17اپریل کو وزیراعظم پاکستان عمران خان اس منصوبے کا افتتاح کریں گے۔ یہ جان کر ہم سراپا دست بدعا ہو کر کہنے لگے کہ اللہ کرے کہ یہ سبزباغ کالاباغ ڈیم میں نہ ڈوب جائے، اللہ کرے کہ یہ وعدہ، وعدہ محبوب نہ ثابت ہو، اگر ایسا ہوا تو ہم کر بھی کیا سکیں گے کہ ہم ہر ستم کو کرم اور ہر کرم کو ستم سمجھنے کے عادی ہو چکے ہیں

کرم پر بھی ہوتا ہے دھوکہ ستم کا

یہاں تک الم آشنا ہوگئے ہم

متعلقہ خبریں