Daily Mashriq

آصف زرداری کا نامکمل جملہ

آصف زرداری کا نامکمل جملہ

مجھے آصف علی زرداری کی بات سے اتفاق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف حکومت میں رہی تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ اگرچہ مجھے آصف زرداری کی بات سے مکمل اتفاق نہیں کیونکہ ان کا جملہ ہی مکمل نہیں۔ انہیں کہنا چاہئے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف مزید حکومت میں رہی تو پاکستان کے پرانے لٹیروں، سیاست دانوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ اگر وہ یہ جملہ اس طرح مکمل کہتے تو میں ان کی بات سے مکمل اتفاق کرتی بلکہ ان کے فہم اور ذہانت کی اور بھی زیادہ قائل ہوجاتی۔ میں یہ بھی محسوس کرنے پر مجبور ہو جاتی کہ وہ اس قدر کاریگر سیاست دان ہیں کہ وہ بلاول بھٹو کو ہی ایک کامیاب سیاست دان کی صورت تشکیل دے لیں گے اور ان کی مہارت کا طُرہ ہوگا کہ بلاول کو اپنی وراثت پر انحصار کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ ایک ایسی وراثت جو جناب آصف علی زرداری کی کاریگری کے باعث ہی ان کی وراثت ثابت ہوئی ہے ورنہ ان سے زیادہ تو اس پر فاطمہ بھٹو کا حق تھا لیکن سُنا ہے کہ شاید کسی خوف کے باعث فاطمہ بھٹو اس وراثت میں حصہ داری نہیں چاہتیں۔ اس بات میں کتنی حقیقت ہے اس کا جواب تو آصف زرداری ہی دے سکتے ہیں۔ بہرحال بات کہیں سے کہیں جاپہنچی۔مولانا فضل الرحمن کی جناب آصف زرداری سے حالیہ ملاقات بھی اس بات کی دلیل ہے کہ آصف زرداری کا نامکمل جملہ درست ہے۔ ناقابل تلافی نقصان تو پہنچ رہا ہے ورنہ یہ سب ہم نے کب دیکھا تھا جو آج ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔ میاں صاحب نے جیل کو کبھی اتنا قریب سے کب دیکھا تھا۔ میاں شہباز شریف کو تو کبھی خواب بھی نہ آیا ہوگا کہ ان پر کبھی کوئی الزام ہی دھر سکے گا۔ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے بارے میں کبھی کسی نجومی نے ایسی کوئی پیش گوئی نہ کی ہوگی اور مولانا فضل الرحمن نے کبھی ایسا کوئی گمان بھی نہ پالا ہوگا کہ انہیں کبھی حکومت میں کوئی خلعت عطا نہ ہوگی۔ وہ اسلام آباد چھوڑیں گے اور کبھی کوئی آئین کا تناظر ایسا بھی ہوگا جس کے منظرنامے میں وہ نہ ہوں گے۔ دنیا چھوڑنے سے پہلے منظر چھوٹ جانے کا دُکھ بڑا اذیت ناک ہوا کرتا ہے۔ یہ دُکھ میں اکثر لٹیرے سیاست دانوں کے چہروں پر دیکھتی ہوں اور اللہ تعالیٰ کی کاریگری پر سر دھنتی ہوں، پاکستان میں بڑے بڑے کمال ہوتے ہیں۔ یہ عجب کرشمہ ہے جو ملک نے اس ملک کو ودیعت کر رکھا ہے۔ اس ملک کی تشکیل سے لے کر آج تک واقعی اس ملک کو مالک دوجہاں ہی سنبھال رہا ہے ورنہ اس ملک کے باسیوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جمہوریت کے علم تلے لٹیروں کو منتخب کرنا اور اپنے انتخاب پر مطمئن ہونا بھی ہمارا طرۂ امتیاز تھا اب جو تبدیلی کی ہوا ہے ہم اس سے بھی خوش نہیں۔ ہر ایک شخص اپنے اپنے تئیں یہ ثابت کرنے کی کوشش میں جُتا ہے کہ ''یہ بھی کامیاب نہ ہوں گے، حالانکہ ''یہ'' کامیاب نہیں ہوتے۔ ہم میں سے ہر ایک کی سوچ اور خواہش کامیاب ہوتی ہے۔ عمران خان کو فیثاغورث ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس ملک کے لوگوں کو صرف اپنے لئے ایماندار ہونے کی ضرورت ہے۔ وہ خود اپنے ساتھ وفادار ہو جائیں کیونکہ اس حکومت کو حکومت چلانے کا سلیقہ آئے یا نہ آئے یہ لوگ چور نہیں، لٹیرے نہیں۔ ان کی نیتیں درست ہیں، ان کی سمت درست ہے اور جب کسی کی سمت درست ہو تو کامیابی حاصل ہوہی جاتی ہے۔ آصف علی زرداری کے نامکمل جملے میں جو تکلیف اور پریشانی پنہاں ہے اس میں اس ملک وقوم کیلئے ایک موہوم سی مسرت پنہاں ہے۔ اگر یہ لوگ پریشان ہیں تو پھر یقینی ہے کہ احتساب کی گرفت میں کچھ ایسی سختی ہے جو ان لوگوں کو محسوس ہو رہی ہے۔ آج سے پہلے کبھی ایسا کچھ نہیں ہوا۔ آج تک بے شمار نام نہاد احتساب کئے گئے۔ ان کا کوئی نتیجہ کبھی نہ نکلا، آج پہلی بار ہم ان لوگوں پر اصل گرفت دیکھ رہے ہیں۔ پریشانی کی مجسم صورتیں دیکھ رہے ہیں۔ اگر آج بھی کچھ لوگوں کو اس سارے منظر کی حقیقت پر یقین نہیں تو کوئی بات نہیں، کئی بار خود کو نیکی کی طرف راغب کرنے کیلئے پہلے دکھاوا کرنا پڑتا ہے اور پھر عادت پڑجاتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہاں ایسا ہی کچھ ہو جائے۔ ہمارے لئے اس حقیقت میں بس اتنی ہی سچائی ہو کہ کوئی ہمیں اور نہ لوٹے اور بدعنوانی کرنے والوں کو خوف محسوس ہونے لگے تو میں سمجھوں گی کہ صبح قریب ہے۔ اس کا بھی فائدہ ہوگا۔ بڑے عرصے سے ہم اس اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اب کچھ تو اچھا ہو، چاہے کیسے بھی ہو اور کتنا بھی ہو۔ سوچتی ہوں کہ آصف علی زرداری کے جملے میں کتنی پریشانی محسوس ہوتی ہے اور مولانا فضل الرحمن کے چہرے پر کتنی مایوسی ہے، تو سچ پوچھئے بڑی عجیب سی خوشی کے جگنو چمکنے لگتے ہیں۔ کون جانے یہ تاریکی چھپٹ ہی جائے۔

متعلقہ خبریں