Daily Mashriq

اے این پی کا غیر جمہوری رویہ

اے این پی کا غیر جمہوری رویہ

صوبہ کے پی کے دارالحکومت پشاور میں تحریک آزادی کے وقت سیا ست خالص پشاوری تھی اور تحریک پاکستان کے موقع پر بھی اس شہر کی سیاسی قیا دت خالصتاً پشاوریوں کے ہا تھ میں تھی جس طر ح آج سیا ست کا چلن ہے کہ سیا سی خاندان جنم لیے ہوئے ہیں اگر چہ اس زمانے میں زما م سیا ست نو جوان نسل کے ہا تھ میں تھی تاہم اس جدوجہد میں سیا سی خاندانو ں نے بھی جنم لے لیا تھا ، جو پشاور کے سیا سی جھومر خاندان کہلا تے تھے۔ ان میں نو جوان قیا دت ملک حبیب ، بھارتی اداکا ر شاہ رخ کے تایا غلا م محمد گا ما ، ریتی بازار کا معروف سادات خاندان جس کی قیا دت آغا سید ظفرعلی شاہ فرما رہے تھے، رحیم بخش غزنوی ، شاہ ولی قتال کے عبدالرئوف سیماب ، باچا خان کے داما د یحییٰ جا ن کے بھائی یو نس خان ، حکیم سنجر انی اور پشاور کا ایک اور معروف سادات گھرانہ سید یو سف علی شاہ مر حوم جن کے انتقال کے بعد ان کے بھائی سید علی شاہ نے قیا دت کی۔ خان عبدالقیوم خان ، ارباب نور محمد علا وہ ازیں سابق گورنر فدا خان وغیر ہ شامل تھے۔ یو ں تو درجن بھر نا م ہیں مگر سب کا ایک ہی مرتبہ ذکر ممکن نہیں ہے ، قیا م پاکستا ن سے قبل اس صوبے کی سب سے بڑی جماعت باچا خا ن کی خدائی خدمت گار جما عت تھی بعد ازاں مسلم لیگ کو پذیرائی ملی ، ان سیاسی جھو مر خاندانو ں میں جنرل یحییٰ خان کے دور میں ایک اور سیا سی جھومر خاندان بام سیاست پر نمو دار ہوا وہ بلو ر خاندان کہلا یا ۔ بلور دین گو عملا ًسیاسی نہ تھے مگر ان کی سیا سی پشت پناہی باچا خان کے مکتبہ فکر سے تھی، جنرل یحییٰ خان کے ایک فرزند جلیل حاجی غلا م احمد بلور نے سیا ست میں قدم بڑھا یا اورجب خاندان پر بھٹو کے دور میں افتاد پڑی تو ان کے بھائی بشیر بلور مر حوم نے بھی خاندانی سیا ست میں خلا پیدا ہو نے سے بچانے کے لیے سیاست کو اوڑھنا بچھو نا بنا یا ، جب دونو ں بھائیو ں کو بھٹو مر حوم نے اپنے آمر انہ رویے کی بناء پر زندان میں ڈال دیا تب تیسرے بھائی الیا س بلو ر نے سیا ست میں قدم جمایا ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ قیا م پا کستان کے بعد مسلم لیگ کی قیادت قائد اعظم کے بقول کھو ٹے سکے ثابت ہوئے جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک میں آمر یت کو قدم پھیلا نے کے مواقع ملے بلکہ بانی پا کستان جماعت مسلم لیگ بھی نفاق وعنا د کا شکا ر ہو کر بکھر گئی آج کئی سیاسی فرقو ں میں بٹی ہو ئی ہے ۔باقی مسلم لیگ کا جو مستقبل بچا ہو ا تھا وہ نو از شریف نے پنجا ب تک محدو د کر کے رکھ دیا ہے ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ قیا م پاکستان کے بعد اقتدار میں جو عنا صر معرض وجو د میں آئے ان سب میں ایک بات مشترک رہی کہ انہوں نے باچا خان کی جماعت کو جو مختلف ادوار میں حالا ت کی زد کی وجہ سے مختلف نامو ں سے کا م کرتی رہی اس کو قومی سیا ست میں کر دار ادا کرنے نہیں دیا گیا۔ چنا نچہ یہ ایک بااصول جماعت بھی جس کے اکابرین کاآ ج بھی دعویٰ ہے کہ وہ ایک بااصول ، جمہوری ، ترقی پسند ، اور قوم پر ست جماعت ہے ۔ اگر ان افکا ر کا تجزیہ کیا جا ئے توحیرت ہوتی ہے کہ ایک ترقی پسند جماعت قوم پر ست کیو ں کر ہو سکتی ہے ، جہاں تک اس کے جمہوری رنگ کا سوال ہے تو اس میں دھیما دھیما سا اثر ضرور ہے لیکن ساتھ یہ حقیقت ہے کہ تما م جمہوری اصولو ں کی پا سداری کا روپ اختیا ر کر نے کے باوجو د یہ سو فی صد جمہو ری پارٹی نہیں کہلا سکتی کیو ں کہ اس جما عت پر باچاخان کے خاندان کا گہر ا سایہ ہے جو کسی طور نہیں چھٹ پاتا ، یہ درست ہے کہ اس جماعت کے انٹرا پا رٹی انتخابات باقاعدگی سے ہو تے ہیں ، مگر انتخات انہی کا ہو تا ہے جس کوپیا چاہتا ہے ۔پا رٹی قیادت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو پا تی۔ ایک مرتبہ انقلا بی لیڈر ، غریب پر ور رہنما اجمل خٹک کو پا رٹی کا صدر بنا دیا گیا تھا مگر ان کے زما نہ صدارت میں ان کے ہا تھ پاؤں ایسے کسے رکھے کہ اگلی مرتبہ وہ پا رٹی چھو ڑ گئے اور انہو ں نے اپنی الگ سے جما عت بنا لی مگر پرویز مشرف کے دور میں وہ اسٹیبلشمنٹ کے جھا نسے میں اس بری طرح الیکشن ہار ے کہ اپنی پرانی جما عت کی طر ف رجوع کر نا پڑ گیا ۔ اسی طر ح بلو ر خاندان کی پا رٹی کے لیے خدمات کبھی بھی فرامو ش نہیں کی جا سکتیں یہ کہنے میں یا لکھنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ بلور خاندان نے پارٹی کے لیے باچا خان کے خاندان سے بڑھ کر قربانیا ں دی ہیں انہو ں نے دو شہید و ں کا خون بھی پا رٹی کو نذرانہ کیا ، بھٹو مر حوم کے دور میں جب حیا ت خان شیر پاؤپشاور یو نیو رسٹی کے شعبہ تاریخ کی ایک تقریب میں بم دھما کے میں جان قر بان کر بیٹھے اس کے بعد ان کی پا رٹی کو انتقام کا نشانہ بنا یا گیا۔ کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی کہ رات گئے بھٹو کی فورس ایف ایس ایف کی چھا پہ ما رٹیم نے حاجی غلا م احمد بلور کے گھر زبردستی گھس کر ٹھٹھر تی سردی میں تمام افراد کو جن میں خواتین ، بچے سب شامل تھے کمر و ں سے نکا ل کر باہر لا ن میںکھڑا کر دیا اور گھر کی غیر قانو نی طور پر تلا شی لی اور حاجی غلا م احمد بلو ر کو پکڑ کر نا معلو م مقام پر لے گئے تھے ۔بعدا زاں ان کے بھائی بشیر بلور مر حوم کو بھی گرفتار کر لیا اور یہ دونو ں بھائی آخری وقت تک حیدرآبا دجیل میںولی خان کے ساتھ ہی قیدرہے۔ لیکن اے این پی کی قیادت کو توفیق نہیں ہو ئی کہ ان کی خدما ت کا اعتراف کرتے ہوئے کبھی پا رٹی قیادت ایسے مخلصین کے ہا تھو ں میں دے دیتے ، اس با اصولی جماعت نے یہ اصول بھی قائم کیا جب پا رٹی کے آئین کے تحت اسفندیا ر ولی پارٹی کے مر کزی صدر منتخب نہیں ہو سکتے تھے تو ا س میںترمیم کر ڈالی اور باچاخان کے خاندان کے ہا تھو ں میں ہی پارٹی قیا دت سپر د کردی ۔ بلورفیملی کا ایک المیہ یہ ہے کہ وہ شہر ی (ہندکو بولنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ) ہیں اور اے این پی ایک پختون قوم پر ست جما عت ہے جو پٹھا ن معاشرے کی امین ہے اورپٹھان معاشرے کا اصول ہے کہ اقتدار یا اختیار معاشرے میں زمیندار جو خان کہلاتے ہیں اسی کے ہا تھ میں ہو تا ہے چونکہ بلو ر خاندان کا خوانین سے کوئی علا قہ نہیں ہے چنا نچہ باوجود اپنی قربانیوں کے وہ اس مقام کوپارٹی میں حاصل نہیںکرپا تے جس کو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں