Daily Mashriq

پاک بھارت مغالطے اور مبالغے

پاک بھارت مغالطے اور مبالغے

وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت کے انتخابات میں نریندرمودی کامیاب ہوجاتاہے توبھارت کے ساتھ امن قائم ہونے کے بہتر مواقع پیدا ہونگے اور اگر کانگریس انتخابات میں کامیاب ہو تی ہے تو شاید وہ پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں تھوڑی جھجک کا شکار ہوکیونکہ انہیں دائیں بازو کی جماعتوں کے ردعمل کا ڈر ہوگا ۔حقیقت میںپاکستان اور بھارت مدتوں سے ایک دوسرے کے بارے میں مغالطوں اور مبالغوںکی دنیا میں زندہ ہیں۔ایک موہوم امید پر جس کا خلاصہ'' اگر یوں ہو تو یوں ہوجائے '' کی صورت بیان کیا جاسکتا ہے ۔بھارت اس امید پر اپنے اختلافات اور مسائل کو حل کرنے سے گریزاں رہتا ہے کہ اگر پاکستان میں یوں ہوجائے تو شاید اس کی پسند کا حل برآمد ہو اور پاکستان بھی ہمیشہ سے یہی سوچتا آیا ہے کہ اگر بھارت میں تبدیلی اس شکل میں نمودار ہوتو شاید خطے کی جان کشیدگی کے عذاب سے چھوٹ جائے مگر ہر بار کچھ نہ کچھ ہوجاتا ہے اور امید کی کرن طلوع سے پہلے ہی ڈوب جاتی ہے ۔ایک زمانہ ہوتا تھا کہ جب پاکستان میں یہ خیال بہت گہر ا تھا کہ کشمیر کے تنازعے اور پاک بھارت مستقل کشیدگی کی جڑ بھارت کا نہرو خاندان ہے ۔اس خاندان کے کشمیری النسل پس منظر اور نہرو کے کشمیر کو اپنی محبوبہ قرار دینے کے جذباتی انداز فکر نے ہی کشمیر کے مسئلے کو اُلجھادیا ہے ۔ یہ خاندان سیاسی طور پر کمزور ہوجائے اور جنوبی بھارت کے سیاسی لوگ آگے آئیں تو پاکستان ان کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں بات کر سکتا ہے۔نہرو خاندان سیاسی ہی نہیں عملی طور پر بھی ایک مدت تک منظر سے غائب ہوگیا اورکم وبیش تین عشرے پر محیط اس عرصے میں جنوب سے تعلق رکھنے والے دیوے گوڑا جیسے سیدھے سادے سے ،اندر کمار گجرال جیسے پنجابی بائیں بازو کے دانشور اور حقوق انسانی کے علمبردار اندر کمار گجرال جیسے لوگ بھی وزیر اعظم بنے مگر وہ ہمارے دائو کا شکار ہونے کی بجائے ہم پر دائولگانے کی کوشش کرتے رہے ۔یوں نہرو خاندان کے کمزور ہونے اور بھارتی سیاست میں نئے اور متنوع پس منظر کے حامل کردار اُبھرنے کے باوجود پاکستان اور بھارت میں دیر پااور دائمی استحکام پیدا نہ ہوسکا۔ یہاں تک بھارتیہ جنتا پارٹی سیاسی منظر پر اُبھری جس کی سوچ وفکر کو کانگریس پر ایک نادیدہ دبائو کے طور پر دیکھا اور سمجھا جا رہا تھا ۔یوں ہماری شاخ امید اس منظر کو دیکھ کر خود بخود ہری ہونے لگی کہ اگر ''دبائو '' خود طاقت بن جائے تو شاید پاکستان اس کے ساتھ زیادہ اعتماد کے ساتھ مکالمہ کر سکتا ہے ۔واجپائی کے دور میں یہ تصور کچھ آگے چلا مگر معاملات کی گاڑی بھی لڑھک گئی ۔جن کا خیال ہے کہ معاملات حل ہوچکے تھے وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ کون سے معاملات حل ہورہے تھے اگر کشمیر پر تصفیہ ہورہا تھا تو اس کی اصل شکل کیا تھی ؟خود بھارت کے مغالطے بھی کم نہیں رہے ۔ان کا خیال رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف پاکستانی فوج اور وسطی پنجاب کی دلچسپی کا محور ہے ۔جنوب سے کوئی سیاست دان اُٹھے تو وہ منظر بدل سکتا ہے ۔جنوب کے سیاست دان سے یہ امیداس لحاظ سے محض خودفریبی تھی کہ جنوب سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کی ساری اُٹھان ہی کشمیر پر ہوئی تھی اور وہ کشمیر پر ایک زوردار موقف کے حامل تھے۔اس کے بعد بے نظیر بھٹو بھی کشمیر پر بھارت کی امیدوں کے برعکس موقف اپنا کر بھارت کی امیدوں کو مغالطہ ثابت کر چکی تھیں ۔جس کے بعد ان کا تصور یوں بدل گیا اگروسطی پنجاب سے کوئی لیڈر بھارت سے دوستی اور تجارت کا قائل ہو جائے تووہ اس راہ پر زیادہ اعتماد کے ساتھ بڑے قدم اُٹھا سکتا ہے ۔فوج کے لئے بھی اس لیڈر کے قدموں میں بیڑیاں ڈالنا آسان نہ ہوگا ۔تصور کے اس سراب کا تعاقب اس وقت شروع ہوا جب وسطی پنجاب یا لاہور سے تعلق رکھنے والے میاں نوازشریف پہلی بار پاکستان کے وزیر اعظم بنے ۔اندر کمار گجرال نے ایک موہوم امید پر ذاتی تعلقات کا کارڈ پھینک دیا۔یہ تصور بھی وقت کی بساط پر لپٹ گیا تو ایک اور موہوم امید بندھ چلی اگر پاکستان میں اقتدار اور اختیار کا اصل سرچشمہ سمجھی جانے والی فوج براہ راست اقتدار میں ہو تو وہ بھارت کو رعایتیں دے کر جنوبی ایشیا کو کشمکش کی صلیب سے اُتار سکتی ہے ۔پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو بھارتی دانشوروں نے ان کا سہرہ لکھنا شروع کیا ۔تعریفوں کے پل باندھے جا نے لگے اور نوازشریف کی طرح نہر والی حویلی کے ذاتی تعلق ڈھونڈے اور تراشے جانے لگے ۔پرویز مشرف ایک حد تک آگے چلے اور لڑکھڑا کر گر پڑے۔اب جبکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی کھیتی بھسم ہو چکی ہے ۔رہے سہے رابطے ٹوٹ چکے ہیں ۔ تعلقات کے کمزورتار کمزور تر ہو چکے ہیں یا مکمل ٹوٹ چکے ہیں مگر بھارت میںامید مغالطے اور مبالغے کی یہ چنگاری راکھ کی تہہ میں موجود ہے کہ اگر پاکستان میں فوج اور سویلین حکمران ایک صفحے پر ہوں تو ان سے معاملات طے کرنے میں زیادہ آسانی ہو سکتی ہے۔اب ان کا خیال ہے کہ عمران خان وہ شخصیت ہیں کہ جو ایک صفحے کے معیار پر پورا اُتر رہے ہیں۔کچھ ایسی ہی امید کا اظہا ر عمران خان نے بھی کیا کہ مودی خود بھارت میں موجود وہ دبائو ہیں جو کانگریس کو ہمیشہ بڑے فیصلوں سے روکے ہوئے ہے ۔یہ خوش امیدی کوئی نئی نہیں ماضی میں بھی پاکستان اسی کا شکار رہا ۔جب بھی وقت کا پردہ سرک گیا تو حالات اس کی تصویر بن چکے تھے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں