ترے وعدے پرجئے ہم ؟

ترے وعدے پرجئے ہم ؟

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اس اعلان کی روشنائی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی کہ اس سال کے اواخر میں نومبر کے مہینے تک ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا ، کہ اچانک صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں لوڈشیڈنگ میں بے دریغ اضافہ کرتے ہوئے اسے 18گھنٹوں تک پہنچا دیا گیا ہے ، جبکہ گرمی کی شدت میں بے پناہ اضافہ سے عام لوگوں کی حالت بھی خراب ہوتی جارہی ہے ۔ اگر وزیرا عظم اس قدر یقین کے ساتھ آنے والے دو تین ماہ میں لو ڈ شیڈنگ پر قابو پانے اور اس کے مکمل خاتمے کا دعویٰ کررہے ہیں تو اس سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ ملک میں مسلم لیگ کی موجودہ حکومت نے اب تک اس حوالے سے جو اقدام اٹھائے ہیں ان کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ میں وزیر اعظم کی جانب سے ٹارگٹ ڈیٹ تک بتدریج کمی ہونی چاہیئے ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ جو ادارہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے عوام کو نجات دلانے کا ذمہ دار ہے اس نے وزیر اعظم کو یا تو درست معلومات فراہم نہیں کیں اور محض عوام کو خوش کرنے کے لئے وزیرا عظم کو اگلے دو تین ماہ تک ایک ایسا اعلان کرنے پر مجبورکر دیا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یا پھر اس ادارے کے اندر ایک ایسی لابی موجود ہے جو موجودہ حکومت کو عوام میں بد نام کرنے کے لئے جان بوجھ کر لوڈ شیڈنگ بڑھانے کی سازش میںملوث ہے ، صورتحال جو بھی ہو اس کا نتیجہ عوام کے اندر منفی تاثر ابھارنے کا باعث بن سکتا ہے ۔ بد قسمتی سے صوبہ خیبر پختونخواجو پہلے ہی ملک میں سب سے زیادہ پن بجلی پیدا کرتا ہے ، لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے سب سے زیاد ہ مشکل میں ہے اور قومی گرڈ سے اسے اپنے کوٹے کے مطابق بھی بجلی فراہم نہیں کی جاتی ، چہ جائیکہ اگر اسے اپنی پوری بجلی ملے تو وہ اس کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے ، جبکہ بجلی کی پیداوار میں صوبے کا حصہ بتدریج بڑھ رہا ہے اور جن چھوٹے منصوبوں کو تکمیل تک پہنچا یا گیا ہے یا مزید ایسے منصوبے بن رہے ہیں جہاں پانی کے چھوٹے آبشاروں کو جنریٹ کر کے بجلی پیدا کرنے کی سعی کی جارہی ہے ان کی وجہ سے صوبہ پہلے سے بھی زیادہ بجلی پیدا کرکے قومی گرڈ کو فراہم کر د ے گا ، اس کے باوجود خیبر پختونخوا کو شدید لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کر نے کا کوئی جواز نہیں ہے اور صوبائی حکومت کو بھی اس صورتحال کا نوٹس لے کر پیسکو حکام کے ساتھ رابطہ قائم کر کے اس مشکل کا مناسب حل ڈھونڈ نے کی سعی کرنی چاہیئے ۔
پشاور کی خوبصورتی ۔۔ایک سوالیہ نشان ؟
خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ پشاور شہر میں فضلہ و کوڑا کرکٹ کو جدید سائنسی طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے لئے موثر اقدامات کئے جارہے ہیں جس سے صوبائی دارالحکومت میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے ساتھ شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا ، یہ بات انہوں نے پشاور میں چینی کمپنی کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہی ، امر واقعہ یہ ہے کہ پشاور میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے لئے گزشتہ کئی سال سے مختلف صوبائی حکومتوں کے ادوار میں مختلف غیر ملکی اداروں کے ساتھ معاہدے سامنے آئے ، اس ضمن میں ترکی کی کمپنی کے ساتھ بھی چند سال پہلے شہر سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے اس سے بجلی پیدا کرنے کے ایک منصوبے کا معاہد ہ بھی سامنے آیاتھا مگر اس کا بالآخر کیا حشر ہوا ، شہر کے باشندوں کو آج تک کچھ علم نہیں ہو سکا ، دوسری جانب کوڑا کرکٹ اور گندگی کا باعث بننے والے پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کی تیاری اور خرید و فروخت پر حکومت کی جانب سے پابندی عاید ہونے کے باوجود خود غرض اور مفاد پرست تاجر اور صنعتکارعدالت سے سٹے آرڈر ز لیکر صرف تجوریاں بھرنے کی لالچ میں پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں ، تاہم صوبائی اسمبلی بھی بہت حد تک اس صورتحال کی ذمہ دار ہے کہ شاپنگ بیگز کی تیاری اور فروخت پر پابندی کا قانون اب تک نہیں بنایا جا سکا تاکہ اس عذاب سے عوام کی جان چھوٹ سکے ۔ اس صورتحال سے شہر میں ماحولیاتی آلودگی میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے ۔ دوسری جانب شہر میں جو فلائی اوور تعمیر کئے گئے ہیں ان کی دیواروں کے ساتھ مصنوعی پھولوں کے گملے لٹکا کر شہر کے ماحول کو مصنوعی طور پر خوبصورت بنانے پر بھی کروڑوں روپے ضائع کردیئے گئے ہیں تاہم وہ جو سیانے کہہ گئے ہیں کہ خوشبو آنہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے ، اس لئے جب کوئی بھی صوبائی حکومت پشاور کے عوام کو شہر کے ماحول کو خوبصورت بنانے اور سالڈ ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کی خوشخبری سناتی ہے تو اس پر عوام کسی بھی صورت اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور خدشہ ہے کہ جس طرح سابقہ دور میں ترکی کی کمپنی کے ساتھ معاملات طے نہیں ہو سکے تھے کہیں ایک بار پھر وہی صورتحال پیدا نہ ہو جائے ۔

متعلقہ خبریں