Daily Mashriq


امریکی صدر کا ایک اور عاجلانہ فیصلہ

امریکی صدر کا ایک اور عاجلانہ فیصلہ

سوچ بچار کی بجائے اچانک فیصلہ کرنے کی شہرت رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ایسے فیصلے سے پاکستان اور امریکہ کی فوج کے درمیان رابطہ کو کمزور کرنے کی جو غلطی کی ہے پاکستان کے پاس اس کے متبادل موجود ہیں لیکن اس سے دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان مفاہمت کی جو فضا ہوگی ضرور متاثر ہوگی جس کا ازالہ مدتوں ہی شاید ہو سکے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے فوجی افسران کی تربیت کیلئے فنڈز کی فراہمی سے ا نکار کے بعد امریکی تربیتی اداروں میں آئندہ تعلیمی سال کیلئے پاک فوج کیلئے مختص 66نشستیں خالی رہ جائیں گی۔ امریکی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی این ڈی یو ان متعدد تربیتی اداروں میں سے ایک ہے جہاں پاکستان کے فوجی افسران کو تربیت کی فراہمی کیلئے گزشتہ ایک دہائی سے یہاں نشستیں مختص تھیں۔ واضح رہے کہ رواں برس کے آغاز میں ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو سیکورٹی کی مد میں دی جانے والی امداد میں کٹوتی کا اعلان کیا تھا لیکن پاکستانی فوجیوں کا تربیتی پروگرام جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ جسے اب ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے1990کے اوائل میں اور ایٹمی دھماکوں کے موقع پر پاکستان سے سیکورٹی تعلقات منقطع کر دئیے تھے لیکن بعد میں امریکی عہدیداروں نے اسے غلطی قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے طالبان القاعدہ اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع ملا۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ1960سے امریکہ پاکستان کے فوجی افسران کو عسکری تعلیم وتربیت فراہم کرتا ہے، یہ سلسلہ1990میں منقطع کر دیا گیا تھا تاہم 11ستمبر2001 کے بعد دوبارہ شروع کر دیا گیا تھا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کیمطابق اس ضمن میں امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں تشویش ہے کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی۔ دوسری جانب پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کی وجہ سے انہیں تربیت کیلئے چین اور روس کی جانب رجوع کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ امریکی فوجی تربیت حاصل کرنے والوں میں سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور انٹرسروسز انٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی) کے حالیہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار بھی شامل ہیں۔ امریکی صدر کے اس اقدام کو خود امریکی دفاعی عہدیدار کن نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور ماضی میں اس قسم کے اقدمات کے نتائج کیا برآمد ہوئے تھے اس کے تناظر میں خود امریکی عہدیدار ہی اسے غلطی گردانتے ہیں۔ لہٰذا اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی حاجت نہیں البتہ اس کے مزید اثرات سے صرف نظر ممکن نہیں یہ دونوں ملکوں کے درمیان صرف فوجی افسران کی تعلیم وتربیت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاک فوج اور یو ایس آرمی کے درمیان تعلقات کا سوال ہے۔ جہاں تک امدادی رقم کی معطلی کا سوال ہے ہمارے تئیں نہ تو یہ کوئی بڑا مسئلہ ہے اور نہ ہی اس سے کوئی فرق پڑے گا جہاں تک تعلیم وتربیت کا سوال ہے اولاً پاک آرمی کو اس کی زیادہ ضرورت نہیں اور جہاں ضروری ہوا تو یہ ضرورت باآسانی متبادل ذرائع سے پوری کی جا سکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جدید نوعیت کی اس تعلیم وتربیت سے ہٹ کر اگر عملی طور پر دیکھا جائے تو اس وقت ہماری فوج کسی بھی بڑی فوجی طاقت کے حامل ملک کے ہم پلہ ہے جبکہ ہماری فوج حالیہ سالوں میں جن حالات اور تجربات سے گزری ہے اور عملی طور پر جن سخت حالات کا سامنا کیا ہے کسی بھی دوسرے ملک کی فوج کے پاس یہ تجربہ نہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہر سطح اور شعبے میں تعلقات میں جو بتدریج کمی اور تبدیلی آرہی ہے اس کی مشکلات سے قطع نظر اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ پاکستان پر امریکی اثرات کی چھاپ ہٹتی جا رہی ہے اور ہمارے حکمرانوں اور فوجی قیادت کو بہتر مواقع کی تلاش کیساتھ آزادانہ فیصلوں کا موقع مل رہا ہے۔ ٹرمپ کے اس تازہ اقدام سے پاک فوج اس سلسلے میں ایک قدم اور آگے بڑھ کر چلیں اور روس کیساتھ مختلف سطح پر معاملات کو آگے بڑھائے گی۔ جس ملک سے تربیت حاصل کی جائے اس ملک کو اسلحہ کے حصول میں بھی اولیت ملنا فطری امر ہوگا۔ اس طرح سے امریکہ پر سے دفاعی شعبے میں پاکستان کا انحصار مزید کم ہوگا جس کے اثرات سے خود امریکہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پاک فوج کی قیادت کو اس موقع کو قدرت کی طرف سے ایک اچھا موقع ملنے کی طرح سے لیتے ہوئے بہتر متبادل کے حصول کا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور مزید کس حد تک امریکی بیساکھیوں کو پھینک دینے کی گنجائش ہے اس پر پوری طرح غور کرکے فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس بظاہر مشکل نظر آنے والے حالات میں ہماری عسکری قیادت حسب روایت ایسا فیصلہ کرے گی کہ یہ منفی اور مشکل کی بجائے ایک زریں موقع بن جائے گا۔

متعلقہ خبریں