Daily Mashriq

نجی سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کا معاملہ

نجی سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کا معاملہ


خیبر پختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے صوبہ بھر کے تمام پرائیویٹ سکولز مالکان اور انتظامیہ کیلئے ٹیوشن فیس میں سالانہ دس فیصد سے زائد اضافہ نہ کرنے سمیت کتب اور یونیفارم کی فراہمی کے سلسلے میں جاری شدہ رہنما اصولوں پر عملدرآمد کیسے ہوگا اور ان پر عملدرآمد کون کرائے گا اس سوال کا جواب اتھارٹی کے حکام ہی دے سکتے ہیں۔ اگر معروضی حقائق اور مشاہدے وتجربات کی بناء پر اس سوال پر غور کیا جائے تو اس سوال کا جواب کئی وجوہات کے باعث یہ ہدایت نامہ جاری کرنے والوں کے اپنے پاس بھی نہیں۔ بہرحال اعلامیہ کے مطابق نجی سکولوں کی ٹیوشن فیسوں میں سالانہ دس فیصد سے زیادہ اضافہ نہیںکیا جائیگا جبکہ ایک ہی سکول میں ایک سے زائد بہن بھائیوں کو فیس میں بیس فیصد سے زیادہ رعایت دی جائے گی۔ داخلہ کے وقت یا بعد میں داخلہ فیس بھی وصول نہیں کی جائے گی ۔ اعلامیہ کے مطابق کسی بھی صورت ایک ہزار یا اس سے زائد رقم بینک اکاؤنٹ کے تحت وصول کی جائے گی اور اس سلسلے میں نقد پیسے وصول نہیں کئے جائیں گے۔ اس طرح ایک ہی اہلیت کے تمام اساتذہ کو معاوضہ تنخواہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق دیا جائے گا اور ادارے کے ملازمین کو تنخواہیں بھی صرف بینک اکاؤنٹ کے ذریعے دی جائیں گی جبکہ ملازمین کو بروقت تنخواہیں نہ دینے پر فوری کارروائی ہوگی۔ اعلامیہ کے مطابق اساتذہ کو ملازمت دیتے وقت تحریری معاہدہ کیا جائے گا۔ ایسے طلباء کو سکول لیونگ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار نہیں کیا جائیگا جو فیس جمع نہ کرنے کی وجہ سے خارج کئے گئے ہوں۔بصد احترام اور پیشگی معذرت کیساتھ امر واقع یہ ہے کہ نجی سکول مالکان خود کو کسی ریگولیٹری اتھارٹی تو درکنار کسی اعلیٰ عدالت کے احکامات کے پابند بھی عملی طور پر نہیں سمجھتے۔ اس ضمن میں مزید کسی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں جبکہ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے احکامات بلکہ ہدایات اور گزارشات کو کسی طور خاطر میں نہ لانے کا رویہ تو تقریباً یقینی ہے۔ اسی طرح کی صورتحال صرف خیبر پختونخوا ہی میں نہیں ملک بھر میں یہی کیفیت ہے۔ گزشتہ روز عدالتی فیصلے کا باقاعدہ حوالہ دے کر والدین اور نجی سکولوں کے حوالے سے قانونی صورتحال کی وضاحت سامنے آچکی ہے۔ اس قسم کا ایک وضاحتی اشتہار جاری کرکے خیبر پختونخوا نجی سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو تعطیلات کے اختتام پر رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کی ضرورت تھی مگر اب بھی تاخیر نہیں ہوئی ہے۔ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ عدالتی فیصلے بلکہ سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کو واپس ہائیکورٹ بھجوانے کی صورتحال کی نجی سکولز مالکان اپنی تشریح کر رہے ہیں اور والدین کا موقف دوسرا ہے۔ محولہ اشتہار کے مطابق تو والدین جمع شدہ نصف فیسوں کے علاوہ اضافی فیس جمع کرانے کے پابند نہیں جبکہ نجی سکولز مالکان نہ صرف مزید آدھی فیسیں جمع کرانے کیلئے والدین پر دباؤ ڈال رہے ہیں بلکہ نئے سیشن کی ابتداء سے فیسوں میں اضافہ بھی لاگو کرکے بقایاجات کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں چونکہ یہ معاملہ قانونی نکات کی تشریح کا ہے اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ اس ضمن میں ریگولیٹری اتھارٹی ہی فریقین کی رہنمائی کرے اور قانونی پوزیشن بتائی جائے۔ جہاں تک خیبر پختونخوا سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے جاری کردہ دیگر ہدایت نامے کا تعلق ہے اس کے والدین اور طلبہ کے مفاد میں ہونے اور نجی سکولوں کے اساتذہ کے حقوق کا تحفظ کے حوالے سے نافع ہونے میں شبہ نہیں لیکن اس پر عملدرآمد کیسے ہوگا اور کون کرائے گا؟ جیسے سوالات اٹھتے ہیں۔ نجی سکولوں میں طلبہ کے والدین کا استحصال اضافی رقوم کی وصولی ان کو مخصوص اشیاء مقررہ جگہوں سے خریدنے کی شرائط اپنی جگہ لیکن المیہ یہ ہے کہ حیات آباد اور یونیورسٹی ٹاؤن جیسے علاقوں میں واقع معروف سکولوں میں سائنس اور انگریزی کے اساتذہ تو درکنار اردو کا استاد بھی کسی قابل نہ ہونے کی شکایات ہیں جبکہ بعض نجی سکولوں میں تعلیمی بورڈوں کے کم صلاحیت اور عدم تجربہ کے حامل افراد کو میٹرک جیسی اہمیت کی حامل کلاسوں میں تدریس کی ذمہ داری دے دی جاتی ہے اور اس بارے طلبہ کی شکایت بھی نہیں سنی جاتی۔ فیسوں کی نقد وصولی کا نظام کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اتھارٹی حکام سکولوں کی فیسوں کی وصولی کا نظام دیکھیں تو معروف سکول فیسوں کی نقد وصولی کے مرتکب پائے جائیں گے۔ نجی سکولوں کے اساتذہ کی نہ تو تقرری کا کوئی معیار ہے اور نہ ہی ان اساتذہ کو تحفظ اور مناسب ماحول ملتا ہے ان کو تنخواہوں کی ادائیگی کی سلپ پر تنخواہ کم وصول کرکے زیادہ تنخواہ کی وصولی کی رسید پر دستخط کرنا ہوتا ہے۔ بنک کے ذریعے تنخواہیں دینے کا تکلف بھی کم ہی سکول کرتے ہیں۔ نجی سکولوں کے معاملات اساتذہ کے مسائل اور الدین وطلبہ کی مجبوریوں اور مشکلات کا مکمل تدارک کرنے کی امید ریگولیٹری اتھارٹی سے وابستہ کرنا تو حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا لیکن ان سے یہ توقع ضرور وابستہ کی جاسکتی ہے کہ جو ہدایت نامہ انہوں نے ازخود جاری کیا ہے اس پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرانے کی سعی کرکے وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور طلبہ ووالدین کے حقوق کا پوری طرح تحفظ ممکن نہ ہو تو حتی الوسع ایسا کرنے کی کوشش ضرور کی جائے۔

اداریہ