Daily Mashriq


پاک امریکہ مشترکہ فوجی تربیت کے پروگرام کا خاتمہ

پاک امریکہ مشترکہ فوجی تربیت کے پروگرام کا خاتمہ

امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے خاموشی کے ساتھ پاکستان کے فوجی افسروں کی امریکی اداروں میں تربیت کا پروگرام ختم کر کے پاکستان پر افغانستان میں اس کے مقاصد کے لیے فوجی مداخلت سے اجتناب کے خلاف ردِعمل کے اظہار کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کو آگے بڑھایا ہے۔ امریکہ کی طرف سے یہ اصرار ایک عرصے سے جاری ہے کہ پاکستان افغانستان میں اس کے مقاصد کے لیے پاک فوج کو استعمال کرے تاہم جب سے صدر ٹرمپ برسراقتدار آئے ہیں ایک طرف اس اصرار میں شدت آئی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے خلاف ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کے دباؤ میں آ کر پاکستان امریکہ کے منصوبے کا حصہ بن جائے۔ پاکستان کی فوجی امداد میں کمی دہشت گردی کے خلاف تعاون کے حوالے سے حاصل ہونے والی رقم میں کمی اس کی بین مثالیں ہیں اور حال ہی میں جب پاکستان میں یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سابقہ حکومت نے جس طرح پاکستان کی معیشت کو مقروض چھوڑا ہے اس کے ازالے کے لیے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پروگرام حاصل کرنا پڑے گا ' تو صدر ٹرمپ نے آئی ایم ایف کو خبر دار کیا کہ پاکستان کو ایسا کوئی قرضہ نہ دیا جائے جس میں امریکی ڈالر چین کو پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی میں کم آئیں حالانکہ اس میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ پاکستان کی طرف سے چین کو فی الحال کوئی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ اس سے ایک طرف امریکہ میں عقابی عنصر اور دوسری طرف بین الاقوامی سیاست میں اس بیان سے کیا نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ امریکہ اس سے ناراض ہے اور اس ناراضگی کی وجہ سب کو معلوم ہے کہ امریکہ ایک عرصے سے پاکستان سے افغانستان میں اپنے مقاصد کے لیے ڈومور کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے اور پاکستان کا جواب ہے کہ ''نو مور ڈو مور'' ۔ اس جواب کی وجوہ اصولی ' منطقی اور حقیقی ہیں۔ پاکستان سب ممالک کی سرحدوں کے احترام کا پابند ہے اور کسی ملک میں فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتا۔ دوسرے پاکستان افغانستان کا ہمسائیہ ملک ہے ۔ ان دونوں ملکوں کے عوام کے صدیوں پر محیط تعلقات ہیں ' اس اعتبار سے پاکستان سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا کہ افغان تنازع کا حل جنگ میں نہیں بلکہ مصالحت اور مذاکرات میں ہے۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ کے افغانستان میں مقاصد محض امن ہوں تو یہ بات سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ امریکی فوج اپنے اتحادیوں کی عسکری قوت کے تعاون کے باوجود سولہ سال سے افغانستان میں جو فتح حاصل نہ کر سکا وہ آئندہ بھی کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ افغانستان کا تنازع افغانوں کا داخلی مسئلہ ہے۔ اسے افغانوں کی قیادت ہی حل کر سکتی ہے ۔ اس حل کے دیرپا ہونے کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ یہ تنازع افغان فریق ہی حل کریں ۔ کوئی اور اس میں معاونت تو فراہم کر سکتا ہے اس میں دخیل نہیںہو سکتا۔ پاکستان کے اس اصولی مؤقف کو سمجھنے میں امریکہ اگر ناکام ہے تو اس کی وجوہ افغانستان میں امن و استحکام کی خواہش کی بجائے کچھ اور ہو سکتی ہیں۔ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس حالیہ اقدام کو جس کے تحت پاک فوج کے افسروں کی امریکی اداروں میں ٹریننگ پر پابندی لگائی گئی ہے خود امریکہ میں پسند نہیں کیا جا رہا۔ اس پروگرام کے تحت اس سال پاک فوج کے 66افسروں کو ٹریننگ دینا مقصود تھا۔ فوجی افسروں کا یہ تربیتی پروگرام 2003ء سے جاری ہے اور اب امریکہ کے دفتر جنگ کا کہنا ہے کہ یہ 66پوزیشنیں یا تو خالی رہیں گی یا دوسرے ممالک کے افسروں کو دے دی جائیں گی۔ یہ تربیتی پروگرام کیا ہوتا ہے اس کے بارے میں فوجی ماہرین ہی رائے دے سکتے ہیں تاہم یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس میں نئے اسلحہ اور نئی جنگی تکنیک کی تربیت دی جاتی ہو گی۔ دفاع کے تقاضے' روز بروز نئی اختراعات اور نئے حالات اور رویوں کے حوالے سے بدلتے رہتے ہیں ' ان کا احاطہ کیا جاتا ہوگا۔ خاموشی سے اس پروگرام پر پابندی لگانے سے چند روز پہلے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی خلائی فوج قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اور امریکہ کی افواج میں اس پر رابطے اور مکالمے بھی شروع ہو چکے ہیں ۔ صدر ٹرمپ ایک بار پھر امریکہ کو واحد سپر پاور بنانے کی خواہش میں دنیا کو سرد جنگ کے ماحول میں مبتلا کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ اس لحاظ سے امریکہ کے اس اقدام کے باعث دنیا بھر میں خلائی جنگ اور خلائی فوج پر توجہ منعطف ہو گی۔ صدر ٹرمپ نے یہ تاثر دیا ہے کہ روس اور چین پہلے ہی اس طرف پیش رفت کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس امکان پر غور کیا جا سکتا ہے کہ اس ٹریننگ پروگرام میں بھی خلائی فوج ' اس کے اسلحہ اور فوجی حکمت عملی کے موضوعات اگر ٹریننگ پروگرام کے حصے کے طور پر سامنے نہیں آئیں گے تو شرکاء کے درمیان موضوع گفتگو ضرور ہو سکتے ہیں۔

رہی فوجی افسروں کی تربیت کی بات تو ہر ملک کی فوج اپنے افسروں کی تربیت کا پروگرام رکھتی ہے ۔ جدید اسلحہ اور تکنیک پر سبھی کی نظر ہو تی ہے۔ سینیٹ میں دفاعی سب کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین نے امریکہ کے اس فیصلہ کو پاکستان کے لیے امریکہ کی ''سزا'' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں روس اور چین کے ساتھ اسی نوعیت کے انتظامات کر چکا ہے۔ اہم عہدوں پر فائز حاضر سروس اور سابق امریکی کہہ رہے ہیں کہ اس اقدام سے پاکستان کا روس اور چین کی طرف جھکاؤ بڑھے گا۔ تاہم اس اقدام سے پاکستان اور امریکی افسروں کے درمیان جو تعلقات قائم ہو جاتے تھے اور مستقبل میں جو تعارف ان کے کام آتا تھا' صدر ٹرمپ نے یہ امکان ختم کر دیا ہے ۔ اس سے اتنا ہی نقصان امریکی فوج کا بھی ہو گا جتنا ٹرمپ کے مشیروں کے نزدیک پاکستان کا ہو سکتا ہے ۔ بلکہ روس اور چین کی طرف رجوع کرنے سے پاک فوج کی تربیت امریکی اور روسی تربیت کے تجربے دونوں سے لیس ہو جائے گی۔

متعلقہ خبریں