Daily Mashriq


سیاست' بذلہ سنجی اور زبان وبیان

سیاست' بذلہ سنجی اور زبان وبیان

بذلہ سنجی ہماری سیاست کا جز ولازم ہے۔ ہر دور میں کوئی نہ کوئی ایسا لیڈر ضرور موجود رہا ہے جس کے دم سے نہ صرف پارلیمنٹ کے مختلف ایوانوں میں قہقہے گونجتے رہے ہیں بلکہ ان کی نجی محفلوں سے باہر آنے والی خبروں سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ طنز ومزاح کا کوئی لمحہ ضائع کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ انہی میں ایک جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان اور ایم ایم اے رابطہ کمیٹی کے سربراہ حافظ حسین احمد بھی ہیں جن کے اگر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مختلف ٹی وی ٹاک شوز' پریس کانفرنسوں میں ادا کئے ہوئے جملوں کو اکٹھا کیا جائے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ لطیفوں کی ایک پوری کتاب مرتب ہوسکتی ہے۔ اب ملک خصوصاً بلوچستان میں سیاسی حالات پر جو تبصرہ انہوں نے کیا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔گزشتہ روز کوئٹہ میں جامعہ مطلع العلوم میں مختلف وفود کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ ''رند'' کو ویسے بھی ''جام'' پسند ہے۔ البتہ اب ''ان'' کی سرپرستی نے ''جام'' کو باکمال بنا دیا ہے۔ بھان متی کے کنبے کو جوڑنا ''ان'' کیلئے آسان ہے مگر اسے متحد ومتفق رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ حافظ صاحب کے ان الفاظ کو بلوچستان کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی ذہانت کی داد دینا پڑتی ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت وہاں یار محمد رند کی سرپرستی میں جام کمال کو بلوچستان میں حکومت سازی میں اہمیت دی جا رہی ہے اور جس طرح بعض قوتیں جنہیں حافظ صاحب نے ''ان'' کے نام سے موسوم کیا ہے اس کارخیر میں آگے آگے بتائی جاتی ہیں۔ ان ہی کے حوالے سے حافظ صاحب نے کہا ہے کہ اس بھان متی کے کنبے کو آگے جاکر متحد ومتفق رکھنا ''ان'' کیلئے ممکن نہیں رہے گا۔ اب اس سارے بیان میں یار محمد رند اور جام کمال کے ناموں سے جو فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے جملے چست کئے ہیں یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ تاہم اس کیساتھ اگر وہ یہ مصرع بھی شامل کر دیتے تو سونے پر سہاگہ والی کیفیت ہوتی کہ

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

الفاظ کیساتھ کھیلنے کا فن ہر کوئی نہیں جانتا۔ اس ضمن میں مرزا غالب کو جو مہارت حاصل تھی وہ ضرب الامثال کی صورت اردو ادب کا حصہ ہے۔ جیسا کہ ایک بار کسی نے مرزا سے عید کے بعد پوچھا مرزا کتنے روزے رکھے جواب دیا' ایک نہیں رکھا۔ اس جواب میں جو شوخی' شرارت اور فکر کی طنازی پوشیدہ ہے وہ تو زبان پر عبور رکھنے والے ہی جانتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات سیاسی حلقوں میں ایسے لوگ بھی سامنے آجاتے ہیں جن کی عقل کا ماتم کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً ایک بار سابق وزیراعلیٰ سندھ مرحوم جام صادق علی کے پاس کسی کام سے ایک شخص آیا' اس دورکے ایک وزیر امتیاز احمد شیخ خوشامد میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ وہ ایک ٹرے میں کچھ فائلیں اٹھا کر لائے جبکہ چائے کی ٹرے اچانک اس کے ہاتھ سے گر گئی تو فائلیں بکھر گئیں۔ امتیاز شیخ نے گھبرا کر فائلیں اٹھا لیں اور باہر نکل گیا تو جام صادق علی نے ملاقاتی سے کہا کہ یہ بڑا اچھا انسان ہے۔ انگلینڈ میں اس نے میرا بڑا خیال رکھا وغیرہ وغیرہ۔ اس محفل میں کابینہ کے اور لوگ بھی موجود تھے ان میں سے ایک ''عقل کل'' نے اگلے روز امتیاز شیخ سے کہا کہ تمہیں کابینہ سے فارغ کیا جا رہا ہے کیونکہ کل تمہارے کمرے سے نکلنے کے بعد وزیراعلیٰ نے حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم عوام کی بلاامتیاز خدمت کریں گے۔ بے چارہ امتیاز شیخ پریشان ہوگیا گویا یہ بالکل ویسی ہی صورتحال تھی جیسے کہ مرزا غالب نے روزوں کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے سوال کرنے والے کو لاجواب کر دیا تھا کہ ایک نہیں رکھا۔ اب یہ تو سوال کرنے والے کی ذہنی استعداد پر منحصر تھا کہ وہ اسے صرف ایک نہیں رکھا یا پھر ایک بھی نہیں رکھا میں سے جو چاہتا سمجھ لیتا۔ اسی طرح اس ''عقل کل'' نے عوام کی بلاامتیاز خدمت کو امتیاز شیخ کے بغیر عوام کی خدمت سمجھ کر بے چارے کو بلاوجہ پریشان کر دیا تھا۔

تفاوت است میان شنیدن من و تو

تو بستن در و من فتح باب می شنوم

سیاسی رہنماؤں کی اس بذلہ سنجی میں بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار اسلم رئیسانی بھی کسی سے کم نہیں تھے۔ انہوں نے بھی ایک بار اپنی ''ذہانت'' کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈگریوں کے حوالے سے جو تاریخی جملہ ادا کیا تھا اس کی گونج نہ جانے کب تک سیاسی فضاؤں میں چھائی رہے گی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اراکین پارلیمنٹ کیلئے ڈگری لازمی قرار دی گئی تھی اور جنرل (ر) مشرف کے دور میں اس قانون کے اطلاق سے سب سے زیادہ خطرات ایم ایم اے کے ممبران پارلیمنٹ کو لاحق ہوئے تھے۔ اگرچہ دیگر ممبران کی ڈگریوں کی بھی انکوائری کروائی گئی اور جس کی ڈگری ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق پانے میں ناکام رہتی تو اس کی ممبرشپ ختم کردی جاتی۔ ایم ایم اے کے اراکین کی غالب اکثریت چونکہ مدارس کے پڑھے ہوئے تھے اس لئے جنرل( ر) مشرف قانون سازی میں ایم ایم اے اراکین کی جانب سے روڑے اٹکانے کے بدلے ان کی اسناد کی تصدیق کے حوالے سے عدلیہ میں قائم مقدمے کی تاریخ مقرر کروا لیتے۔ یوں وہ خاموشی سے متعلقہ بل پاس کرنے پر آمادہ ہو جاتے۔ ایسے ہی مسائل میں گھرے ہوئے جعلی ڈگری ہولڈروں کی حمایت کرتے ہوئے سردار اسلم رئیسانی نے جو جملہ کہا تھا وہ آج بھی ہماری سیاسی پارلیمانی تاریخ میں بطور یادگار درج ہے کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو کہ جعلی''۔ سبحان اللہ۔

متعلقہ خبریں