Daily Mashriq

جواب کڑوے تو ہوں گے

جواب کڑوے تو ہوں گے

مکرر عرض ہے انتخابی نتائج پر تحفظات اور شکایات کو دفن کرنا ممکن ہے نا ہا ہا کاری سے حقائق بدل سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا 1993ء سے 2013ء (ماسوائے 2002ئ) تک انتخابات میں ہوئی دھاندلیوں اور اسٹیبلشمنٹ کی مہربانیوں سے اقتدار کے موسم کے مزے لینے والی نون لیگ کی قیادت اس ملک کے رائے دہندگان سے ان کا فیصلہ چرائے جانے پر معافی طلب کرے گی؟ کیا اب ہم بھول جائیں کہ اسلامی جمہوری اتحاد نے کس افسر کے گھر پر جنم لیا تھا۔ گھوسٹ پولنگ اسٹیشنوں والی واردات بھی بھلا دی جائے۔ یہ بھی بھول جائیں کہ 2008ء میں پنجاب سے پیپلز پارٹی کی قومی اسمبلی کی 12 اور 2013ء میں 25نشستیں چوری ہوئیں۔ آزاد امیدواروں کو ڈی سی اور ڈی پی او صاحبان جیپوں میں لاد کر دربار شریف میں پہنچایا کرتے تھے۔ جناب نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے 1988ء سے 1999ء کے درمیان محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کی والدہ محترمہ بارے جو زبان استعمال کی وہ زبان ان کی اپنی ہی تھی۔ نواز شریف محترمہ بینظیر بھٹو کو بھارت نواز سیکورٹی رسک قرار دیتے تھے۔ ہائے آج وہ اس منصب پر فائز قرار دئیے جا رہے ہیں۔ طالب علم کی رائے میں محترمہ بینظیر بھٹو پر شریفوں کے الزامات سیاپا تھے اور آج نواز شریف پر غداری سمیت چند مذہبی الزامات یکسر غلط ہیں۔ تاریخ وتجزیہ کی عمارت نفرت پر نہیں اٹھائی جاسکتی۔ نواز شریف سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ بارے جو کچھ کہتے رہے ویسے ہی خیالات جناب عمران خان بھی ظاہر کرچکے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ اس ملک میں اداروں کو اپنی آئینی حدود سے باہر جا کر کھیلنے کا شوق لاحق ہے، دستور کی بالادستی کے سامنے کوئی بھی سر تسلیم خم کرنے کو آمادہ نہیں۔ چار مارشل لاؤں اور لولی لنگڑی جمہوریتوں یا طبقاتی نظام نے اس ملک کو کیا دیا؟ سوال تلخ ہے جواب اس سے بھی کڑوا۔ یہاں عجیب بات یہ ہے کہ سیاستدانوں کے علاوہ سب فرشتے ہیں۔ کبھی ان فرشتوں کی پاکبازی اور معاملات پر سوال اٹھا کر تو دیکھئے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ اگلی شب جمی ایک نشست میں بھی یہی عرض کیا کہ ہمارے یہاں کچھ بھی خالص دستیاب نہیں ملاوٹ زدہ افکار ہیں اشیاء اور نظام۔ ایسے میں ہمیشہ سرائیکی زبان کی ایک مثال یاد آجاتی ہے۔ ''کراڑی کا نام غلام فاطمہ رکھنے سے کچھ نہیں ہوتا'' کاش ہم سبھی اس حقیقت کو سمجھ پائیں لیکن سمجھیں گے کیسے۔ اترنوں پر اترانے والوں کا مستقبل ان کے حال جیسا ہی ہوتا ہے اس پر ستم یہ ہے کہ حب الوطنی کا منجن فروخت کرنے والے جینے نہیں دیتے۔ لشکروں کی محبت کو آسمانی پیغام کے طور پر ایمان کا حصہ بنانے کی ضد ہے۔ تاریخ کے نام پر جو مال دستیاب ہے اس میں تاریخ کم اور ڈھکوسلے زیادہ ہیں۔ ایک مثال سے بات سمجھ لیجئے۔ 14اگست 1947ء کی شام تک ہمارے بزرگ نسل درنسل جنہیں حملہ آور' غاصب اور ظالم سمجھتے تھے 15اگست 1947ء کی صبح وہ ہمارے ہیرو قرار دے دئیے گئے۔ شب بھر میں تاریخ کے اس دھوبی پڑے نے سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیا۔ اب پچھلے 70برسوں سے جو ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
معاف کیجئے گا بات اصل موضوع سے دور ہوتی تاریخ کے صحن میں پہنچ گئی۔ کڑوا سچ یہی ہے کہ مطالعے ومشاہدے اور مکالمے سے محروم نسل دندناتی پھر رہی ہے سفید جھوٹ اس تواتر کیساتھ بولا گیا کہ ایک نسل کہتی ہے کہ جناح صاحب کے بعد عمران خان دیانتداری کی علامت ہے۔ اس نسل کو حسین شہید سہروردی' ذوالفقار علی بھٹو' عبدالرب نشتر اور محمد خان جونیجو بارے کچھ معلوم نہیں ہے۔ بینظیر بھٹو کو رجعت پسندوں کے پروپیگنڈے کی آنکھ سے دیکھتی ہے۔ بہت احترام سے کہوں اگر ہم نے کوئی نصاب تعلیم زمینی حقائق کے مطابق ترتیب دے لیا ہوتا تو آج دولے شاہ کے چوہوں کی جگہ ایک باخبر نسل موجود ہوتی جو چند قدم آگے بڑھ کر رہنمائی کرتی۔ یہاں عالم یہ ہے کہ ہمارا پسندیدہ لیڈر اوتار ہے باقی سب چور لٹیرے۔ وفاداری نظریات کے نہیں فرد اور خاندانوں کیساتھ ہے۔ اچھا ویسے یہ پورے برصغیر کا المیہ ہے فقط ہمارا نہیں۔
باردیگر عرض کئے دیتا ہوں انتخابی نتائج پر اٹھتے سوالات کا جواب متعلقہ فورمز پر دیا لیا جانا لازم ہے۔ معاملات غیر متعلقہ فورمز پر اٹھائے اور فیصلے کروائے گئے تو مشکلات بڑھیں گی۔ ثانیاً یہ کہ زیادہ مناسب ہوگا کہ دستوری کردار کی ادائیگی اور انصاف کے حصول ہر دو راستے اختیار کئے جائیں کسی فرد واحد کی خواہش یا ضد پر ایسے حالات نہ پیدا کئے جائیں جن سے نظام کو خطرات لاحق ہو جائیں۔ یہاں ایک بات اور بھی عرض کرنا ازبس ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کی مختلف سائٹس پر اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے والوں کو جس دباؤ کا سامنا ہے وہ درست نہیں۔ آئی ایس پی آر والے فوج اور آئی ایس آئی کے نام پر بنے سینکڑوں پیجوں اور اکاؤنٹس کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے۔ کیا امید کی جائے کہ سستی قسم کی حب الوطنی کے ان چورن فروشوں کیخلاف بھی ادارے کارروائی کریں گے جو عسکری اداروں کا جعلی نقاب اوڑھے لوگوں کو دھمکاتے پھرتے ہیں؟ حرف آخر یہ ہے کہ سبھی کو بند گلی میں داخل ہونے سے اجتناب کرنا ہوگا۔ ریاست کے تمام اداروں پر لازم ہے کہ اپنی اداؤں پر ٹھنڈے دل سے غور وفکر کریں کہ ان سے جو تحفظات جنم لے رہے ہیں ان کا تدارک کیسے ہوگا۔

اداریہ