Daily Mashriq

پی ٹی آئی کی مشکلات

پی ٹی آئی کی مشکلات

الیکشن2018 ء میں واضح برتری حاصل کرنے والی جماعت پی ٹی آئی کی بنیادی طور پر دو مشکلات ہیں' ایک حکومت سازی سے پہلے اور دوسری حکومتی عہدے سنبھالنے کے بعد۔ حکومت سازی کیلئے مشکلات یہ ہیں کہ عددی اکثریت کیلئے سیاسی جماعتوں میں سے کئی ایک ایسی ہیں جو شراکت اقتدار سے قبل اپنی شرائط پر پی ٹی آئی کیساتھ اتحاد کر رہی ہیں۔ اسی طرح آزاد امیدواروں کے بھی اپنے اپنے مفادات ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا اصل امتحان حکومت سازی کے بعد شروع ہوگا۔ جب عمران خان وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہوں گے اور وزراء کو ہدایات جاری کریں گے۔ عمران خان خود کہہ چکے ہیں کہ جو وزراء کام نہیں کریں گے یا ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتریں گے انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ عمران خان کے ماضی کو دیکھا جائے تو جو وہ کہتے ہیں اس حساب سے کر گزریں گے' یہ بھی درست ہے کہ ان کی حکومت میں احتساب بلاتفریق اور بے لاگ ہوگا لیکن افتاد یہ ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے وزراء یا آزاد امیدوار عمران خان کی سخت مزاجی کیساتھ ان کیساتھ چل پائیں گے؟ اور اگر دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدوار اور آزاد امیدوار پی ٹی آئی کیساتھ نہ چل سکے تو لامحالہ پی ٹی آئی عددی اکثریت کھو دے گی۔ جب پی ٹی آئی عددی اکثریت کھو دے گی تو اس کا اقتدار برقرار رہنا مشکل ہوگا۔ دوسری ممکنہ صورت یہ ہوسکتی ہے کہ عمران خان موقع کی نزاکت کو سمجھیں اور اس بات کو پلے باندھ لیں کہ ان کی حکومت کو مضبوط اپوزیشن کے علاوہ اپنے اتحادیوں اور آزاد امیدواروں سے بھی خطرہ ہے' اس سے بچاؤ کیلئے خان صاحب روز اول سے ہی سخت گیری کی بجائے کمپرومائز والی پالیسی پر عمل پیرا ہوں اسلئے نہیں کہ انہوں نے اپنے اصولوںکو پس پشت ڈال دیا ہے بلکہ اسلئے کہ ان کے مخالفین ایک صفحہ پر جمع ہوگئے ہیں' ان کے ناقدین نہیں چاہتے کہ عمران خان کی حکومت قائم ہو یا قائم ہونے کے بعد اپنی آئینی مدت پوری کرے۔ عمران خان کی کمپرومائز والی پالیسی سے ممکن ہے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے' ممکن ہے یہ الزام بھی لگایا جائے کہ دیگر سیاستدانوں میں اور عمران خان میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ عمران خان بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں لیکن عمران خان کو دو وجوہ سے کمپرومائز کرنا ہوگا۔ ایک یہ کہ جمہوری تسلسل قائم رہے، دوسرے یہ کہ جمہوریت مخالف قوتیں نہیں چاہتیں کہ عمران خان جیسا لیڈر برسر اقتدار ہو اور پاکستان کے مسائل حل ہوں۔عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ممکن ہے کچھ عرصہ کیلئے حالات مزید خراب ہو جائیں تاکہ عمران خان اور ان کی ٹیم کو ناکام ثابت کیا جاسکے' اگر ایسا ہوتا ہے تو سیاستدانوں کیساتھ ساتھ عوام کی طرف سے بھی ردعمل سامنے آسکتا ہے ان حالات میں پی ٹی آئی کے اپنے لوگوں کی طرف سے بھی ردعمل آئے گا جیسا کہ2014 ء کے دھرنے کے طویل ہو جانے کی صورت میں بعض پی ٹی آئی ارکان عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے ایسے حالات میں عوام اور پارٹی کارکنوں کو اعتماد میں لینا عمران خان کیلئے بہت ضروری ہوگا تاکہ عارضی بحران سے باہر نکلا جاسکے۔2019 ء بھارت میں الیکشن کا سال ہوگا جس کیلئے مودی کی جنتا پارٹی پاکستان مخالف مہم چلا کر ایک بار پھر بھارتی عوام کی ہمدردیاں حاصل کر کے ووٹ لینے کی کوشش کرے گی۔ مودی کا ماضی مسلمان دشمنی سے بھرا پڑا ہے۔ عین ممکن ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر لازمی طور پر پڑیں گے کیونکہ پاکستان میں پی ٹی آئی کی متوقع حکومت کو اقتدار سنبھالے محض چند ماہ ہی ہوئے ہوں گے اگر پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہوا تو ہم بھارت کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ اس ممکنہ بحران سے نکلنا بھی عمران خان کیلئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوگا جس کی پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔ بھارت سمیت بیرونی سازشوں سے نمٹنے کیلئے عمران خان کو دیگر سیاستدانوں کی حمایت بھی درپیش ہوگی، اس تناظر میں دیکھا جائے تو عمران خان کی متوقع حکومت کانٹوں کی سیج ثابت ہوگی کیونکہ عمران خان تن تنہا متعدد محاذوں پر نہیں لڑ سکیں گے۔اس کے برعکس اگر عمران خان اپنی پہلے والی ڈگر پر چلتے ہیں، کسی سے کمپرومائز کیلئے تیار نہیں ہوتے ہیں، دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی پروا بھی نہیں کرتے ہیں تو عمران خان کیلئے ایسے مشکل حالات میں ڈلیور کرنا مشکل ہو جائے گا یہاں تک کہ پانچ سال بھی پورے نہیں کر پائیں گے، اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو یہ عمران خان کی ناکامی نہیں ہوگی بلکہ ملک میں جاری جمہوری تسلسل کا خاتمہ ہوگا اور ہمارے سیاستدان ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنی انا کی جنگ میں مصروف ہوں گے، اسلئے ہم سمجھتے ہیں عمران خان کو سب سے پہلے زیادہ اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ ہر صورت پانچ سال پورے کریں، ملک کیخلاف جاری اندرونی وبیرونی سازشوں کو سمجھیں اور ان کے سدباب کیلئے ٹھوس لائحہ عمل طے کریں، عین ممکن ہے عمران خان کی حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں سے بہت کم ڈلیور کرے لیکن اگر وہ اپنی مدت اقتدار میں ملک کیخلاف سازشی کرداروں کو بے نقاب کر جاتے ہیں تو وہ عوام کی عدالت میں سرخرو اور کامیاب ٹھہریںگے۔

اداریہ