Daily Mashriq


انتخابات اور خوابیدگی کی قیمت

انتخابات اور خوابیدگی کی قیمت

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے انتخابات کے حوالے سے ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں بہت دلچسپ ریمارکس دئیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے روز میں نے تین بار چیف الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کوئی جواب نہ ملا شاید و ہ سو رہے تھے۔ ان کا سسٹم الیکشن کے دن بیٹھ گیا تھا، پتا نہیں الیکشن کمیشن کس طرح چل رہا ہے۔ اچھا بھلا انتخابی عمل چل رہا تھا مگر چیف الیکشن کمشنر نے مہربانی فرما دی۔ ابھی تک تو ہارنے اور جیتنے والے دونوں فریق الیکشن کمیشن پر معترض اور ان کی کارکردگی پر نالاں وناراض تھے مگر اب اعلیٰ عدلیہ نے بھی چیف الیکشن کمشنر کی کارکردگی پر سوال اُٹھا دیا۔ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کا اپنا تعلق بھی عدلیہ سے رہا ہے اور وہ انتخابی نتائج سے ناخوش مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی مشترکہ اور فخریہ پیشکش ہیں۔ نگران وزیراعظم سے چیف الیکشن کمشنر تک سب چہرے پارلیمان میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف نے مل کر تلاشے ہیں۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اب یہی دو سیاسی طاقتیں اپنے ہی تراشیدہ کرداروں سے ناراض ہیں۔ اس ناخوشی میں یہ دو جماعتیں ہی نہیں تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، ایم ایم اے سمیت سب غیر مطمئن ہیں۔ کچھ سیاسی جماعتیں تو پہلے ہی انتخابات کے حوالے سے اُدھار کھائے بیٹھی تھیں وہ اس بات پر تلی ہوئی تھیں کہ صرف وہی کامیابی تسلیم ہوگی جو ان کے حصے میں آئے گی کسی دوسری کی کامیابی کو کسی صورت قبول نہیں کرنا۔ اس مائنڈ سیٹ کو مزید تقویت اور جواز الیکشن کمیشن کے روئیے اور نالائقی نے فراہم کیا۔ آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ جانے اور فارم 45فراہم نہ کرنے سے دھاندلی کے تصور کو تقویت ملی۔ اب چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں یہ بتا کر ورطۂ حیرت میں مبتلا کر دیا کہ الیکشن کے روز چیف جسٹس بھی ان سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ چیف الیکشن کمشنر اگر واقعی الیکشن کے روز لمبی تان کر سو گئے تھے اب یہ قوم انتشار اور الزام واتہام کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کیساتھ اس خوابیدگی کی قیمت چکا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کو ایک دن اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر نے کیلئے قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کر اربوں کے فنڈز دئیے تھے مگر شومئی قسمت کہ الیکشن کا دن ہی بہت برا گزار دیا گیا اور اب نتائج میں تاخیر، دوبارہ گنتی، حکم امتناعی کی صورت میں حکومت سازی میں تاخیر ہو رہی ہے اور قوم خوابیدگی کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہے۔ اپوزیشن پہلے ہی انتخابات کو متنازعہ بنانے پر مصر تھی اب وہ سڑکوں پر نکل کر ''کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے'' کے فارمولے پر عمل پیرا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے چند روز قبل انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ اس دورا ن کئی اپوزیشن راہنماؤں نے شعلہ بیانی کا بھرپور مظاہرہ کیا وہیں ان کے کارکنوں نے عدلیہ اور فوج کیخلاف نازیبا زبان بھی استعمال کی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا نام لیکر نعرے لگانے والوں کی ویڈیو میڈیا میں گردش کر رہی ہے۔ اس احتجاج میں جہاں مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی، احسن اقبال قمرالزمان کائرہ اور دوسرے راہنما شریک ہوئے وہیں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، ان کے بیٹے حمزہ شہباز، پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے شرکت سے گریز ہی کیا۔ اس احتجاج کی نمایاں شخصیت مولانا فضل الرحمان ہی تھے جو دو حلقوں سے شکست کھانے کے بعد منقار زیرپا ہیں۔ یہ شکست اس لئے بھی دل شکن ودل آزار ہے کہ دس سال بعد انہیں کشمیرکمیٹی کی سربراہی سے جدائی پر مجبور ہونا پڑا اور اس جدائی کے نتیجے میں سرکاری مراعات سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ مولانا فضل الرحمان نے اسی مظاہرے میں یوم آزادی نہ منانے کا اعلان بھی کیا۔ اسی مظاہر ے میں یہ حقیقت بڑی حد تک واضح ہوئی کہ مستقبل کی حزب اختلاف سخت گیر اور معتدل مزاج کے دوحصوں میں تقسیم ہوگی۔ سخت گیر وہ لوگ ہوں گے جو انتخابات میں اپنا سب کچھ لٹا چکے ہیں اور معتدل مزاج وہ ہوں گے جن کا اس سسٹم کیساتھ کسی نہ کسی طور مفاد وابستہ ہوگا۔ آگے چل کر ان دونوں کا صفحہ ایک ہو سکتا ہے مگر اس وقت یہ ایک کتاب کا حصہ تو ہیں مگر ایک صفحے پر ہرگز نہیں۔ اس مظاہرے میں ریاستی اداروں کیخلاف سخت زبان استعمال کرنے پر اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں دہشتگردی کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں نامزد افراد کی گرفتاریاں اور مقدمات کا معاملہ اب اگلی حکومت پر ڈال دیا گیا۔ اداروں کیخلاف یاوہ گوئی اور بدزبانی پر دہشتگردی کا مقدمہ شاید کچھ زیادہ ہی سخت ہو گیا ہے۔ اس معاملے کو معروف جمہوری معاشروں میں قائم روایات اور مقدمات کی روشنی میں آگے بڑھانا چاہئے۔ عدلیہ اور فوج کیخلاف نعرے بازی کہاں کہاں آزادیٔ اظہار کی دیوار سے جا ٹکرائی ہے؟ یہ جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔ اصل معاملہ اپوزیشن جماعتوں کی غیر ذمہ داری کا ہے کہ انہیں اپنے کارکنوں کو اس روئیے سے باز رکھنا چاہئے۔ اداروں کا تقدس پامال کرنے کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہوا کرتے۔ اداروں سے ہی معاشرے تشکیل بھی پاتے ہیں اور معاشروں کی پہچان بھی ادارے ہی ہوتے ہیں۔ افراد کتنے ہی بااثر، طاقتور اور دولت مند کیوں نہ ہوں مگر اداروں کے آگے ہیچ ہوتے ہیں اور اداروں کے آگے سر جھکانا ان پر فرض ہوتا ہے۔ افراد اداروں سے بڑے ہو جائیں تو پھر ایسے معاشروں کا مقدر انارکی اور مطلق العنانی بن جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں