عدالتوں کی توقیر کے تقاضے

عدالتوں کی توقیر کے تقاضے

لاہور ہائی کورٹ کی 150سالہ تقریبات کے اختتام پر منعقدہ جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے انصاف کی فراہمی میں عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے حوالے سے سینئر قانون دانوں کے مطالبات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ آج سپریم کورٹ سے لے کر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت تک سب مکمل طور پر آزاد ہیں۔ کسی پر بھی کوئی دبائو نہیں۔ عدالتی نظام صرف مقدمات کے فیصلے کرنے کے لئے نہیں بنا یا گیا بلکہ یہ انصاف کی فراہمی کے لئے بنایاگیا ہے۔ چیف جسٹس کے خطاب کو اگر غور سے دیکھا جائے تو اس وقت ملک کے اندر سیاسی طور پر جو افرا تفری دیکھنے میں آرہی ہے اسکا بہتر حل انہی خیالات کے اندر پوشیدہ ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا۔ آئین میں تمام قوانین کو اسلامی اصول و ضوابط اور پیغمبر عظیم الشان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق رکھنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اگرچہ عملی طور پر بد قسمتی سے حالات بعض صورتوں میں ان اصولوں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں تاہم اس میں قصور اصول و ضوابط اور رائج قوانین کا نہیں بلکہ ان قوانین پر عمل درآمد میں بعض متعلقہ اداروں کی کوتاہی ہے جس کی جانب خود جناب چیف جسٹس نے بھی اشارہ کرتے ہوئے ایسے اداروں کو اپنی مقررہ حدود میں رہنے کی تلقین بھی کی ہے۔ اگرچہ اعلیٰ عدلیہ آئین میں درج ضوابط کار کے مطابق فیصلے صادر کرنے کے لئے پرعزم ہے تاہم اگر مقدمہ کا چالان ہی غلط طور پر پیش کیا جائے تو عدلیہ کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں دشواریوں کا ہی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود فاضل جج حتیٰ المقدور کوشش کرتے ہیں کہ انصاف کے تقاضوں کا خون نہ ہونے پائے۔ چیف جسٹس نے بالکل درست کہا کہ عدلیہ کسی کو خوش کرنے یا میڈیا میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کے لئے فیصلے نہیں کرسکتی مگر بد قسمتی سے میڈیا چینلز کا جو جمعہ بازار سجا ہوا ہے اس کی موجودگی میں کسی بھی قومی مسئلے کے حوالے سے پیش کردہ مقدمے کے حوالے سے ان ٹی وی چینلز پر اس قدر گرد اڑائی جاتی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنمائوں کے علاوہ تجزیہ نگار اور اینکرز خلط مبحث کی وجہ سے اصل مسئلے کو پس منظر میں لے جا کر مزید الجھائو پیدا کردیتے ہیں اور نہ صرف اصل مسئلہ پس پشت ڈال دیا جاتا ہے بلکہ متعلقہ فریقوں کو غلط مشورے د ے کر سیاسی افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس کے محولہ بالا الفاظ کی روشنی میں اگر اس وقت اہم ترین مسئلے پانامہ لیکس کو دیکھا جائے تو عدالتی احترام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ روزانہ شام سے رات گئے تک مختلف چینلز پر بحث اور کج بحثی کی منڈلیاں سجا کر مختلف پروگراموں میں عدالتی کارروائی کی بھد اڑا کر توہین عدالت کا ارتکاب کیا جائے۔ اصولی طور پر تو کسی بھی مقدمے کو اس کے حتمی انجام تک پہنچنے تک اس قسم کے تبصروں سے محفوظ رکھا جائے اور عدالت عظمیٰ کو آزادی سے کام کرنے دیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جیسے ہی ایک دن کی عدالتی شنوائی مکمل ہوتی ہے فریقین عدالت سے باہر آکر عوام کو اپنے اپنے موقف کے بارے میں بتاتے ہوئے متضاد دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں اور پھر شام سے رات گئے تک مزید تبصرے اور دعوے' اس پر بھی بس نہیں کیاجاتا فریقین جب سے یہ مقدمہ عدالت پہنچاہے یو ٹرن لیتے ہوئے کبھی ایک مطالبہ اور کبھی دوسرا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ مخالفین پر میدان سے فرار کے طنزیہ تبصروں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے میں مگن ہیں۔ عدلیہ کو جس طرح دبائو میں لا کر اپنی پسند کے فیصلے کرانے پرمجبور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں وہ بھی ہماری سیاسی زندگی کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ اگر فیصلہ عدلیہ نے ہی کرنا ہے جس کے حوالے سے فریقین بار بار یہ یقین دہانی کرواتے آرہے ہیں کہ فیصلہ جو بھی آئے گا قبول ہوگا اس کے بعد موجودہ بنچ کے تحت ہی فیصلہ کرنے اور کمیشن کے قیام کی صورت میں بائیکاٹ کی دھمکی واضح طور پر بلیک میلنگ ہی ہے۔ ساتھ ہی اب ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کی دھمکی کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے اور یہ بھی ایک طرح سے عدلیہ کو دبائو میں لانے کا حربہ ہی کہلائے گا۔ اس قسم کی سوچ سے خود اس جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے اور اس روئیے سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کو آزادی سے کام کرنے دیا جائے تو انصاف کے تقاضے پورے ہونے میں کوئی مشکل نہیں رہے گی۔ اس سلسلے میں بقول چیف جسٹس ہمیں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے کردار کو سامنے رکھ کر ان کی جمہوری سوچ اور عدلیہ کی بالا دستی کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ قائد اعظم نے ساری زندگی قانون اور آئین کی برتری کو تسلیم کرتے ہوئے آزادی کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا تو کیا وجہ کہ ہم اپنے مسائل کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کی صوابدید کے مطابق حل نہیں کرسکتے اور بلا وجہ افراتفری کا ماحول قائم کرکے زور زبردستی اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔ اس سوال پر ہمیں ضرور غور کرنا چاہئے۔

اداریہ