Daily Mashriq


امریکہ کے الزامات اور حقیقت

امریکہ کے الزامات اور حقیقت

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان نکولسن نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گرد گروپوں کی بلند ترین شرح پاک افغان خطے میں ہے۔ رواں برس افغانستان میں امریکی فوج کو سابق وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کو عسکریت پسندوں سے بازیاب کرانے اور پشاور کے آرمی پبلک سکول پر 16 دسمبر 2014ء کو ہونے والے حملے میں ملوث ملزمان کو ہلاک کرنے جیسی کامیابیاں ملیں۔ دنیا بھر میں 98دہشت گرد گروپ موجود ہیں جن میں سے 20 گروپ پاک افغان خطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک سٹیٹ آف خراسان کی تشکیل کالعدم تحریک طالبان پاکستان' اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور افغان طالبان کے کچھ سابق ارکان نے مل کر کی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ امریکی فوج حکام دہشت گردی کے حوالے سے جن گروپوں کو مورد الزام قرار دے رہے ہیں اگر حقیقت کو دیکھا جائے تو اس خطے میں دہشت گردی کی ابتداء خود امریکی پالیسیوں ہی کا نتیجہ ہے۔ پہلے سوویت یونین کے خلاف امریکہ نے پراکسی وار شروع کی اور یہاں افغان مسلح گروپوں کو منظم کرکے جہادی گروپوں میں تبدیل کیا جبکہ ان کی مدد کے لئے عرب دنیا اور سابق سوویت ریاستوں سے ہی سے افراد کو مسلح کرکے میدان میں اتارا اور جب امریکی دولت اور اسلحے کے بل پر ان ''جہادیوں'' نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھیر کر اسے سابقہ ریاستوں میں تقسیم کرکے امریکہ کے مقصد کی تکمیل کی یعنی ویت نام میں سوویت یونین کے ہاتھوں عبرتناک امریکی شکست کا بدلہ لے لیا تو یکا یک امریکہ نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیرتے ہوئے ان جہادی گروپوں کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر افغانستان سے کوچ کیا۔ اس کے نتیجے میں افغانستان خانہ جنگی کاشکار ہوگیا اور مختلف جماعتوں اور گروپوں کی باہمی رقابت کے بعد طالبان حکومت بر سر اقتدار آئی ۔ اس دوران میں نائن الیون کے سانحے نے جنم لیا تو امریکہ نے اسامہ بن لادن کی محولہ سانحے میں تلویث کے الزام کی بنیاد پر افغانستان پر یلغار کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور طالبان حکومت کو بے دخل کیا تو رد عمل کے طور پر امریکہ کے خلاف عمومی جہاد کا اعلان کردیاگیا۔ تب سے اب تک امریکہ اور نیٹو افواج افغان سر زمین پر عملی طور پر قابض ہیں اور کابل میں ایک کے بعد ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی جا رہی ہے اس کے باوجود طالبان کی قوت کو کمزور نہیں کیا جاسکا۔ جبکہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ امریکی افواج کی علاقے میں موجودگی کے باوجود اگر ''دہشت گرد گروپوں'' کو قابو پانے میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی تو اس حوالے سے خود امریکی پالیسیوں کو زیر بحث لانا پڑے گا۔ کیونکہ پاکستان نے گزشتہ دو ڈھائی سال کے دوران آپریشن ضرب عضب کے ذریعے اپنے قبائلی علاقوں سے ان دہشت گرد گروپوں کا جن کی درحقیقت پشت پناہی امریکی آشیر باد سے بھارت کر رہا ہے جس کے افغان سر زمین پر قائم کئی قونصل خانے نہ صرف ان دہشت گرد گروپوں بلکہ بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی عسکری تربیت کرنے کے علاوہ انہیں اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ مالی امداد بھی کرتا ہے تاکہ پاکستان کے اندر امن کو خراب کیا جائے مگر جب پاکستان کی بہادر اور جری افواج ان کو بھگا دیتے ہیں تو لا محالہ انہیں واپس جا کر اپنے حمایت یافتہ کی پناہ میں جانا پڑتا ہے اور اصولی طور پر ان کو بارڈر پر روکنے کی ذمہ داری افغانستان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس لئے امریکہ کے کمانڈر کو بلا جواز الزامات لگانے کی بجائے اپنے کردار پربھی نظر ڈالنی چاہئے اور افغانستان میں اپنے کردار کو محدود کرکے واپسی کی راہ اختیار کرنے پر غور کرلینا چاہئے۔

وفاقی وزیر ہائوسنگ توجہ دیں

پبلک اکائونٹس کمیٹی نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن کی جانب سے اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساٹھ افسران کو آئوٹ آف ٹرن پلاٹ دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فائونڈیشن کے حکا م کو ہدایت کی ہے کہ ان افراد کو پلاٹ الاٹ نہ کئے جائیں جو پہلے ہی اسلام آباد میں رعایتی قیمتوں پراس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14 اور ایف 15میں الاٹمنٹ کے حوالے سے اخباری اطلاعات کے مطابق بے قاعدگیوں کی نشاندہی کچھ عرصہ پہلے کی گئی تھی جبکہ متعلقہ حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے پہلے بھی انہی کالموں میں اس مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے عرض کیا تھا کہ حقدار لوگوں کو پلاٹ الاٹ نہیں کئے جا رہے ہیں۔ بالآخر ڈائریکٹر جنرل آڈٹ مقبول گوندل نے بھی اس بے قاعدگی کی نشاندہی کردی ہے۔ اس لئے وفاقی وزیر ہائوسنگ اینڈ ورکس جناب اکرم خان درانی سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کروا کر آئوٹ آف ٹرن پلاٹوں کی الاٹمنٹ کو منسوخ کرنے کا حکم صادر کرتے ہوئے اصل حقداروں کو پلاٹ الاٹ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

متعلقہ خبریں