Daily Mashriq


پاگل کیا سوچتا ہے

پاگل کیا سوچتا ہے

ہاں پا گل کتا کیا سوچتاہے اس بارے میں گفتگو سے پہلے کچھ ضمنی باتیں ہو جا ئیں تو بہتر ہے ، گو کتا ایک مفید جا نو ر ہے ، عصر جد ید میں اس جا نو ر سے انو اع اقسام کے مفید کا م لیے جارہے ہیں مگر اسلامی دنیا میں اس جانو ر کو پلید جا نا جا تا ہے ، اور اسے سخت کر اہت لی جا تی ہے ، کتے کو پا لنا معاشرے میں گنا ہ سمجھا جا تا ہے ، جب شکا ر ی کتے کی بات ہو تی ہے تو اس بارے میں مختلف تاویلا ت پیش کر دی جا تی ہیں ،بہر حا ل بہتر اور درست راستہ یہ ہے کہ جس شے کے بار ے میں رائے دینا مقصود ہو اس کے بارے میں پہلے معلو مات حاصل ہو پھر رائے دی جا ئے۔ ایک مرتبہ ایک مو لو ی صاحب نظافت کے بارے میں درس دے رہے تھے ان کا فر مانا تھا کہ کتا نجس ہے ، اور نجس جا نو ر کا پسینہ بھی نجس ہو تا ہے اس لیے اگر کسی کے جسم یا اس کے کپڑے سے کتّا رگڑ کھا جا ئے یا چھو جا ئے تو وہ نا پا ک ہو جا تا ہے جس کے بعد غسل کر نا واجب ہے ، حالا نکہ کتّا ان جا نو ر وں میں سے ہے کہ جس کے بدن پر پسینہ نہیںآیا کرتا یا جس کو پسینہ نہیں آتا ہے ، اگر یہ بات ان کو معلو م ہو تی تو وہ کتّے کے بدنی پسینہ کی بات نہ کر تے البتہ ساون بھا دو ں میںکتّے کے منہ سے جو رال ٹپکتی ہے اس کو کتّے کا پسینہ کہا جا تا ہے ۔ مغر ب کے رنگ ہی نرالے ہیںمشرقی معاشرے میں جو معیو ب ہیں ان کے یہاں وہ عزیز ہیں ، مثلا ًکتّا ، الو ، گدھا وغیر ہ کے بارے میں مشرق میں منفی رائے رکھی جا تی ہے جو غبی قسم کا انسان ہوتا ہے تو اس کو گدھے بیچارے سے تشبیہہ دے دی جا تی ہے۔ الو کو انتہا ئی احمق کی صفت میں شمار کیا جا تا ہے۔ ایسا ہی حال کتّے کے بارے میں ہے کہ اس سے انتہائی کر اہت کی جا تی ہے لیکن مغرب میں یہ سب قابل احتر ام ہیں۔ وہا ں ان نا مو ں سے پکا رے جا نے پر فخر کیا جا تا ہے ۔ جو ں جو ں امریکی صدر ٹرمپ کی کا بینہ کے خدوخال واضح ہو تے جا رہے ہیں۔ اس سے ان کے عزائم بھی عیا ں ہو رہے ہیں ایسا محسو س کیا جا نے لگا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ اپنے انتخابی منشور پر عمل در آمد کا پوری طرح ارادہ لیے ہو ئے ہیں۔ چنا نچہ انہو ں نے کا بینہ کے لیے ایسے ہی افر اد کا چنا ؤ کیا ہے جو ٹرمپ کے مقاصد کی عکا سی کر رہے ہیں۔مثلاًاگلے وزیر دفاع سابق جنر ل جیمس میٹس ہوں گے جن کی امریکا میں عرفیت ''پا گل کتّا '' ہے ، جو ان کے یا کسی امر یکی کے لیے توہین نہیں ہے ان کی یہ عرفیت تعریف وتوصیف میں کی جا تی ہے کیو ں کہ میٹس کے بارے میں رائے ہے کہ ان کو کا م کی لگن رہتی ہے اور کام میں تفصیلی امو ر کے دھنی ہیں اور پورے جو ش و جذبہ سے کا م کی تکمیل میں جت جا تے ہیں۔ اسی شوق اور دھن کے ما رے ہو نے کی بنا ء پر انہو ں نے شادی بھی نہیں کی کہ گھر والی ان کے کام ، لگن یا مشن میں حائل ہو سکتی ہے ، شادی نہ کر نے کی بنا ء پر ان کو جنگجو راہب بھی کہا جا تا ہے ۔ میٹس کا قول ہے کہ سول انتظامیہ ان رمو ز کو نہیں سمجھتی چنا نچہ اس کو شکست ہو جا تی ہے کیو ں کہ اس کے پا س منصوبہ بندی کا فقدان ہو تا ہے ، اورفوج کی جیتی ہوئی جنگ بھی ہار جا تی ہے اس بار ے میں وہ عراق کی مثال دیتے ہیں کہ پنتالیس دنو ں میں عراق کی جیتی ہو ئی جنگ کے سیاسی مقاصد واضح نہ ہو نے اور حقیقت سے دور ہو نے کی بنا ء پر عراق انا رکی کا شکا ر ہو گیا ۔ میٹس سے بہت سے مقو لے بھی وابستہ ہیں جس سے ان کے مزاج کا بھی اور سوچ کا بھی پتہ چلتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شائستہ اند از اپنا ئیے ، اور پیشہ ورانہ مہا رت کو بھی بروئے کا رلا ئے ، علا وہ ازیں آپ کے پا س ہر شخص کو قتل کر نے کا مکمل منصوبہ بھی ہونا چاہیے ، ان کی یہ سوچ امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹر مپ کی پالیسیو ں کی عکاسی کر تی ہے ، میٹس نے اٹھارہ سال کی عمر میں فوج میں شمولیت اختیا ر کی تھی جب سے وہ اپنی ہی طر ز کی زندگی بسر کر رہے ہیں ، چنا نچہ میٹس کے انتخاب سے ٹرمپ کی حکومت کے مستقبل کے خدوخال کو سمجھنے میں مد د ملے گی۔ میٹس یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکا دنیا میں ایک بڑا کر دار ادا کر نے جا رہا ہے ، گویا اوباما کی پالیسیوں کے بر عکس خارجہ پا لیسی اختیا ر کی جا ئے گی ، ایک صحافی نے ایک مرتبہ میٹس سے پوچھا کہ مشر ق وسطیٰ میں سب سے بڑ ا خطر ہ کو ن ہے تو انھو ں نے ترنت جو اب دیا کہ ایران ، جب یہ استفسار کیا گیا کہ وہ کیسے تو کہا کہ وہا ں کا نظام ہے جہا ں عو ام اور حکو مت ریاست کی بنیا د پر نہ تو فیصلے کر تی ہے اورنہ سوچتی ہے وہ مذ ہبی بنیا د پر سوچ رکھتی ہے جس کی وجہ سے ملا ئیت کا راج ہے ، جو لبر ل نظام میںیقین سے خالی ہے۔ ایر ان کے بارے میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی گو شمالی کوئی کٹھن معاملہ نہیں ہے ، لیکن اس کا معاملہ ان دہشت گردوں ، القدس فورس ، اور قاسم سلیما نی کا ہے ، نا مزد وزیر دفاع کا گما ن ہے کہ شیعہ سیا سی اسلا م کے بعد سنی اسلام خطرنا ک ہے گویا انہو ں نے جویہ اصطلاحات استعمال کی ہیں اس سے امریکی مقصدواضح ہوتا ہے کہ امریکا اب سیکو لر سیاست کا ہی نفاذچاہتا ہے ، یہ بھی دعویٰ ہے کہ امریکا کے پا س اس قدر قوت ہے کہ وہ طالبان ، القاعدہ اور داعش کو فوجی لحاظ سے شکست دے سکتا ہے لیکن ان کے نظرئیے کو شکست نہیں دی جا سکتی ۔ یہ آسان کا م نہیں ہے یہ کام امریکا یا یو رپ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے بلکہ اس کے لیے خود مسلمانو ں کو آگے لا نا ہو گا ۔ ا ن عزائم کی روشنی میں دنیا میں متوقع تبدیلیو ں کا عکس دیکھا جا سکتا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ انتخابات یا کسی دوسرے جمہوری یا غیر جمہو ری عمل سے کسی ملک میں جو تبدیلیا ں آتی ہیں تو وہ اپنے خطے تک محدو د رہتی ہیں مگر جب دنیا کی سپر پاور کی حدود میںتبدیلی رونما ہو تی ہے تو اس کی زد میںساری دنیا آجاتی ہے اور دنیا ایک نئی کر وٹ لیتی ہے جیسا کہ سوویت یو نین کا شیر ازہ بکھر جا نے کے بعد ہوا مگر کائنات کی سب سے بڑی طاقت کی حکمت سے بڑھ کر ہر کس وناکس کی منصوبہ بندی ہیچ ہو تی ہے جیسا کہ میٹس بھی تسلیم کر تے ہیں کہ امریکا نے پانچ جنگوں میںسے صرف ایک جنگ جیتی حالانکہ جس جنگ کو جیتنے کا ان کا دعویٰ ہے وہ کوئی جنگ نہ تھی سازشو ں کا پلندہ تھا ۔

متعلقہ خبریں