یہ کیسا عذاب ہے ؟

یہ کیسا عذاب ہے ؟

پانامالیکس ، اس ملک کی ترقی کے دعوے ، وعدے ، تباہی ، حادثے ، بد عنوانی کے قصے گالم گلوچ ، سیاست کے اس منظرسے دل اُکتا جاتا ہے ۔ ایسا اوب جاتا ہے کہ دنیا کی جانب کھلنے والی اس کھڑکی کو بند کر کے ، ہر ایک آواز کا راستہ روک دینے کو جی چاہتا ہے ۔ دل گھبرا جاتا ہے ۔ بس اور نہیں یہ سیاست ہمیں اور نہیں چاہیے ،یہ ہمیں لوٹ رہے ہیں ، ہم جانتے ہیں لیکن بس یہ خاموش ہوجائیں ۔ خاموشی سے ہمارے حلق پرخنجر پھیر دیں ۔ ابھی بھی یہ کچھ کم نہیں کر رہے لیکن ہمیں ہی بہلا نے کو شور بہت کرتے ہیں ۔خاموش ۔ خاموش ۔ خاموش ۔ یہ کب جھوٹ بولنا بند کر ینگے ۔ یہ کب ہمارے کانوں میں مسلسل نفرت گھولنا بند کرینگے ۔ ان کی باتوں سے طبیعت بیزار ہو چکی ۔ ان کے چہروں کی نحوست سے ہماری آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو چکیں ۔ کوئی تو ہمیں بچائے ۔ کہیں سے تو کئی سچائی کی آواز آئے ۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ کہیں سے سچائی کی آواز کیسے آئے گی ۔ یہ ظلم ہم نے اپنے ساتھ کیا ہے ۔ان لوگوں کو ہم نے خود جا کر ووٹ ڈالے ہیں ۔ پولنگ سٹیشنوں کی قطاروں میں لگ کر ان کے بھاری مینڈیٹ کا بندوبست کیاتھا ۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر ہم نہ بھی کرتے تو انہیں اس بھاری مینڈیٹ کے حصول میںملکہ حاصل ہے ۔ یہ کبھی بھی بھاری مینڈیٹ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ یہ بھاری مینڈیٹ انکے گھر کے کھیت کی مولی ہے ۔ یہ خود ہی بیچ ڈالتے ہیں ، آپ ہی اس کی آبیاری کرتے ہیں اور خود ہی پھل کھاتے ہیں ۔ ان بیس کروڑ لوگوں میں سے ایک بھی شخص اپنے گھر سے باہر نکلا ہوتا انہوں نے اپنے اپنے گھروں کے کواڑ اندر سے مقفل کر لیے ہوتے ۔ یہ بھاری مینڈیٹ انہیں تب بھی حاصل ہو جاتا ۔ کیو نکہ ان کے کام ہی بند کواڑوں کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جانے کب انہیں یہ بات سمجھ میں آگئی کہ لائو ڈ سپیکروں سے لے کر ٹی وی چینلوں تک ، پریس کانفرنسوں سے لے کر مناظر وں تک انہیں یہ اجازت ہے کہ یہ بد کلا می کر سکتے ہیں ۔ بد زبانی کے ریکارڈ توڑ سکتے ہیں ۔ یہ ایک دوسرے کے بارے میں وہ سب کہہ سکتے ہیںجس کے بارے میں ہم اپنے بچوں کو سمجھا تے ہیں کہ دوسروں کو ایسی بات کبھی نہیں کہتے ۔ یہ لوگ اپنے آپ ہی ہمارے معاشرے کے چہرے کے نقوش بد ل رہے ہیں ۔ وہ الفاظ جو ہم اپنے گھروں میں کسی کو سننے کی اجازت نہیں دیتے ۔یہ سر عام کہتے ہیں اور پھر خود کو بہادر سمجھتے ہیں ۔ ان کا کمال ہے کہ یہ صرف ان پڑھ اور کمزور لوگوں کی طرح ایک دوسرے کو گالیاں نہیں دے سکتے ہیں ۔ لیکن جب یہ ایک دوسرے کے بارے میں ایسے نازیبا کلمات استعمال کررہے ہوتے ہیں ۔جب یہ ایک دوسرے کو ایسی باتیں کہتے ہیں جو کسی بھی مہذہب انسان کو زیب نہیں دیتیں ، تو ان کی تمام تر باتیں ان کی گالیاں ، جانے کیوں اس ملک کے عوام کی جانب اشارہ کرتی محسوس ہوتی ہیں ۔ ان کی ہر ایک بات ہر طعنہ ہر نازیبا لفظ اس کا اشارہ ان بیس کروڑ لوگوں کی جانب محسوس ہوتا ہے جو انہیں منتخب کرتے ہیں کسی نہ کسی صورت شامل رہتے ہیں جو کبھی ذاتی مفادات کی انگلی تھام کر پولنگ سٹیشنوں تک چلے آتے ہیں اور کبھی اپنے غصے کا ننھا بچہ اپنی گود میں اٹھا کر اپنے آنگنوں تک محدود ہو جاتے ہیں ۔ ان جیسے لوگوںکو ا سمبلیوں تک لانے کے لئے ہم سب ہی ذمہ دار ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعفن پھیل گیا ہے ۔ ایک عرصہ ہوا ہم نے کبھی صاف ہوا کا ایک جھونکا نہیں دیکھا ۔ کبھی بے بسی سے سو چتی ہوں کہ کیا ہم کبھی اس سب سے آزاد ہوسکیں گے ۔ ایک برے خواب کی مانند ہم ان لوگوں کی زبانوں سے نکلتی لپٹوں میں گھر گئے ہیں ۔ تپش بڑھتی جاتی ہے لیکن یہی ایک منظر دہرایا جارہا ہے ۔ بار با رہر بار ۔ وہی لوگ ہیں کہ جب وہ بولتے ہیں تو ان کی زبانوں سے سانپ اور بچھو گرتے ہیں ۔ یہ سانپ اور بچھو انہیں ڈنک مارتے رہتے ہیں ۔ ہمارے جسم نیلے پڑ چکے ہیں لیکن ہماری رہائی کا کوئی راستہ نہیں ۔ شاید اس لیے کہ سارے راستے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے بند کئے ہیں ۔ ہر ایک دروازے کو اینٹیں چن کر خود پاٹ دیا ہے ۔ اب ہم مقیدہیں ۔ اور ان لوگوں کی بد زبانی ہمیں صبح شام چاٹ رہی ہے ۔ میں ا س بے بسما سے گھبراجاتی ہوں ۔ سیاست دانوں کے اُگلے ہوئے زہر میرے ارد گرد ایک سمندر بن چکا ہے ۔ میں دیکھتی ہوں تو دور تک کچھ اور دکھائی نہیں دیتا ۔ کوئی آواز ، ان کی آوازوں کے علاوہ سنائی نہیں دیتی ۔ یہ یسا عذاب ہے جو ہم پر مسلط ہے ۔ ان کے لہجوں کی صر صر اور صموم میں ہمارے اخلاق اور ہماری روحوں کے جسم گل سڑرہے ہیں اور ہم اپنے بچائو کے لئے کچھ نہیں کر سکتے ۔کبھی سوچتی ہوں کہ کیا ہم کبھی بھی اس عذاب سے نکل پائینگے ۔ کبھی ایسا بھی ہوگا کہ ہمیں کہیں سے کوئی اچھی خبر بھی آئے گی ۔ ہمیں کبھی کوئی ایسا راستہ بھی دکھائی دیگا جو ہمیں اس جزیرے سے نکال کر اس زمین کی جانب لے جائے گا جوہمیں اس عذاب سے دور لے جائے گی ۔ ہم صاف ہوا میں سانس لے سکیں گے ۔ ہمیں ان کی آوازیں نہ سنائی دینگی۔ ہم خوش ہو سکیں گے۔ ہمیں کوئی بتائے گا کہ ہم کیسے احمق ہیں کہ وہ ہمیں لوٹتے ہیں اور ہم اپنی غریب کی بھوکی خالی گود میںکسمساتے رہتے ہیں ۔ کوئی ہماری بے وقوفیوں کا یوں مذاق نہ اڑائے گا کہ ہمیں اپنے وجود کی تضحیک محسوس ہو ۔ جانے کب کوئی معجزہ ہوگا جس کے بعد ہم واقعی خوش ہونگے ۔ جانے کب ؟اور پھر خیال آتا ہے کیا کبھی واقعی ایسا ہو سکتا ہے ۔ شاید نہیں کیونکہ ہم خود اپنی حالت بدلنے کو کچھ نہیں کر رہے ۔ کچھ بھی تونہیں ۔

اداریہ