Daily Mashriq

آقائے صادق رحمت دو عالمۖ

آقائے صادق رحمت دو عالمۖ

مخدوم اممۖ۔آپ تشریف لائے تھے۔ جہالت و تعصبات' کینہ پروری' زور ازوری اور نفاق کو ختم کرنے کے لئے' مگر ہم میں وہ سارے امراض چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اتحاد و اتفاق کی فراوانی کی جگہ نفرت و تنگ نظری کا دور دورہ۔ مل بانٹ کر کھانے اورایک دوسرے کے دکھ بٹانے کی بجائے ہم حب دنیا کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ نفس کے سر کش گھوڑوں پر سوار کشتوں کے پشتے لگاتے اس زعم میں مبتلا ہیں کہ سب یہی ہے اور سب یہیں ہے۔ دنیا کی محبت نے ہمیں پھر سے بت پرستی پر لگا دیا ہے۔ اب پتھر کی مورتیاں پوجنے کی بجائے ہم نے اپنی اپنی پسندیدہ شخصیتوں کے بت سینوں میں سجا رکھے ہیں۔ انہیں بتوں کو آسرا و رہبر سمجھتے ہیں۔ علم سے کوسوں دور ہیں بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ چودہ صدیاں گزر جانے پر بھی ہم اس ارشاد گرامی کو نہیں سمجھ پائے کہ ' علم حاصل کرنے کے لئے چین بھی جانا پڑے تو چلے جائو''،۔ پکی روٹی کے کتابی بستے ہیں اور ہم ہیں ۔ نسل در نسل سلسلہ یونہی چل رہا ہے۔ وہ درسگاہیں ہی نہیں بنا پائے جو عالم بناتی ہیں۔ درسگاہیں بناتا کون' وہ ہمیں میں سے ہوتے اور ہمارا حال یہ ہے کہ شکم بھر جاتا ہے نیت نہیں بھرتی۔ بھرے پیٹ کی اپنی سوچیں ہوتی ہیں۔ میرے آقائے صادقۖ۔ دنیا کے مال اور حال کے سوا آنکھوں کو کچھ جچتا ہی نہیں۔ لکیر کے فقیروں کی طرح سسک سسک کے جیتے ہیں۔ مگر کیا مجال جو کبھی اس دعوت حق پر توجہ دیں۔ ''بہترین مومن وہ ہے جو اپنے لئے پسندیدہ چیز اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرے۔ '' ہم خود تو سب کچھ کی خواہش پالتے پوستے آگے بڑھ رہے ہیں مگر بھائی کے تن پر اجلا لباس بھی برداشت نہیں کر پاتے۔ آپۖ نے فرمایا تھا' مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ زبان اور عمل سے اس کے دوسرے مسلمان بھائی محفوظ رہیں۔ الحمد للہ ہمارے ہاتھوں سے کچھ بھی محفوظ نہیں۔ ہمارے ہاتھ دوسروں کا حق مارنے' زبان دوسروں کا تمسخر اڑانے اور عمل دوسروں کو روندتے چلے جانے کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔ کیچڑ میں پائوں تلاش کرنے اور دلدل میں راستہ دیکھنے کی عادتوں نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ ہمارا حق اپنا اپنا ہے اور نا حق بھی اپنا اپنا۔ دوسرے کا حق ہمارا ناحق ہے۔ ہمارا نا حق دوسرے کے لئے حق کا درجہ رکھتا ہے۔ انسان دوستی کا سرمدی نغمہ ہمیں مرغوب نہیں رہا۔ ہم تو نفس کے گھوڑے کی سواری کو زندگی سمجھتے ہیں۔ اے رحمت دو عالمۖ۔ اب بس نام کے مسلمان ہیں اور ان میں سے کتنے فتوئوں کی چاند ماری سے محفوظ ہیں یہ فقط اللہ جانتا ہے ۔ آپ فرماتے تھے '' اختلاف رائے میں قدرت کی رحمت پوشیدہ ہے۔ ہم نے اختلاف رائے کو انکار اور انکار کو کفرکا درجہ دے دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تحصیل علم کے دروازے بند کر بیٹھے۔ مکالمہ تو خالصتاً زندیقیت کے زمرے میں ڈال لیا ہے۔ ہم اب بھی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں' انہیں نور علم کا زیور تو کہاں پہناتے ہیں الٹا ان کے وہ حقوق بھی دینے پر تیار نہیں جو آپۖ نے بحکم خدا بتلائے تھے۔ اپنے سماج کی اس نصف آبادی (عورتوں) کے لئے ہماری سوچ آج بھی انقلاب محمدۖ سے قبل کے زمانے والی ہے۔ وہ چند جو بیٹیوں کو باپ کے چہرے کی زینت قرار دیتے ہیں ان کا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ بیٹیوں اور بہنوں کو ان کے شرعی حقوق دینے کی بجائے ہزار عذر نکال لیتے ہیں۔ بہانہ سازی میں فی الوقت ہماری مثال کوئی نہیں۔ اے سخی ابن سخی کریم ابن کریمۖ۔ ہم تو زکواة صدقات اور چندات دیتے وقت بھی اس ارشاد گرامی کو سامنے نہیں رکھتے کہ '' ایک ہاتھ سے ایسے دو کہ دوسرے ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلنے پائے''۔ ایسے ہر موقع پرہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ پورا محلہ' گائوں اور شہر ہماری دریا دلی سے کاملاً آگاہ ہو۔ نہ ہو پایا تو کیسے لوگ جان سکیں گے کہ ہم نے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے۔ آقاۖ۔ ہم میں سے کچھ تو ہر سال عمرہ و حج کرنے کو حسن زندگی سمجھتے ہیں نام جو چوکھا ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سارے عمرہ بازوں اور سالانہ حاجیوں کے خاندانوں میں جہیز کا مناسب انتظام نہ ہونے سے بچیاں بابلوںکی دہلیز پر بیٹھی رہتی ہیں۔ کچھ کی بیوہ بہنوں کے پاس کے ضروریات زندگی پورے کرنے کے وسائل نہیں ہوتے کہ بھانجے بھتیجے فیسیں نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ کیا مجال کہ ان عمرہ بازوں اور سالانہ حاجیوں کو اپنے خاندان اور قرب و جوار کے یہ بھیانک مسائل دکھائی دیتے ہوں۔ آقائے کریمۖ! ہم بھائیوں کا گوشت کھانے والا سماج بن کر رہ گئے ہیں۔ صدیوں سے لگی اس لذت دہن کی وجہ سے اب ہمیں اور کوئی غذا مرغوب بھی نہیں۔ ہم بھائیوں کے عیوب پر پردہ ڈالنے کی بجائے ان عیوب پر ڈھول پیٹتے ہیں تاکہ بھائی رسوا ہوں۔ گردن تک نفس پرستی میں دھنسے ہم حیات ابدی کا حقیقی سامان کرنے سے محروم ہیں۔ اے سرکار دو عالمۖ۔ ہماری وجہ سے ہمارا عالم (دنیا) ہی تماشا ہے۔ اے حبیب مکرم و شافعی محترمۖ! ہمیں اقرار ہے کہ یہ سب عیب نسل درنسل صدیوں سے ہمارا ورثہ ہیں۔ لیکن آپ رحمت دو عالمۖ ہیں' خیر کل۔ ہم سارے حرمان نصیب بس اتنی دعا جن حالات کا ہم شکار ہیں ہماری آئندہ نسلیں ان سے محفوظ رہیں۔ وہ انسان دوست ہوں' علم دوست' ایثار کرنے والی' بھائیوں کا گوشت کھانے سے کامل محفوظ۔

اداریہ