Daily Mashriq

نیا شہر آباد کرنے کی ضرورت

نیا شہر آباد کرنے کی ضرورت

پشاوری پشاور سے دور رہ کر زندگی نہیں گزار سکتا کل ہماری ملاقات ایک پشاوری بزرگ سے ہوئی جو حیات آباد میں پچھلے دس برس سے رہائش پذیر ہیں۔بڑے زندہ دل اور ہنس مکھ ہیں۔ وہ ہمیں پچاس برس کے لگے لیکن جب بات مزید آگے بڑھی تو وہ اپنی عمر کے حوالے سے کہنے لگے جناب یہ اسی برس کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔ہم نے ان سے درخواست کی کہ آج سے ساٹھ ستر سال پہلے والے پشاور کے بارے میں کچھ بتائیے تاکہ ہم اپنے قارئین کے ساتھ آپکی دی ہوئی معلومات بانٹ سکیں تو مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ پشاور کی کون کون سی بات یاد کروں ۔ وہ وقت تو عرصہ ہوا بیت چکا لیکن اب بھی یاد آتی ہے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ میری پیدائش سکندر پورہ نشتر آباد کی ہے کیا دور تھا کیا لوگ تھے کیا نزاکتیں تھیں پشاوریوں کی مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ کوئی مہمان بغیر کھانا کھائے نہیں جاسکتا تھا۔ شادی کی تقریب ایک مہینہ پہلے شروع ہو جاتی ۔ شادی والا گھر مہمانوں کی آماجگاہ بن جاتا ۔ شیر چائے اور قہوے کے دور چلتے۔ روزانہ شام کے بعد عزیز و اقارب اور دوست آشنا شادی والے گھر محفل جمالیتے ۔ کسی کمرے میں کیرم بورڈ کھیلی جارہی ہے تو کسی جگہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے عموماًشادیاں سردیوں میں ہوتیں اس وقت شادی ہالوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا پڑوسی مہمانوں کے لیے اپنے گھر کی بیٹھکیں کھول دیتے یوں مہمان تقسیم ہو جاتے۔ رات گئے تک گپ شپ لگی رہتی لوگوں نے صبح سویرے کام پر بھی جانا ہوتا اس لیے رات دو تین بجے اپنے اپنے گھروں کو سدھارتے کسی کے دل میں یہ خوف نہیں ہوتا تھا کہ راستے میں کوئی لوٹ لے گا۔ اب تو دن دھاڑے لوگوں سے موبائل اور موٹر سائیکل چھینے جارہے ہیں۔ موبائل چھیننا تو بڑی عام سی بات ہو گئی ہے اب تو بڑے آرام سے کسی بھی گھر میں دو چار لٹیرے گھس کر اہل خانہ کو ان کے قیمتی مال ومتاع سے محروم کردیتے ہیں ۔ ہم نے ان کی بات سن کر کہا جناب بہت سی تبدیلیاں وقت کے ساتھ ساتھ ناگزیر ہوتی ہیں اور ان تبدیلیوں نے ہر حال میں ہونا ہوتا ہے۔ آپ پشاور کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھیں افغانستان سے مہاجرین کی یلغار کے علاوہ ہمارے صوبے کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہے وہاں سے بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کرکے پشاور آچکی ہے۔ اب پشاور کی کشش ایسی ہے کہ جو پشاور آیا پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ پھر جتنی تیزی سے آبادی بڑھی ہے اتنی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے حوالے سے جواقدامات کرنے چاہیے تھے نہیںکیئے گئے اس لیے اب جن مسائل کی نشاندہی آپ کر رہے ہیں ان سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ہمیں اس حوالے سے علامہ اقبال کی اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی سے کی گئی ایک ملاقات یاد آرہی ہے ۔ جب دونوں مشاہیر ایک دوسرے سے ملے تو ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ علامہ اقبال نے دوران گفتگو مسولینی سے کہا کہ جب ایک شہر کی آبادی بہت بڑھ جائے تو آپ نیا شہر آباد کر لیں۔ مسولینی نے جب علامہ صاحب کی یہ بات سنی تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر ٹہلنے لگا ۔ پھر علامہ صاحب سے کہا کہ بات تو آپ نے بڑی زبردست کی ہے میں تو ضرور اس مشورے پر عمل کروں گا۔ علامہ اقبال نے مسولینی کی بات سن کر کہا کہ یہ بات میری نہیں ہے یہ تو ہمارے نبی پاکۖ کا فرمان ہے جو میں نے آپ کو بتایاہے ۔ہماری بد قسمتی یہ رہی ہے کہ ہم نے اللہ کے بھیجے ہوئے اپنے پیارے نبی پاکۖ کے فرمان پر عمل ہی نہیں کیا۔ اگر ہم صرف ان کے اس فرمان پر ہی عمل کر لیتے تو آج پشاور کی صورتحال بہت مختلف ہوتی۔اب بھی وقت ہے جتنا جلدی ہو سکے ہماری صوبائی حکومت اس حوالے سے منصوبہ بندی کرے اور پشاور کے قریب ایک نئے شہر کا ڈول ڈالے ۔ جہاں ہسپتال ، سکول،کالج، یونیورسٹیاں،باغات، پختہ سڑکیں، مساجد، مدارس، شاپنگ پلازے وغیرہ ہوں اس کے علاوہ ان علاقوں کو زندگی کی دوسری اہم سہولیات فراہم کی جائیں۔ چارسدہ، صوابی مردان اور دوسرے علاقوں کو جدید سہولیات مہیا کی جائیں۔ ہر وہ سہولت جو بڑے شہروں کا خاصہ ہوتی ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ وہاں کے رہنے والے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے بار بار پشاور آنے سے بچ جائیں گے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل اپنی جگہ اسے روکنا اب کسی کے بس کی بات بھی نہیں رہی لیکن ایسے اقدامات تو کیئے جاسکتے ہیں جو لوگوں کو سہولت فراہم کریں ان کی زندگی کو آسان بنادیں۔ آبادی کے اژدھام کی وجہ سے پشاورمیںہر وقت ٹریفک جام رہتی ہے رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی بہتات نے پشاور کی سڑکوں پر ٹریفک کے معمول کے بہائو کو ناممکن بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہمیں کئی مرتبہ بارہ تیرہ سال کے رکشہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھنے کا اتفاق ہوتا ہے تو اس سے ہمارا یہی سوال ہوتا ہے کہ آپ کا اس عمر میں ڈرائیونگ لائسنس تو نہیں بن سکتا پھر آپ کس طرح پشاور کی سڑکوں پر رکشہ دوڑا رہے ہیں ۔ کیا آپ کا چالان نہیں کیا جاتا؟ وہ بڑی لاپرواہی کے ساتھ ہنستے ہوئے کہتا ہے کہ کیا آپ پشاور کی ٹریفک پولیس کو نہیں جانتے۔ ہم ان کی مٹھی گرم کردیتے ہیں اور مزے سے پشاور کی سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں ۔ ہماری معروضات سن کر وہ کہنے لگے جناب آپ پشاور کا مرثیہ کب تک پڑھتے رہیں گے۔ ہمیں تو آپ کی باتیں سن کر ہول آنے لگے ہیں اس سے تو ہمارا حیات آباد ہی بہتر ہے۔ 

اداریہ