Daily Mashriq


مغل اعظم سے شغل اعظم تک

مغل اعظم سے شغل اعظم تک

ہمیں اس وقت بادشاہ کا نام تو یاد نہیں مغل اعظم کی نسل میں سے کوئی ایک تھا ۔ ان کی چہیتی بیگم نے ایک روز خواہش ظاہر کی کہ مجھے دریا میں ڈوبتے لوگوں کی چیخ و پکار اور اُن کو عالم نزاع میں ہاتھ پائوں مارتے دیکھنے کا بڑا شوق ہے ۔ دوسرے ہی لمحے بادشاہ نے دریا کے کنار ے خیمے کھڑے کئے ان کی تزئین و آرائش کی اورسجی سجائی زرق برق چھولداری میں زرنگارنشستوں پر بادشاہ اور ملکہ جا کر بیٹھ گئے ۔ کچھ ننگے دھڑنگے لوگوں کو کشتیوں میں بٹھایا اور پھر ان کشتیوں کو دریا کی موجو ں کے سپرد کر دیا کچھ سپا ہیوں کو ان کشتیوں کو الٹنے کا حکم صادر کردیااور پھر یہ ننگے دھڑنگے لوگ دریاکی موجوں میںہاتھ پائو ں مارتے غائب ہو گئے۔ اس دوران چھولداری میں بیٹھی بادشاہ کی چہیتی بیگم تالیاں بجاتے ہوئے داد مرگ دیتی رہی ۔ یہ وقوعہ ہمیں اس لئے یاد آیا کہ تخت لاہور کے حکمرانوں نے بھی اس باربسنت کا تہوار بڑے جوش و خروش سے منانے کا پلان ترتیب دیا ہے ۔ لگتا ہے انہیں بھی بسنت میں اڑائی جانے والی پتنگوں کی ڈور سے اپنے عوام کے گلے کٹتے ہوئے دیکھنے کا بڑا شوق ہے ۔ کل ہی کی خبر ہے کہ لاہور کے کسی روڈ پر ایک موٹر سائیکل سوار کے گلے میں پتنگ کی دوڑ پڑگئی اور اس کی گردن پر شدید زخم آئے۔یہ تو پتنگ کے ڈور سے گلا کٹنے کی ریہرسل کے طور پر صرف ایک وقوعہ ہوا ہے ۔ پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود کے بیان کے مطابق دنیا کے گیارہ ممالک نے بسنت کے تہوار میں شرکت کی یقین دہانی کر دی ہے ۔ اس پر ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ اس نوع کے تہوار صرف خود کفیل قوموں کو زیب دیتے ہیں ۔ ایسی قومیں جنہیں زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ جن کے ملک میں امن و امان کا کوئی مسئلہ نہ ہو۔ جہاں ، بیچ چورا ہے پر دن دیہاڑے گن پوائنٹ پر عوام کو لوٹا نہ جاتا ہو ، جہاں 60فیصد سے زیادہ قوم خط غربت پر کیڑے مکوڑے کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہو۔ جہا ں ہر شہری کو پینے کا صاف پانی میسر ہو اور جہاں اسمبلی کے معزز رکن سے گن پوائنٹ پر اسکابٹوہ اور موبائل فون چھین لیا جائے اس تمام صورتحال کے باوجود پنجاب کی سرکار نے فروری کے مہینے میں لاہور میں بسنت کا تہوار منانے کی منظوری دے دی ہے اور پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ مخصوص علاقوں میں بسنت کے میلے کا بندوبست کیاجائے گا ۔ غالباً اُن کا مقصد یہ ہے کہ اگر ان علاقوں میں بسنت کے میلے کا تجربہ کامیاب رہا پتنگ کی ڈور سے گلے کٹنے کے واقعات اس حد تک نہ بڑھے کہ ٹی وی پروگراموں میں یہ موضوع ٹاک آف دی ڈے بن جائے تو پھر بسنت کی سرگرمیاں لاہور کے دوسرے علاقوں تک بھی بڑھائی جا سکتی ہیں ۔ تاہم بسنت کے تہوار جیسے انتہائی قومی نوعیت کے اہم مسئلے پر بڑی سنجید گی سے غور و خوض کا عمل جاری ہے۔ اس معاملے پر عوام کی جانب سے بھی مختلف آرا ء کا اظہار ہوا ہے ۔ کچھ تو فول پروف سیکورٹی کے انتظامات کے بعد میلے کے حق میں ہیں اور دوسرے حلقے نے بسنت پر پابندی ہٹانے کی سختی سے مخالفت کی ہے اُن کا مئوقف ہے کہ تفریح کے نام پر کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔چنانچہ حکومت کو واضح طور پر اعلان کرنا پڑے گا کہ بسنت کے دوران کوئی جانی نقصان ہوا تو اسکی ذمہ داری حکومت کو قبول کرنا پڑے گی ۔ کیو نکہ اس سے پہلے بھی پنجاب میں بسنت نے کئی گھروں کے چراغ گل کر دیئے ہیں ۔ حکومت کے سامنے بے شمار سنجیدہ ایشوز کا ڈھیر پڑا ہے امن پر توجہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا ضروری ہے ۔ اس ضمن میں ہم صرف صحت کے شعبے کی زبوں حالی کی مثال پیش کرتے ہیں ۔ویسے تو ہمارے صوبے میں بھی اس شعبے کی کارکردگی کو مثالی نہیں کہا جا سکتا ، پنجاب کی طرح اگر آپ انسانیت کو تڑپتا دیکھنا چاہتے ہیںتو ہمارے ملک کے کسی بھی سرکاری ہسپتال کے جنر ل وارڈز کا دورہ کر یں ۔ لاہو ر میں تو ینگ ڈاکٹر ز کا سڑائیک پر جانا روز کا معمول بن چکا ہے کل کی خبر ہے کہ لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹروں نے ایک بار پھر فرائض کی ادائیگی سے انکار کر دیا ہے ہم نہیں سمجھتے کہ پنجاب کی حکومت کو اُن کے مطالبات پر غور کرنے میں کیا رکاوٹ ہے ۔ اور وہ عوام کو اذیت میں مبتلا کرنے پر کیو ں تلے ہوئے ہیں ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ درجہ بندی میں پانچ ہزار نو سو گیارہ ہسپتالوں کے بعد اسلام آباد کا ایک مشہورو معروف ہسپتال چھ ہزار ویں نمبر پر رکھا گیا ہے ۔ لاہور کے ہسپتالوں میں کارڈ یالوجی وارڈ موجود تو ہیں لیکن ان میں سے اکثریت غیر فعال ہیں۔ وزیر آباد کا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جو دس سال پہلے چودھری پرویز الہٰی کے دور میں قائم کیا گیا تھا مبینہ طور پر آج بھی فعال نہیں ۔ لاہور کے جیل روڈ پر واقع انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا ایمرجنسی وارڈ مخیرلوگوں کے 50کروڑ عطیات پر تعمیر کیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب ڈھائی سوا رب کی خطیر رقم اورنج ٹرین کے منصوبے پر خرچ کی جا رہی ہے ۔ ہمارے ملک کے کسی بھی ہسپتال میں مشینری ہے تو ڈاکٹر نہیں۔ ڈاکٹر وں کی موجودگی میں دوا ناپید ہوتی ہے ۔ جیب میں اگر آپ کے دو ڈھائی لاکھ روپے کی رقم موجود ہو تو پھر دو سرے روز ہی پرائیویٹ مریض کے طور پر آپ کا آپریشن ہو سکتا ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظرہم تخت لاہور کے حکمرانوں کو یہی مشورہ دے سکتے ہیں کہ بسنت میلے پر خطیر رقم خرچ کرنے کی بجائے عوام کے بنیادی مسائل ازقسم تعلیم اور صحت پر توجہ دیجئے ۔ بسنت جیسی مغل اعظمی شغل اعظم خود کفیل قوموں کا وتیرہ ہوتا ہیں ۔کیا میں نے جھوٹ بولا۔

متعلقہ خبریں