Daily Mashriq


سیاسی مدوجزر کتنا حقیقی کتنا مصنوعی

سیاسی مدوجزر کتنا حقیقی کتنا مصنوعی

فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ گرائونڈ میں گوکہ حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کے پانچ ارکان اسمبلی نے استعفوں کا اعلان کیا ہے لیکن قانونی طور پر انہوں نے استعفیٰ دیا ہے اور نہ ہی استعفے کے لئے مروجہ طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ ان ارکان نے قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے سپیکر کو استعفے نہیں دئیے۔ اس جلسے میں پچاس استعفوں کا اعلان ہونا تھا مگر صرف پانچ ہی آسکے۔ لیکن بہر حال مرکز اور پنجاب میں بر سر اقتدار جماعت کے پانچ اراکین کے استعفے سیاسی طور پر اگر کسی بھونچال کے باعث نہیں تب بھی بوری میں سوراخ کوئی کم سنگین معاملہ نہیں۔ قبل ازیں فیض آباد دھرنا والے وفاقی وزیر قانون کی وکٹ اڑا لے گئے تھے جبکہ دوسری خاتون وزیر جو متحرک ہوا کرتی تھیں مستعفی نہیں تو گوشہ نشینی اختیار کرنے پر مجبور ضرور ہوگئی ہیں اور حکومت کی اخلاقی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے۔ فیض آباد کے دھرنے کے قائدین کے استعفوں کے مطالبے میں مبصرین کی جانب سے اس سلسلے کے نہ رکنے اور مزید استعفوں کے مطالبات سامنے آنے کا خیال غلط ثابت نہ ہوگی اب فیصل آباد کے جلسے کے بعد لاہور میں پڑائو کی جوتیاریاں ہیں پنجاب حکومت کے لئے اسے سنبھالنا خاصا مشکل کام ہوگا۔ گوکہ یہ سب کچھ ختم نبوت کے معاملے پر اٹھنے والے معاملات کا حصہ ہیں مگر اسے ختم نبوت کی نہیں ختم حکومت کا کہنے والوں کی بھی عدم تائید مشکل ہوگی کیونکہ اسی اثناء ہی میں ملکی سیاست میں کنٹینر لے کر دھرنا ایجاد کرنے والے ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کے اسلام آباد دھرنا کے دنوں سیاسی کزن اور بعد کے لا تعلق چچیروں کے درمیان ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر آنے پر اتفاق ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو بیک وقت ایک ہی نیام میں سمونے کی تگ و دو میں ہیں۔ ان کی قیادت سے ان کی غالباً ایک ہی دن ملاقات بھی ہوچکی ہے۔ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ڈاکٹر طاہر القادری سے غیر متوقع ملاقات بھی سیاسی منظر نامے پر دکھائی دی لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ عمران خان اور آصف زرداری یا بلاول بھٹو زرداری اکٹھے قادری کنٹینر پر چڑھ جائیں۔ آصف زرداری مصلحت کی ملاقات کے بعد عازم دبئی ہوچکے ہیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے بیانات میں مسلم لیگ(ن)سے دوری کا نہیں بدستور قرب کا ہی عندیہ ملتا ہے۔ مستزاد پیپلز پارٹی حلقہ بندی بل منظور کرانے میں حکومت کی حمایت پر آمادگی کااظہارکرچکی ہے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی پی پی پی اور پی ٹی آئی یا پاکستان عوامی تحریک کا اکٹھے چلنا نظریاتی و جماعتی بعد اور افکار و عادات کی عدم ہم آہنگی کے باعث ممکن نہیں۔ پی پی پی مشکل ہی سے حکومت گرانے کے کسی عمل کا سنجیدگی سے عملی طور پر حصہ بنے گی۔ پی پی پی کی قیادت کو اس امر کا بہر حال بخوبی ادراک ہے کہ اگر آئندہ کے انتخابات میں کوئی صورت بنتی ہے تو اسے مسلم لیگ(ن) کا اسی طرح سہارا درکار ہوگا جس طرح کا سہارا سینٹ میں اس وقت مسلم لیگ(ن) کو درکار ہے۔ پی پی پی کی گزشتہ حکومت کی تشکیل میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں شمولیت زیادہ پرانی بات نہیں۔ اندریں حالات پی پی پی کے کسی ایسی سعی میں حصہ بننے کا امکان کم ہے جس سے حکومت کی رخصتی کی راہ ہموار ہو۔ پی پی پی کے مد نظر وفاقی وزیر ریلو ے خواجہ سعد رفیق کا یہ بیان بھی ہوگا جس میں انہوں نے کسی اقدام کے ترکی بہ ترکی جواب دینے کا صاف پیغام دیا ہے۔ موجودہ حکومت کے نفس ناطقہ خواجہ سعد رفیق نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کی مخالفت کی جائے لیکن ملک کے ساتھ نہ کھیلا جائے۔ ممبران قومی اسمبلی کو فون کرکے دبائو ڈالنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے ناراض ہونے اور دھرنا دینے والوں کو بھی پیغام دیا ہے کہ ملک کے جہاز میں سوراخ ہوا تو اکٹھے ڈوب جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مسلم لیگ اپنا بیانیہ نہیں بدلے گی اور موقف تبدیل نہیں ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کو مارچ میں سینٹ انتخابات میں اکثریت کے حصول سے روکنے کی قیمت پر ملک میں سیاسی دنگا فساد کی کیا قیمت ادا کی جائے گی اور سیاسی مد و جزر لاکر بھی یہ ممکن ہوگا یا نہیں اگرسیاسی جماعتوں نے اس طرح کے کسی عمل میں حصہ لیا تو آئندہ خود اس کے اقتدار میں آنے کی صورت میں کیا قیمت اداکرنی پڑے گی۔ یہ وہ سوال ہے جس پر پی پی پی نے ضرور غور کیا ہوگا مگر ہرچہ بادہ باد قسم کے سیاسی وغیر سیاسی عناصر کو فی الوقت اس سوال پر غور کرنے کی نہیں بلکہ جو بھی ہو مسلم لیگ(ن) کے اقتدار کے دنوں کو مختصر کرنے کا ہے جس کی سیاسی طور پر گنجائش ہو بھی اور اس کو ممکن بھی بنانا نا ممکن نہ ہو مگر اس سے ملک میں جمہوری استحکام اور سیاسی استحکام کو دھچکا ضرور لگے گا۔ دوسری جانب پانامہ کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد مسلم لیگ(ن) نے اپنی صفوں میں مثالی اتحاد کا جو ثبوت پیش کیا تھا وہ اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ کے مصداق اب حکومت کے عاجلانہ اقدامات اور بلا وجہ ختم نبوت جیسے حساس ترین معاملے کو چھیڑنے کے باعث ناگہانی گرفت میں آچکی ہے۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ بروقت آجاتا تو شاید یہ معاملہ سدھر چکا ہوتا اب پنجاب کے وزیر قانون اگر مستعفی ہوجاتے تو نہ تو پانچ استعفے آتے اور نہ ہی لاہور کے اجتماع کی تیاریاں ہوتیں۔ حالات پلٹا کھانے پر تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملتا۔ سیاستدانوں کی اپنی ہی غلطیوں کے باعث سیاسی صورتحال میں ارتعاش ہے جس کا فرزیں سے بھی ارادہ پوشیدہ رکھنے والے شاطروں کا فائدہ اٹھانا فطری امر ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو اس حد تک نہیں جانا چاہئے کہ جمہوریت کو خطرات لاحق ہوں۔ منصوبہ ساز اخراجی راہیں تلاش کرلیں گے۔ سیاسی جماعتیں منجدھار میں کسی ڈگمگاتی کشتی کی طرح ڈولنے لگیں تو انہیں ایک دوسرے کو ہی آواز دینا پڑے گی۔

متعلقہ خبریں