Daily Mashriq


عرب وزرائے خارجہ کا لاحاصل اور نمائشی اجلاس

عرب وزرائے خارجہ کا لاحاصل اور نمائشی اجلاس

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری کئے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیت المقدس سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لیں۔ انہوں نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان بین الاقوامی قانون کی خطرناک خلاف ورزی ہے۔ اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیاگیا کہ عرب ملکوں کا امریکہ پر سے اعتماد ختم ہوگیا۔ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس سے اس سے زیادہ کی توقع نہیں تھی کیونکہ عرب ممالک امریکی اشاروں پر ناچنے والوں سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے اور آپس کی چپقلش اور عیش و عشرت نے ان کو کہیں کا نہیں رکھا۔ افسوس اب ہمارے اسلامی ممالک کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ امریکہ سے عرب ممالک کے سرمایے کی واپسی امریکہ سے تجارت کے انقطاع اور امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی دھمکی کی بھی ہمت نہیں رکھتے۔ صلاح الدین ایوبی کے بعد صیہونیوں کو پوری قوت سے للکارنے والا کوئی باقی نہیں رہا۔ فلسطینی مسلمانوں کی غیرت و حمیت تو ابھی بھی باقی ہے اور وہ نہتے اسرائیلی فوج کے مظالم کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ مگر ان کے پڑوس کے عرب ممالک بالخصوص اور پوری امت مسلمہ بالعموم اس قدر بزدلی اور مصلحت کا شکار ہیں کہ اپنے فلسطینی بھائیوں کی کھلم کھلا امداد کی بھی ہمت نہیں رکھتے۔ حالات و واقعات سے یہ بھی ثابت نہیں کہ فلسطینی مسلمانوں کی کسی جانب سے خفیہ امداد ہو رہی ہو حالانکہ امت مسلمہ اگر ہمت پیدا کرے تو خفیہ امداد نہیں فلسطینیوں کو اسی طرح کھلم کھلا حمایت کرسکتی ہے جس طرح امریکہ اسرائیل کی کر ر ہا ہے۔ مسلم ممالک کی اس بے حمیتی کے باعث یورپی ممالک اور دیگر ممالک نے بھی محض زبانی جمع خرچ ہی کا مظاہرہ کیا ہے کیا اب وقت نہیں آیا کہ امت مسلمہ عالم کفر کے اس اقدام کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔ مسلم ممالک امریکہ سے تعلقات پر نظر ثانی کریں‘ امریکہ سے مسلمانوں کا سرمایہ واپس لایا جائے۔ امریکہ سے کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے‘ امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اور امت مسلمہ کے وسائل کو مجتمع کرکے فلسطینی مسلمانوں کی اخلاقی و سفارتی اور مالی مدد کرکے ان کو اسرائیلی مظالم سے بچایا جائے اور القدس الشریف کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کی جائے۔

عبرتناک واقعہ سے سبق سیکھنے کی ضرورت

کراچی میں بڑی بہن کی د وستوں کی مدد سے چھوٹی بہن کے قتل کا اعتراف پولیس کی گھڑی ہوئی کہانی ہے یا حقیقت وہ اپنی جگہ لیکن اس واقعے نے جس طرح ہمارے معاشرتی انحطاط‘ دین سے دوری اور ماں باپ کی لا پرواہی و غفلت اور اعزہ کی جانب سے اپنے کام سے کام رکھنے کی انتہا جیسے امور کو پوری طرح سامنے لایا ہے اس سے ہر کسی کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ یہ و اقعہ پولیس کے لئے اس قدر اہمیت کا حامل نہ تھا کہ پولیس کو کہانی گھڑنے کی نوبت آتی اور ملزمہ اور اس کے دوستوں نے اس کاکھلے بندوں اعتراف بھی کیا ہے اور اس کی قبیح وجہ بھی بتا دی ہے اس لئے اس واقعے کو نہ چاہتے ہوئے بھی درست تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ یہ واقعہ ہمارے معاشرے کا وہ آئینہ ہے جس میں دیکھا جائے تو ہم میں سے ہر ایک کو اپنا چہرہ نظر آئے گا۔ معاشی مجبوریاں اپنی جگہ محنت مزدوری بھی کوئی باعث عار امر نہیں عدیم الفرصتی اور شدید تھکاوٹ کی بھی گنجائش ہے لیکن اس کہانی میں محولہ بالا عوامل کی موجودگی کے باوجود والدین کی سنگین غفلت اور چشم پوشی سے صرف نظر ممکن نہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ المیہ بنتا جا رہا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سہولتیں دینے ان کی اچھی تعلیم پر توجہ دیتے ہیں مگر افسوس ان کی دینی و اخلاقی تربیت کی طرف نہ صرف توجہ ہی نہیں دیتے بلکہ ہم اسے غیر ضروری خیال کرتے ہیں۔ کراچی کے واقعے سے ہم جیسے لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور جملہ والدین کو اپنی اولاد کی سرگرمیوں پر نظرر کھنے اور ان کی حرکات نوٹ کرکے تنبیہہ سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ اس طرح رسوائی سے بچنے کا آسان نسخہ دین اسلام سے بچوں کو روشناس کرانا ان کی اخلاقی تربیت پر توجہ اور ان کی نادانی کی عمر میں درست رہنمائی ہے۔ جو ہر ماں باپ کا فرض بھی ہے اور بچوں کا بہتر مفاد بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔

متعلقہ خبریں