Daily Mashriq


دھما ل چوکڑی اللہ خیر کرے

دھما ل چوکڑی اللہ خیر کرے

ایک سیا سی دھما ل چوکڑی سقوط مشرقی پاکستان کے وقت پڑی تھی جب اقتدار ایک سیا سی جماعت کو منتقل نہ کرنے کا کھیل کھیلا گیا تھا جن میں پس پشت کچھ خفیہ طا قتو ں کے گر بھی شامل تھے اور سیا ست دان بھی ان کا ساتھ دے رہے تھے۔ ان سیا ستد انو ں کا تعلق ملک کے دونو ں بازوں سے تھا مگر جو مشرقی با زو سے تعلق رکھتے تھے وہ کوئی با اثر نہ تھے جن میں جما عت اسلا می کے پر وفیسر اعظم ، پاکستان ڈیمو کریٹک کے نو رالامین ، محمو د علی ، وغیر ہ شامل تھے۔ ایک بزر گ سیا ست دان بھی تھے مولا نا عبدالحمید خان بھا شانی جنہو ں نے مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کے اعلان کے وقت مغربی پا کستان کوآخری سلا م پیش کیا تھا ، ان دنو ںبھی سیا سی ہا ہا کا ر تھی اور غدار ومحب الوطن کا شور شرابہ مچا رکھا تھا تب میڈیا آزاد نہ تھا جس نے عوام کے ذہنو ں پر پردہ ڈال دیا تھا۔ حقائق پر گہر ی سیاہی چھا گئی تھی آج میڈیا آزاد تو ہے مگر ما در پدر آزاد ہے خاص طورپر الیکڑانک میڈ یا کا کردار ویسا ہی نظر آرہا ہے جو جنر ل یحییٰ کے دور کے میڈیا کا تھا ۔نو از شریف پو چھتے پھرتے ہیںکہ ان کو کیو ں نکا لا ۔ ان کی برادری یعنی سیاست دان ان کے اس جملے کا تمسخر اڑا رہے ہیں ۔ لیکن جو کہتے ہیں کہ اقتدار اور محبت کی جنگ میں سب کچھ جا ئز ہے اسی فلسفہ پر سیا ستدان نظر آرہے ہیں۔ان کو استحکا م ، جمہوریت وغیر ہ سے کوئی غرض نہیں ہے بس یہ غر ض ہے کہ الیکشن میں جیتا جا ئے اور یہ جیت چاہے کسی قیمت پر ہو۔جمعہ کے دن آرمی چیف کا بیا ن میڈیا پر رونما ہو ا وہ ملکی حالا ت کے پس منظر میں فکر انگیز ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سیا ست دان اس امر کی جانب تو جہ دیتے مگر وہ ایک دوسرے کے گربیان تا ر تا ر کر نے میں مگن ہیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جا وید با جو ہ نے کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کی غلطیو ں کو بھلا کر سیا ست دان ، فوج اور تما م مکاتب فکر کے لو گ مل کر پاکستان کی ترقی میں مثبت کردار اد اکر یں ۔ پاکستان کی تر قی مضبوط جمہو ریت کے ساتھ منسلک ہے ، آرمی حکومت کر نے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے ہے ۔ آرمی چیف نے ایک اہم نقطہ کی جانب بھی توجہ دلائی کہ ما ضی میں فوج اور سیا ستدانو ں نے غلطیا ں کی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ ہم (یعنی فوج) اپنا کا م کر یں اور سیا ستد ان اپنا کا م کر یں ۔ اگر جا ئزہ لیا جا ئے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ میڈیا نے آرمی چیف کے ایک اہم ترین بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ تاریخی بیا ن کو وہ اہمیت نہ دی جس کا وہ مستحق قرار پاتا ہے ۔سیا سی مایو سی ہی نے ماضی میں پاکستان کو ٹکڑے کیا۔ چنا نچہ کسی صورت عوام کو سیا سی ما یو سی کا شکا ر نہیں ہو نا چاہیے کیو ں کہ سیا سی مایوسی عوام میں احساس اجا گر کر تی ہے کہ ان کے پا س ملک کے بارے میں فیصلے کر نے یا فیصلو ں میں شرکت کے اختیار نہیں ہیں۔ مشر قی پاکستان کا اصل سانحہ یہی تھا۔ ماضی میں کہا جا تا رہا ہے اور اب بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ جمہو ریت کو پنپنے نہیں دیتی ، اسٹبلشمنٹ کو مو رد الزام ٹھہر انے والے ذرا اپنے دامن کو تو دیکھیں کہ اس میںکتنے چھیدہیں۔ اسٹبلشمنٹ کی حوصلہ افزائی ان کی اقتدار کی اور ان کے مفادات کی بھوک ہی کیا کر تی ہے۔آرمی چیف کی اس با ت سے تو اتفا ق نہیں ہو سکتا کہ ما ضی میں فوج نے بھی غلطیا ں کی ہیں ، ایو ب خان ،یحییٰ خان ، ضیا ء الحق ، پرویز مشرف کے فیصلے فوج کے کھا تے میں نہیں ڈالے جا سکتے ۔ جس طر ح پر ویز مشر ف کو ملک سے فرار کر انے میں راحیل شریف کا نا م لیا جا رہا ہے۔ تو ایسا ہو ا ہے تو یہ راحیل شریف کا اپنا فیصلہ تھا۔ اس کا فوج کے فیصلے سے کوئی علا قہ قر ار نہیں پا تا ۔ پا کستان کی فوج (ادارہ ) ایک با اصول ، منظم ، اور پیشہ ورانہ مہارت سے مزین ادارہ ہے اگر ماضی کے فوجی ڈکٹیٹروں نے اس ادارے کے نظم وضبط سے اپنی ترجیحات کا مفا د اٹھایا ہے تو اس سے ادارے پر حرف نہیں آتا۔ماضی کی ان غلطیو ں کے ذمہ دار وہ افراد ہیں جنہوں نے ادارے کے قواعد و ضوابط کو تو ڑااو روہ اس لیے سزا کے حقدا ر بھی ہیں ۔ عوام کو جنر ل قمر جا وید باجو ہ کے اس دو ٹوک اعلان سے اطمینا ن پہنچا ہے کہ فوج کی توجہ اپنے فرائض کی جانب مرکو ز ہے اور اس کو نہ تو سیا سی جھمیلو ں سے غرض ہے اورنہ اقتدا ر کی شائق ہے یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ہر ایک کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے کسی کے معاملا ت میں دخل اندا ز نہیں ہو نا چاہیے۔ماضی میںیہ الزام لگایاجاتارہاکہ اسٹیبلشمنٹ حکومتی امو ر میں دخیل ہو تی ہے ۔ اب بات صاف ہو گئی ہے ، یہ درست ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہو یا کوئی اور ادارہ ہو اس کو اپنی حدود میں ہی رہنا چاہیے مگر اس کے ساتھ یہ بھی اصول ہے کہ سیا ست دانو ں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنے دائر ے میں رہیں ، فیض آبا د کا جو دھر نا تھا وہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ اس دھر نے کے مقاصد مذہبی نہ تھے بلکہ سیا سی تھے۔ یہ تو استفسار کیا جاتا ہے کہ فوجی افسر نے معاہدہ کیو ں کر ایا مگر سیا ست دانو ں سے بھی استفسار ہو نا چاہیے کہ معاہد ہ کرنے والو ں نے یہ غیر حقیقی راستہ کیوں اختیا ر کیا ، قوم کو یہ بھی بتایا جا ئے کہ جب فیض آبا د تقریباًخا لی کر الیا گیا تھا تو پھر کا یا کس طر ح پلٹ گئی ۔سیا ست دان جو کھیل کھیل رہے ہیں چاہے وہ کسی کی پشت پنا ہی میں کھیل رہے مگر ان قوتو ں کو یا د رکھنا چاہیے کہ مذہبی جذبات کا استعمال سیا سی اغراض ومقاصد ملک اور جمہو ریت کے ساتھ دوستی نہیں ہے اس کے نتائج ہمیشہ خطرنا ک ہی نکلے ہیں۔ پنجا ب کو سیا سی طو رپر فتح کرنے کی غرض سے اس کے ووٹر وں کو مسلک کی بنیا د پر تقسیم کرنے کی کا وش ملک کے مفا د میں ہر گز نہیں ہے۔ اس وقت جو انتخابی اتحا د بنتے نظر آرہے ہیںوہ پنجاب میں مسلکی تفریق پر مبنی محسو س کیے جا رہے ہیں اور یہ تقسیم ملک بھر میں اثراندا ز ہو جائے گی،اس طرح کئی سیا ست دانو ں کی وزیر اعظم کی گدی پر صریر آر اء ہو نے کی امید یں خاک میں مل جائیں گی۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تمام مسلما ن عاشق رسو لؐ ہیں کوئی خاص طبقہ اس عشق سے وابستہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں