Daily Mashriq


ہائے اس زُود پشیماں کا پشیماں ہونا

ہائے اس زُود پشیماں کا پشیماں ہونا

جنرل پرویز مشرف پاکستان کا بیتا ہوا عہد اور گزرا ہوا وقت ہیں ۔پاکستانی سیاست میں ان کے غیر متعلق ہونے کا آغاز اسی وقت ہوا تھا جب انہوں نے راولپنڈی کے ریس کورس گرائونڈ میں ایک تقریب میں ڈھائی فٹ کی کمانڈ سٹک اپنے جانشین جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کی تھی ۔پاکستان کی تاریخ میں کوئی جرنیل کمانڈ سٹک اور وردی سے محروم ہونے کے بعد دوبارہ آسمان سیاست کی بلندیوں پر نہیں چمک سکا۔ایسا بھی نہیں کہ کسی دل میں ایک بار پھر طلوع ہو کر چمکنے کی تمنا نہ رہی ہو یا کوئی روایتی سیاست دانوں سے صلاحیت میں کم تر رہا ہو ۔بڑے نام وردی میں جن کا ڈنکا بجتا اور جن کی صلاحیتوں کا شہرہ تھا جب اس طاقت سے محروم ہو گئے تو گمنامی کی وادیوں میں گم ہوئے یا پھر دفاع اور سلامتی سے متعلق سیمیناروں اور ٹی وی سٹوڈیوز تک سمٹ کر رہ گئے ۔ جنرل حمید گل جیسی کرشماتی شخصیت اس خارزار میں تادیر اپنا سفر جا ری نہ رکھ سکے ۔

جنرل پرویز مشرف اس ملک کے واحد ریٹائرڈ جرنیل نے جن کے دل میں وردی اتارنے کے بعد بھی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرنے کی کلی چٹک کر رہ گئی ہے۔اس خواہش پر اصرار کرکے وہ درحقیقت پاکستان کی سیاسی تاریخ سے لڑ رہے ہیں۔گو کہ انہیں سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے خواہش مند جرنیلوں سے یہ بات ممتاز کرتی ہے کہ وہ ملک کے واحد زندہ فوجی حکمران ہیںاس کے باوجود وہ ادارہ جاتی طاقت سے محروم ہیں۔فوج ان کے لئے ہمدردی تو دکھا سکتی ہے مگر انہیں راتوں رات مقبولیت کی بلندیوں تک نہیں پہنچا سکتی ۔ایسے میں جب کہ ان کا ماضی بہت سے پچھتائوں اور احساسِ زیاں سے بھرا پڑا ہے اور ملک میں بے شمار حساب کتاب اورسوال جواب اس ماضی سے وابستہ ہیں۔ان کی استقامت کو داد دی جانی چاہئے وہ اپنے عہد سے وابستہ واقعات کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ایک با رپھر تاریخ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں ۔ان کی اسی استقامت کا کمال ہے کہ وہ ایک عدد سیاسی جماعت قائم کرکے اور ٹی وی انٹرویوز کے ذریعے خود کو عوام کی لوح حافظہ پر تازہ رکھتے ہیں۔ احساس ِزیاں سے بھرپور ان کا ایک حالیہ انٹرویو بہت دلچسپی اور توجہ سے سنا گیا ۔

جنرل پرویز مشرف نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے تحریک آزادی کے حوالے سے اپنے بعض اقدامات پر پچھتاوے کا اظہار کیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ حافظ سعید زبردست کام کر رہے ہیں میں ان کو سپورٹ کرتا ہوں ۔اپنے دور میں حافظ سعید پر پابندیوں پر سخت پچھتاواہے۔2002میں مجاہدین کی سرگرمیوں پر اس لئے پابندی لگائی تھی کہ ہم سیاسی حل کی طرف جائیں ۔میں نے واجپائی کے ساتھ معاملات حل کرنے کی کوشش کی تھی ۔جنرل پرویز مشرف ہر حکمران کی طرح اپنے عہد اقتدار میں ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے ۔انہیں یہ زعم تھا کہ دنیا کے دو بااثر حکمران امریکہ کے جارج بش اور برطانیہ کے ٹونی بلیئر ان کے ساتھ ہیں اس لئے ان کا کوئی کام رکاوٹوں کی زد میں نہیں آسکتا۔یہ وہ زعم تھا جس کا اظہار انہوں نے سری نگر میں سیدعلی گیلانی کے ساتھ ہونے والی ایک تلخ ملاقات میں بھی کیا تھا ۔امریکہ جنرل مشرف کو دبائو میں لاکر بھارت کے ساتھ ایک ایسا سمجھوتہ کرانا چاہتا تھا جس میں کشمیر یوں کی خواہشات کوقطعی اہمیت حاصل نہیں تھی ۔یہی وہ دور تھا جب کشمیری حریت پسندوں پرکریک ڈائون کیا گیا یہاں تک کہ متحدہ جہاد کونسل کے نمائندوں کو اسلام آباد میں ایک حساس ادارے کی عمارت کے سامنے احتجاجی دھرنا دینا پڑا۔جنرل پرویز مشرف کی طرف سے یہ سب کوششیں اس امید پر کی جارہی تھیں کہ شاید بھارتی حکمرانوں کا دل موم ہوجائے اور وہ مسئلہ کشمیر کے باعز ت اور قابل قبول حل پر آمادہ ہوجائیں مگر بھارت کے حکمران محض وقت گزاری اور سر ی نگر پر اپنے ناجائز تسلط کو پاکستان کی طرف سے قبولیت اور جواز فراہم کرنے کے تحت یہ سب کھیل کھیلنے میں مصروف تھے ۔

بھارتی میڈیا میں کبھی کبھار ایسی رپورٹ شائع ہوتی کہ جس میں واضح کیا گیا ہوتا تھاکہ پاکستان سری نگر میں سیر وسیاحت کے حقوق تو حاصل کرسکتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ ساری مشق اکارت چلی گئی اور نام نہاد امن کی بس کو ریورس گئیر لگ گیا ۔نوے کی دہائی میں امریکہ نے فلسطینی قیادت کو اسرائیلی حکومت سے معاہدے پر اس وعدے کے ساتھ مجبور کیا تھا کہ اس کے بعد حالات فلسطین کی الگ ریاست پر منتج ہوں گے ۔ایک طویل مدت کے بعد امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے یہ ثابت کیا کہ فلسطینی قیادت کو دھوکا دہی سے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا تھا ۔ایک بے اختیار سی میونسپل کمیٹی نما ڈھانچہ دے کر انہیں مطمئن کر نے کی کوشش کی ۔کم وبیش یہی کھیل کشمیریوں کی تحریک کے ساتھ بھی کھیلا جارہا تھا ۔جنرل پرویز مشرف کی لچک کے باوجود بھارت نے کشمیریوں کو ٹرخانے کی پالیسی اختیار کی او ر اس دھوکا دہی کا انجام ناکامی پر ہی منتج ہوا۔اب جنرل پرویز مشرف جس پچھتاوے کا اظہار کررہے ہیں اس سے اور کیا ہوسکتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ اور آنے والے حکمران اس حقیقت کو پلے باندھ لیں کہ بھارت پر بھروسہ کرکے اپنی قوم اور اپنے محسنوں سے لڑائی چھیڑنا کبھی اچھے نتائج کا باعث نہیں بنتا کیونکہ بھارت ایک ناقابل اعتبار ملک ہے ۔

متعلقہ خبریں