Daily Mashriq


اب انصاف کا وقت ہے

اب انصاف کا وقت ہے

ایک خاموش تنہا کونے میں بیٹھ کر اس ملک کے حالات پر غور کرتے ، معاملات کے حل تلاش کرتے شاید ایک عمر گزر جاتی لیکن پھر احساس ہوا کہ شاید بات صرف اتنی سی نہیں رہ سکتی شاید اس سے زیادہ اس ملک کو کچھ دینا ہمارا فرض ہے ۔ شاید ایک دوسرے کا ہاتھ نہ بٹایا تو کوئی اثبات کبھی جنم نہیں لے گا ۔ آگہی کسی منزل کا نشان ضرور دکھاتی ہے لیکن اس منزل کی جانب قدم نہ بڑھائے جائیں تو فاصلے کبھی کم نہیں ہوتے ۔راستے قدموں میں پڑے رہیں تو کبھی کم نہیں ہوتے ۔ ان پر قدم اٹھائے جائیں تو منزلوں کی روشنی دکھائی دیتی ہے ۔ اس ملک میں کو ہ ندا کی سی کیفیات پائی جاتی ہیں ۔ یہ ملک آواز دیتا ہے اور انسان اس کی محبت میں مبتلا دنیا کے کسی کونے میں موجود ہو ، اس کی جانب کھنچا چلا آتا ہے ۔ ہم جو سوچنے سمجھنے کے دعویدار ہیں ، جو خود کو مسائل کے حل تلاش کرنے کی جستجو میں مشغول سمجھتے ہیں ، ہم اسی گو مگو کا شکار رہتے ہیں کہ دراصل یہ سب کیا ہے ۔ کیسا گورکھ دھندہ ہے ۔ ہمیں بے شمار شکایات ہیں لیکن انہی شکایات کے دلدل کے بیچوں بیچ اس ملک سے محبت کا کنول ہمیشہ ہی کھلا رہتا ہے ۔ اور اس کنول سے اک عجب روپہلی روشنی پھو ٹتی ہے ۔ یوں لگتا ہے کوئی مدھر گیت ہے جو ہمہ وقت اس کنول کے آس پاس روشنی کی طرح موجود ہے ۔ یہ وطن ہماری روح کا نغمہ ہے ، ہماری بنیاد کی مٹی کی کھنکھناہٹ ہے ۔ ہماری سوچ میں روشن لوہے ۔ یہ سب ایسا ہی ہے لیکن پھر بھی اک عالم پریشاں ہے ۔ یہ ملک اک عجوبہ ہے ۔اور کچھ کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ اس ملک کے بارے میں کوئی کیا کہے اور کیا سوچے ، ہم اکثر خود کو اس احساس میں مقید تصور کرتے ہیں کہ اس ملک میں اک عجب سی آمریت ہے جسے جمہوریت نے اپنا لبادہ اوڑھا کر ہمارے سروں پر مسلط کر رکھا ہے ۔ اس آمریت کا منبع کہاںہے ۔ کبھی فوج کی جانب نظریں اٹھیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ مطلق العنانی کی خواہش تو ان جمہوری حکمرانوں کے رویوں میں ہے جو دن رات جمہوریت ، جمہوریت الاپتے رہتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر اس ملک میں جمہوریت کی کھیتی اگا رہے ہیں لیکن ان کے ہاتھوں میں ہل نہیں بھالے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ زمین گود کر اپنی بدعنوانی کے بیج اس میں بوتے ہیں۔ ان کی آبیاری اپنے اختیارات کے کسیلے پانی سے کرتے ہیں۔ اسے نخوت کا زہر بھی پلاتے ہیں اور انا کی زہریلی ہوا میں یہ کھیتی پھلتی پھولتی ہے۔ تبھی تو جو فصل اگتی ہے وہ نہ ہمارے کھانے کے قابل ہے اور نہ ہی اس سے کسی کو کوئی فائدہ ہے۔ جب انہیں اپنی آمریت اور مطلق العنانی پر کوئی ضرب پڑتی محسوس ہوتی ہے تو یہ جمہوریت جمہوریت چلانے لگتے ہیں۔ انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید جمہوریت ان کے مفادات کی حفاظت کا کوئی چلہ ہے جس کے کاٹنے سے یہ محفو ظ ہو جاتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں کہ جمہوریت کے نتیجے میں عوام کی مرضی کوشنا خت ملنے لگتی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ جمہوریت کا مقصد لوگوں کی بھلائی کو لوگوں کی خواہشات کے عین مطابق ڈھال کر ملک کے سینے پر تمغوں کی طرح سجانا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ جمہوریت کے نتیجے میں جاتی امرا جیسے محلات کے دروازے عام آدمی کے لئے کھولنے پڑتے ہیں اور بنی گالا تک کی اونچائی کو ہموار کرنا پڑتا ہے۔ یہ کچھ نہیں جانتے اور جمہوریت مطلق العنانی کے شوقین پاکستانی سیاستدانوں کے پیروں میں پڑی خون تھوکتی رہتی ہے۔آج میاں نواز شریف کی حالت دیکھ کر کتنے ہی لوگ دھیرے دھیرے یہ کہتے ہیں کہ انہیں اپنے غرور ہی کی توسزاملی ہے۔ ان کے لہجوں کی نخوت نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ان کے گلے میں پڑا سریہ غریبوں کی کمر کی ہڈی توڑ دیا کرتا تھا۔ یہ اللہ کی پکڑ ہے جو اس وقت دکھائی دے رہی ہے اور یہ معاملہ اس کہیں نہ رکے گا۔ یہ اب اپنے کئے کا صلہ پا کر رہیں گے۔ جتنا ظلم انہوں نے اس ملک پر ڈھایا ہے‘ جیسی بے بسی عوام نے ان کے د ور میں محسوس کی ہے اس کا کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔ نہیں بات صرف انہی تک کہاں موقوف تھی ان سے پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت میں بھی لوٹ مار کا یہی عالم تھا اور غریب کے لئے کہیں کوئی جائے اماں نہ تھی۔ یہ سب ایک جیسے ہیں ان میں سے کون ایک دوسرے سے کم ہے۔ یہ سب اپنے ظلم میں ایک دوسرے سے بڑھے ہوئے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کے بعد میاں شہباز شریف کے دن بھی گنے گئے ہیں۔ میں دعا کرتی ہوں ان سب کے ہی دن گنے جائیں اور دل میں جانے کیوں یہ امید ہے کہ شاید سروں کی یہ فصل اب پک چکی ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ پر معصوم لوگوں کا خون ہے۔ کراچی میں بلدیہ فیکٹری کے زندہ جلائے جانے والے ملازمین سے لے کر سانحہ ماڈل ٹائون تک‘ بدعنوانی کی داستانوں کی الف سے لے کر ے تک ‘ کس کس بات سے یہ لوگ اپنے آپ کو آزاد کروا سکتے ہیں۔ کیا ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ آصف علی زرداری کے دامن پر کیا داغ ہیں اور اے این پی کے لیڈروں کے دامن پر کیسی کیسی ملک دشمنی کی تہمتیں ہیں۔ یہ کہانی بہت خون آلود ہوگی لیکن اس ملک کا‘ اس کے عوام کا حساب اس کے سوا کیسے بے باک ہوگا۔ اب یہ گومگو کی کیفیت اپنے سے دور کیجئے۔ اب خوف کا وقت لد چکا۔ انصاف کے کوہ ندا سے آواز آرہی ہے اور ان میں سے ہر ایک کو اپنے حصے کا حساب دینا ہے۔ اپنے ظلم کے زنداں کو لبیک بھی کہنا ہے۔ اب ان کے حساب کا وقت ہے‘ انصاف کا وقت ہے۔

متعلقہ خبریں