Daily Mashriq


پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے

پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے

کاروان حوا کی بیٹیاں بار بار اصرار کر رہی تھیں کہ میں ان کے نعتیہ مشاعرے میں شرکت کروں لیکن میں ان سے ایک دن پہلے ہی عرض کرچکا تھا کہ مجھے چھٹی عالمی ہندکو کانفرنس میں جائزہ پیش کرنا ہے’’ پشاور میں بولی جانے والی ہندکو ‘‘کا۔ اس موضوع پر میں نے درجن بھر صفحات پر مشتمل مقالہ لکھ رکھا تھا ۔جس کا منتر گندھارا ہندکو بورڈ کی راجدھانی کے 35 رتنوں کے رتن کمار محمد ضیاء الدین نے میرے کانوں میں مہینوں پہلے پھونک دیا تھا۔ بھلا کیسے نہ لکھ پاتا اس موضوع پر جس کے لئے میں کب سے کتنی کشتیاں جلا کر ماں کی لوریوں کی بازگشت سننے کے شوق پا پیادہ سرگردان ہوں۔اور پھر میں نے دیکھا کہ جس لیلیٰ کی تلاش میں صحرا کی خاک چھان رہا ہوں وہاں سے اک اور قافلہ ‘لیلائے ہندکو‘ کی تلاش گامزن سفر ہے۔ کوشش کی قافلہ والوں کے ہمرکاب ہونے کی مگر کہاں تھی گنجائش یاران تیز گام میں کسی چیتھڑے پوش مجنوں کو ساتھ لیکر چلنے کی۔اب کے بار جوگندھارا ہندکو بورڈ والوں نے جو ہندکو کے ایک موضوع پر مقالہ لکھنے کی فرمائش کی تو ساتھ میں یہ عندیہ بھی دیا کہ ہم کر رہے ہیں رونمائی تیری اک لاڈوں پالی دلہنیا کی۔ دھن دولت اور دل گردے والے غریب اور بے سہارا بچیوں کی اجتماعی شادی کرانے کے بعد جنت خرید نہیں سکتے تو وہاں بکنگ ضرور کروالیتے ہوں گے۔ اللہ کی اللہ جانے ،ہم تو صرف اتنا جان پائے ہیں کہ ان کی دین اور دنیا کی اس بھلائی کا چرچا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بہت ہوتا ہے اور ساتھ ہی اجتماعی شادی کے دوران ایک جیسے زرق برق لباس میں دلہنوں اور دلہا بھائیوں کی ٹیکنی کلر تصویریں بھی میڈیا کے صفحات یا سکرینوں پر بغیر کسی رونمائی کے رونماکردی جاتی ہیں۔ جو لوگ شادی شدہ ہیں وہ جانتے ہونگے اور جو شادی شدہ نہیں ان کو جان لینا چاہئے کہ دلہن کے مکھڑے کے درشن کو رونمائی نہیں کہتے ، رونمائی اس رقم یا تحفے کو کہا جاتا ہے جو چہرہ دیکھنے والا دل پر پتھر یا پھول رکھ کر ادا کرتا ہے۔ گندھارا ہندکو اکیڈمی کے ارباب بست وکشاد نے جس وقت ہندکو کی سو کتابوں کی اجتماعی رونمائی کی تو میں ٹھنڈی آہ بھر کر دل ہی دل میں ’’ہائے میری غربت ‘‘کا سیاپا کرنے لگا شا مجھے اس کیفیت سے نہ گزرنا پڑتا اگر رونمائی کی جانے والی نومطبوعہ کتابوں میں میرا ہندکو مجموعہ کلام عین شین قاف دلہن بنی کتاب کی صورت موجود نہ ہوتی۔’’ کتنا ناشکرا ہے تو‘‘۔ ہائے میری غربت کی فریاد سن کر ضمیر دل پر چیخا اور یوں ہوگئے آپس میں دل اور ضمیرگتھم گتھا۔ اور پھر میں نے محسوس کیا کہ ضمیر نے دل کو زیر کرلیا اور مجھے اس بات کا اقرار کرنا پڑا کہ میں کبھی بھی اپنے ہندکو مجموعہ کلام عین شین قاف کا مصنف نہ کہلا پاتا اگر گندھارا ہندکو بورڈ والے اسے شائع کرکے منصہ شہود پر نہ لاتے۔چھٹی کا دودھ یاد آجانا چاہئے تھا چھٹی عالمی ہندکو کانفرنس کی تیاریوں میں مگن گندھارا ہندکو اکیڈمی کے تنخواہ داروں اور متعلقین کو۔ ایک بھونچال کا سامنا کر رہے تھے یہ بیچارے جس کا مرکز کوہ ہندوکش کے پہاڑی سلسلہ کی بجائے محمد ضیاء الدین نامی کوہ آتش فشاں کی چوٹی تھا۔ 

بات پر واں زبان کٹتی ہے

وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

وہ بولنے پر آتے ہیں تو بے تکان بولے چلے جاتے ہیں۔ اماں حوا کی ایک نامور قلم بدوش بیٹی میسج در میسج بھیج کر خانہ فرہنگ ایران کے خمینی ہال میں حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں سجنے والے نعتیہ مشاعرے کا واسطہ دیکر چھٹی عالمی کانفرنس سے نکل بھاگنے کا مشورہ دیتی رہی جس کے جواب میںابن آدم ایک ہی رٹ لگاتا رہا کہ’’ میں نے پڑھنا ہے مقالہ‘‘۔ اگر مقالہ پڑھ لیتا تو پہنچ جاتا بشریٰ بہن کی سجائی گئی نعتیہ مشاعرہ کی محفل میں مگر ہائے ری شومئی قسمت کہ میں یہ اعزاز نہ پاسکا۔ ایک بار تومجھے یوں لگا جیسے علم ہوگیا ہے حضرت ضیاء الدین کو بشریٰ بہن اور میرے درمیان ہونے والی میسج بازی کا۔ لگتا تھا کہ انہوں نے مجھ سے مقالہ نہ پڑھوانے اور اپنی لن ترانیاں سنانے کی قسم کھا رکھی ہے۔

خدا کی شان ہے، ہر بت کو دعویٰ ہے خدائی کا

ہر اک پتھر سے اڑتا ہے شرارہ لن ترانی کا

قہر درویش بر جان درویش کے مصداق ہم دانتوں میں انگلی دبائے سنتے رہے ان کی ہر بات اور شام کی ڈھلنے کے بعد روسٹرم تک پہنچے تو کہہ ڈالا جو منہ میں آیا۔ اکبر اعظم کے نو رتن تھے اور ان کے سر پر مغل اعظم کا تاج تھا لیکن پورے پینتیس رتن والے محمد ضیاء الدین گندھارا اکیڈمی کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ مگر اپنا مقالہ پڑھنے سے پہلے میں نے حاضرین جلسہ سے یہ بات بھی کہی کہ میں ’’داد دیتا ہوں آپ کے عزم و حوصلہ کی جو آپ صبح سے شام تک ایک ہی تقریر سن رہے ہیں‘‘۔ ہاں جانتا ہوں بری لگی ہوگی مہابلی ضیاء الدین کو میری یہ بات اور ساتھ ہی یہ بھی سوچتا ہوں حوا کی بیٹیوں نے کیوں منعقد کروایا عین اس دن اور اس وقت نعتیہ مشاعرہ جب ہندکو اکیڈمی کے سبزہ زار میں منعقد ہورہی تھی چھٹی عالمی ہندکو کانفرنس کے پہلے روز کی تقریب سعید۔ اور یہ کہ نظر کیوں نہیں آئیں گندھارا کی ہر مجلس میں دکھائی دینے والی بشریٰ فرخ، کیا یہ میں غلط تو نہیں کہہ رہا کہ

بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں

پر اب کے سر گرانی اور ہے

متعلقہ خبریں