Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

انورپاشا ترکی کے ان جلیل القدر مجاہدین میں سے تھے جنہوں نے اپنی ساری عمر اسلام دشمنوں کے ساتھ جہادمیں صرف کی اور بالآخر روسی بالشویکوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے اپنی شہادت سے صرف ایک دن پہلے اپنی اہلیہ کے نام خط ارسال کیا جو اہمیت کے باعث ترکی کے اخبارات میں شائع کرایاگیااور وہیں سے ترجمہ ہو کر 22اپریل 1923ء کے ہندوستانی اخبارات میں شائع ہوا۔ اس خط کے چند اقتباسات یہاں پیش کئے جا رہے ہیں:میری رفیقہ حیات! خدائے بزرگ و برتر تمہارا نگہبان ہے‘ میں تم سے صرف اور صرف اس لئے جدا ہوا ہوں کہ حق تعالیٰ کا فرض مجھے یہاں (میدان جہادمیں) کھینچ لایا ہے۔ راہ حق میں جہاد سے بڑھ کر کوئی فرض نہیں‘ یہی وہ فرض ہے کہ جس کی ادائیگی کی نیت ہی انسان کو فردوس بریں کا مستحق بنا دیتی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ میں فرض کی محض نیت ہی نہیں رکھتا بلکہ اسے عملاً انجام بھی دے رہا ہوں‘ تم پر تلوار سے جہاد فرض نہیں لیکن تم بھی فرض جہاد سے مستثنیٰ نہیں ہو‘ کوئی مسلمان مرد ہو یا عورت جہاد سے مستثنیٰ نہیں ‘ تمہارا جہاد یہ ہے کہ تم بھی اپنے نفس اور محبت پر محبت خدا کو مقدم رکھو اور یہ دعا ہر گز نہ مانگنا کہ تمہارا شوہر میدان جہاد سے کسی طرح صحیح و سلامت آجائے ۔ فقط تمہارا۔ انور۔ (تراشے صفحہ نمبر170)

ابوزکریا التیمیؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیر الومنین سلمان بن عبدالملک مسجد حرام میں تھے‘ ان کے پاس ایک پتھر لایا گیا جس پر تراش کر کچھ لکھا گیا تھا‘ پس انہوں نے اسے پڑھنے والے کو طلب کیا تو حضرت وہب بن منبہؒ کو لایاگیا‘ انہوں نے اس کو پڑھا جس میں لکھا تھا:

اے ابن آدم! اگر تجھے تیری بقیہ عمر کا قریب ہونامعلوم ہو جائے تو تو لمبی آرزوئوں میں کمی کردے اور اپنے عمل میں زیادتی کی جانب راغب ہو جائے اور اپنی حرص و ہوس کو مختصر کردے اور تجھے بڑی شرمندگی لاحق ہوگی۔ اگر تیرے قدم پھسل جائیں اور تجھ سے تیرا باپ اور رشتہ دار جدا ہوجائیں اور بیٹا اور احباب تجھے چھوڑ کرچلے جائیں۔ پس پھر تو نہ دنیا میں واپس آسکے گا اور نہ اپنے اعمال میں کوئی زیادتی کرسکے گا۔ لہٰذا قیامت کے دن کے لئے حسرت و شرمندگی سے پہلے ہی تیاری کرلے۔

یہ سن کر خلیفہ سلیمان بن عبدالملک پر شدت کا گریہ طاری ہوگیا اور وہ روتے رہے۔

حضرت عبداللہ بن رواحہؓ ایک دفعہ اچانک رو پڑے‘ یہ دیکھ کر ان کی بیوی بھی رونے لگی۔ حضرت ابن رواحہؓ نے پوچھا کہ تم کیوں رو رہی ہو؟ بیوی نے کہا کہ آپ کا رونا دیکھ کر میں بھی رو پڑی۔ حضرت ابن رواحہؓ نے فرمایا مجھے یہ آیت یاد آگئی‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا گزر جہنم کی طرف سے نہ ہو۔ اب میں نہیں جانتا کہ میں جہنم سے نجات پائوں یا نہیں اس لئے میں رورہا ہوں۔

(تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں