Daily Mashriq

اندھیرے میں تیر چلانے سے کچھ نہ ہوگا

اندھیرے میں تیر چلانے سے کچھ نہ ہوگا

خیبر پختونخوا میں ہزاروں لوگ انسداد دہشتگردی ایکٹ1997 کے تحت شیڈول فور میں شامل کئے گئے۔ ان پانچ ہزار افراد پر نظر رکھنے کیلئے کوئی موثر نظام موجود نہ ہونا ہی سوال نہیں بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کو مبینہ طور پر مشکوک فہرست میں شامل تو کیا گیا ہے مگر کسی کا اتہ پتہ معلوم نہیں۔ ہمارے جرائم نگار کے مطابق ایک طرف تو فہرست میں ماضی میں شامل کئے جانے والے بعض افراد کا مکمل ڈیٹا یعنی پتہ اور حتیٰ کہ شناختی کارڈ نمبر تک موجود نہیں جبکہ دوسری طرف یہ لوگ آزادانہ نقل وحرکت کرتے ہیں، متعدد تھانوں کو یہ بھی نہیں معلوم آیا ان کی حدود میں فورتھ شیڈول کے مشکوک افراد موجود ہیں بھی یا نہیں۔ پشاور میں اس وقت فورتھ شیڈول کے مشکوک افراد کی تعداد 452ہے۔ واضح رہے کہ شیڈول فورتھ میں وہ لوگ شامل نہیں ہوتے جو براہ راست دہشتگردی میں ملوث ہوں بلکہ زیادہ تر وہ ہیں جن پر دہشتگردوں کو سپورٹ کرنے کا الزام ہوتا ہے۔ شیڈول فورتھ کے مشکوک افراد پر نظر رکھنا بنیادی طور پر ایس ایچ اوز کی ذمہ داری ہے۔ اس بارے کوئی رائے نہیں دی جاسکتی کہ ان افراد کی کھلی آنکھوں پرکھ کے مشکوک افراد قرار دیا گیا ہے۔ یا بند آنکھوں فہرست مرتب ہوئی ہے لیکن حیرت انگریز امر یہ ضرور ہے کہ ان افراد کے بارے میں حکام کو اتنا بھی علم نہیں کہ وہ لوگ کون ہیں انکا پتہ اور سکونت کیا ہے اور وہ کس شناختی کارڈ نمبر کے حامل ہیں۔ جن کے بارے میں اتنی بنیادی تفصیلات کا بھی حکام کو علم نہیں ان کی سرگرمیوں جن کا پوشیدہ اور مخفی ہونا فطری امر ہے حکام کو علم کیسے ہوا اور ان افراد کے ناموں کو اس فہرست میں کیسے شامل کیا گیا جس کا اتہ پتہ معلوم نہ ہو۔ شناختی کارڈ نمبر نامعلوم ہو، اس کی نگرانی علاقہ ایس ایچ او کیسے کرے گا اور عدم شناخت کے حاملین کی شناخت کیسے ہو سکے گی ایسا معمہ ہے کہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ حکام کی اس طرح کی فرضی فہرستوں اور اندھادھند کئے گئے فیصلوں ہی کا عقدہ اس وقت کھلتا ہے کہ جب کوئی بڑی واردات ہوجاتی ہے تب اس کا کھوج لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملزمان کون تھے اور ان کے سہولت کار کون؟۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فرضی طویل فہرست مرتب کرنے کو کافی سمجھے جانے کی بجائے حقیقی معنوں میں مشکوک افراد تفصیلی فہرست کوائف اور شناخت کیساتھ متعلقہ تھانوں کے حوالے کی جائے، تب علاقہ پولیس کیلئے یہ ممکن ہوگا کہ وہ شیڈول فور کے حامل افراد کی نگرانی اور طریقہ کار پر عملدرآمدکروا سکیں گے ورنہ اندھیرے میں تیر چلانے کاکوئی فائدہ نہ ہوگا۔

حق بحقداررسید

سروسز ٹریبونل کی جانب سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر مشتاق احمد غنی کے احکامات کو کالعدم قرار دے کر سرکاری ملازم کیساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ سپیکر اسمبلی کی غیرجانبداری اور میرٹ پر یقین بارے بڑا سوال ہے۔ اس سے بھی حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سپیکر نے عدالت عظمیٰ کے احکامات کو بھی خاطر میں نہ لایا اور سپریم کورٹ کی جانب سے تعیناتی کالعدم قرار دینے کے باوجود موجودہ سپیکر مشتاق غنی نے دوبارہ اسی شخص کو سیکرٹری صوبائی اسمبلی تعینات کیا جس کیخلاف خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ میں سینئر ترین ایڈیشنل سیکرٹری نے سروسز ٹریبونل میں درخواست دائر کی۔ تین رکنی ٹریبونل نے 25ستمبر2018 کے سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے سینئر ترین ایڈیشنل سیکرٹری کو سیکرٹری صوبائی اسمبلی تعینات کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ سابق سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اور موجودہ سپیکر قومی اسمبلی نے اسمبلی سکریٹریٹ میں بھرتیوں اور خلاف ضابطہ ترقیوں کا جو ریکارڈ قائم کیا تھا موجودہ سپیکر کو اس حوالے سے عدالت عظمیٰ کے احکامات پر فوراً عملدرآمد کرنے کی ضرورت تھی اور درخواست گزار کو ایک اور فورم سے رجوع پر مجبور نہیں کیا جاناچاہئے تھا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی ایک آئینی ادارہ اور صوبے میں قانون سازی کا مرکز اور عوام کی نمائندہ اسمبلی ہے جس کے سپیکر کو ذاتی پسند وناپسند سے بالاتر ہو کر اسمبلی سکریٹریٹ سے لیکر ایوان چلانے کی ذمہ داری نبھانی چاہئے تھی یہ تو آفاقی اصول ہے کہ سینئر سینئر ہوتا ہے اور اس کے ترقی کا حق مقدم ہوتا ہے۔ اس حق کے حصول کیلئے اگر سرکاری ملازمین کو عدالتوں کا چکر لگانا پڑے تو ان کی کارکردگی کیا خاک ہوگی یا پھر جس کیساتھ ناانصافی کی گئی ہو وہ حصول حق کے بعد کیسے ہم آہنگی کی فضا میں کام انجام دے سکے گا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومتی ارباب حل وعقد اور ہمارے آئینی اداروں کے سربراہان اپنی جماعت کے منشور کے مطابق تقرریوں اور تبادلوں سمیت اہل حقدار اور سینئر افراد ہی کو ترقی اور تقرریوں میں ترجیح دیں گے اور حقیقی معنوں میں میرٹ کا بول بالا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ کسی سرکاری اہلکار سے ناانصافی کسی ایک فرد سے ناانصافی نہیں بلکہ انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہوتا ہے جس سے گریز کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں