Daily Mashriq

ہر زبان پر تذکرہ اور میڈیا سے توقعات؟

ہر زبان پر تذکرہ اور میڈیا سے توقعات؟

کسی سزایافتہ اور مفروروں کی میڈیا کوریج کا ان کی سزائوں بلکہ عدالت میں مقدمات سے کیا تعلق ہے اس فلسفے کو سمجھنا کچھ مشکل ہے اگر ہم ماضی قریب میں دیکھیں تو جس طرح دہشت گردی اور دہشت گردوں کی میڈیا کوریج ہوتی تھی اگر محولہ فارمولے کے مطابق ان فوٹیجز کا جائزہ لیا جائے تو پورا میڈیا ہی کٹہرے میں قصوروار کھڑاآئے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ میڈیا کی ذمہ داری کسی بھی جز یا واقعے کی معروضی انداز میں قارئین وناظرین تک پہنچانا ہے کسی کے گناہگار اور اچھا برا ہونے کا فیصلہ قانون اور عدالت کا ہے اور جو معروضی رپورٹنگ ہو اس سے مثبت،منفی یا غیر جانبدارانہ تاثر لینا اور رائے قائم کرنا رائے عامہ پر منحصر ہے۔میڈیا کیلئے یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک جانب چور ڈاکو کہہ کر گرجا جائے کابینہ کے اجلاسوں میں ان کا تذکرہ ہو،وزیراعظم سے لیکر وزراء اور حکومتی ترجمان ان کے تذکرے کو وقت بے وقت اندرون ملک وبیرون ملک ان کے حوالے سے سخت سے سخت اور برے سے برا کہنے کو بے تاب ہوں دوسری جانب میڈیا سے یہ توقع رکھی جائے کہ میڈیا ان کی کوریج نہ کرے یہ ممکن نہیں۔ عدالت عظمیٰ،عدالت عالیہ اسلام آباد ہائیکورٹ خصوصی عدالتوں اور نیب میں ان پر مقدمات قائم ہوں ان کے خلاف تحقیقات ہورہی ہوں عدالتوں میں وکلاء دلائل دیں غرض جب ساری کہانی اور سیاست ہی جن کے گرد گھوم رہی ہو عالمی میڈیا پر بھی کوریج ہورہی ہوملکی میڈیا سے کیسے توقع رکھی جا ئے کہ وہ کوریج نہ کریں۔ہمارے تئیں کوریج کی روک تھام تو موزوں وممکن نہیں البتہ اس میں کمی لانے کی چابی حکومت کے پاس ہے۔وزیراعظم اور وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات،وفاقی وزراء اور حکومتی ترجمان جن عناصر اور افراد کی کوریج نہیں چاہیئے ان کا نام نہ لیا کریں ان پر تنقید نہ کی جائے کابینہ کے اجلاس میں ان کے حوالے سے بات کی جائے تو کابینہ کے ارکان میڈیا کواس کی خبر نہ دیں ہمارے تئیں اس سے جہاں میڈیا پر حکومت کے ناپسندیدہ عناصر کی کوریج میں خاصی کمی ہوگی ان کو جواب دینے کے مواقع نہیں ملیں گے وہاں اس سے سیاسی کشیدگی میں بھی کمی آئے گی اور حکومت کو ایوان میں ،ایوان سے باہر اور میڈیا میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔جہاں تک عالمی میڈیا سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں کا سوال ہے اسے ان حلقوں تک چھوڑ دیا جائے حکومت ان عناصر کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے اور ان کے حوالے سے بات چیت سے احتراز کرے تو یہ جن خود بخود بوتل میں بند ہو جائے گا۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزی ، ملک کی مشکلات

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر امریکہ کا ایک سابق پاکستانی پولیس افسر پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام میں پابندیوں کی امریکی فہرست میں شامل کرنا پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے مزید سخت سوالات اٹھنے کا باعث امر ہے۔پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزمات آئے روز دہرائے جاتے رہے ہیں جس میں مختلف مقدمات کا سامنا کرنے والے ایک سابق پولیس افسر کا شامل ہونا ہمارے ملک میں نظام انصاف پر بھی عالمی انگشت نمائی کے مترادف ہے۔پاکستان کو اس قسم کے الزامات کے باعث نہ صرف عالمی طور پر خفت کا سامنا رہتا ہے بلکہ بعض مالیاتی فورمز میں اس بناء پر پاکستان کو وضاحت اورجوابدہی کی مشکل بھی پیش آتی ہے اور عالمی برادری پاکستان کی وضاحت اورموقف کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتی۔تازہ صورتحال خاصی سنگین اور سنجیدہ ہے جس پر غور کرنے اور ان تحفظات کو دور کرنے کی ضرورت ہے جو فردواحد کی وجہ سے ملک کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور ملک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ بہتر ہوگا کہ رائو انوار کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مکمل تحقیقات کے بعد اصل صورتحال سامنے لائی جائے اور قصوروار ہونے کی صورت میں بلا رعایت سزادی جائے۔عدالتوں سے بھی مودبانہ گزارش کی جاسکتی ہے کہ رائو انوار کے مقدمات کے فیصلے میںتاخیر نہ کی جائے تاکہ ملک کو کسی فورم پر مزید خجالت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بیکار مباش کچھ کیا کر

خیبرپختونخوا حکومت اور محکمہ تعلیم کا کبھی پانچویں کے بورڈ کے امتحانات کرانے کبھی نہ کرانے اور کبھی نویں ودسویں کے امتحانات الگ الگ اور کبھی ایک ساتھ لینے کے اعلانات وواپسی بیکار مباش کچھ کیا کر کے زمرے میں آتا ہے۔محکمہ تعلیم کے حکام کا ان امتحانات بارے تعلیمی حلقوں سے مشاورت کے بغیر فیصلہ اور اس کا اعلان،پھر عدالتوں میں مقدمے لڑنے میں عدم دلچسپی کے باعث مقدمہ ہارنے اور کبھی دبائو میں آکر فیصلے پر نظر ثانی سنجیدہ رویہ نہیں اس سے سکولوں اور تعلیم کا ماحول متاثر ہونا فطری امر ہے اساتذہ اور طلبہ کو گوں مگوں کی کیفیت کا شکار بنانے سے محکمہ تعلیم کے حکام کو کیا حاصل ہوا تعلیمی اداروں میں بے چینی پیدا کرنے کے حامل فیصلوں کی کیا حکمت تھی اس کا محکمہ تعلیم کے بزرجمہروں سے سوال ہونا چاہیئے۔

آبیل مجھے مار اور پھر شکایت

سوشل میڈیا پربعض اداکارائیں اور خود ساختہ سٹارز اپنی مرضی سے جس قسم کی حرکات کا ارتکاب کرتے ہوئے خود کو دکھائیں۔ٹی وی شوز پر ذومعنی جملے کہنے اور نازیبا اشارے کرنے سے بھی نہ شرمائیں اپنے ارد گرد جمگھٹا بھی اکھٹا کریں مگر توقع چھوئی موئی کی رکھیں یہ ممکن نہیں جہاں آبیل مجھے مار قسم کی صورتحال بنائی جائے وہاں بیمار ذہنیت رکھنے والے کسی فرد سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ عزت واحترام ملحوظ خاطر رکھے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دوہرا طرز عمل اختیار کرنے والوں کو بھی نامناسب طور پر چھونا اور ہراساں کرنایقینا قابل مذمت ہے لیکن کیا یہ زیادہ بہتر نہیں کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو اس طرح سے پیش کرنے سے گریز کریں کہ بیمار ذہنیت کے حامل افراد کی حوصلہ افزائی ہو۔

متعلقہ خبریں