Daily Mashriq

ن لیگ اور چوہدری نثار علی خان

ن لیگ اور چوہدری نثار علی خان


سابق وزیر داخلہ اور حکمران مسلم لیگ کے اہم اہل الرائے لیڈر چوہدری نثار علی خان کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس سے یہ تاثر واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن میں سب اچھا نہیں ہے۔ پارٹی صدر میاں نواز شریف کی عدلیہ کے بارے میں مہم سے اختلاف موجود ہے، پارٹی میں شریف خاندان کی بالادستی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا رہا اور پارٹی میں جمہوری طریقہ کار کو پس پشت ڈالنے پر بھی تحفظات ہیں۔ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس میں اگرچہ سینیٹ کی ٹکٹوں کی تقسیم کے بارے میں محض ایک جملہ کہا گیا تاہم وہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ پارلیمانی بورڈ دیتا ہے جو ابھی تک نہیں بنایا گیا۔ یہ انہوں نے اس وقت کہا جب سینیٹ کے امیدواروں کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کرائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ایسی خبریں بھی ہیں کہ پارٹی میں سینیٹ کے امیدواروں کے انتخاب پر اختلاف ہیں اور بعض امیدوار یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی جمہوری طریقہ کار اختیار کیے بغیر سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم پارٹی کی ''محدود'' قیادت نے کر دی ہے۔ اس سلسلہ میں کہا جا رہا ہے کہ 6فروری کو سینیٹ کے ٹکٹوں کے بارے میں پارلیمانی بورڈ بنائے جانے کے بغیر فیصلے کیے گئے ہیں اور اس سے پہلے بھی بیرون ِ ملک مقیم جن پاکستانیوںکو بغیر اعلان ٹکٹ دیے گئے انہیں یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی دوسری شہریت سے دست بردار ہو جائیں۔ ایک معاصر نے یہ بھی لکھا ہے کہ سینیٹ کی پنجاب کی 12نشستوں کے لیے ایک سو دس امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں اور پارٹی نے درخواست گزاروں سے پچاس ہزار روپے ناقابلِ واپسی فنڈ دینے کے لیے بھی کہا تھا۔ اس صورت حال پر مریم نواز کے ایک ٹویٹ سے بھی روشنی پڑتی ہے جنہوں نے کہا ہے کہ سینیٹ کے ٹکٹ دینے کا اختیار پارٹی قیادت کو حاصل ہے اور پارٹی تنظیمی ڈھانچہ کے مطابق طریقہ کار پر عمل پیرا ہے۔ جب کہ معاصر کی خبر کے مطابق سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم کے بارے میں ایک اجلاس میں مریم نواز بھی شریک تھیں جب کہ انہیں پارٹی میں اب تک کوئی عہدہ حاصل نہیں ہے۔ اس صورت حال میں چوہدری نثار کا یہ تبصرہ کہ سینیٹ کے انتخاب کے لیے ٹکٹ دینا پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کا کام ہے اور پارلیمانی بورڈ اب تک بنا ہی نہیں معنی خیز ہے۔ چوہدری نثار علی خان پارٹی کے پرانے لیڈر ہیں ان کے پارٹی میںرابطے بھی وسیع اور مضبوط ہیں ، وہ سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملات سے بے خبر نہیں ہو سکتے جو اس قدر عام ہیں کہ مریم نواز ٹویٹر پر یہ جواز پیش کرتی ہیں کہ پارٹی قیادت کو ٹکٹوں کی تقسیم کا اختیار ہے۔ یقینا چوہدری نثار علی سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے سے بے خبر نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے محض یہ کہہ کر کہ ابھی پارلیمانی بورڈ بنا ہی نہیں دور اندیشی اور مصلحت بینی کا رویہ اختیار کیا ہے۔ ایک توانہوں نے کسی امیدوار کی اہلیت پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے ۔ دوسرے انہوں نے اس معاملہ پر آئندہ کسی وقت پر بات کرنے کے لیے راہ ہموار کر دی ہے۔ اس کے لیے چوہدری نثار کو میاں نواز شریف ریفرنسز کے فیصلے کا انتظار ہو سکتا ہے کہ ہو۔ تاہم انہوں نے ایک اہم بات کہی ہے کہ جمہوریت کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرنے والے پہلے اپنی پارٹی میں جمہوری طریقہ کار اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس گزشتہ آٹھ ماہ سے نہیں بلایا گیا ہے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ سینیٹر پرویز رشید کے بیان کے بعد انہوں نے نواز شریف کو خط لکھا کہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلائیں تاکہ میں ڈان لیکس کے بارے میں بیان دے سکوں لیکن یہ اجلاس اب تک نہیں بلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس رپورٹ میں راؤ تحسین اور طارق فاطمی کے نام نہیں تھے تو پھر انہیں کیوں نکالا گیا؟ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ ڈان لیکس کی رپورٹ کے بعد پرویز رشید کو بحال کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس ایک حساس معاملہ ہے اس پر پارٹی کی کور کمیٹی میں بات ہونی چاہیے ورنہ ان کا دوسرا آپشن پبلک پلیٹ فارم پر بات کرنا ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا میاں نواز شریف پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں ڈان لیکس کا معاملہ رکھتے ہیں یا چوہدری نثار علی خان کے اسے پبلک پلیٹ فارم پر بیان کرنے کا انتظار کرتے ہیں۔ جہاں تک ڈان لیکس کی رپورٹ کی بات ہے اب وہ ایک سرکاری دستاویز ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ چوہدری نثار کے توسل سے اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف تک پہنچی اور اس طرح چوہدری صاحب اس کے مندرجات سے آگاہ ہیں تاہم یہ رپورٹ چونکہ اب سرکاری دستاویز ہے اس لیے چوہدری صاحب اسے پبلک کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اس حوالے سے پرویز رشید ' راؤ تحسین اور طارق فاطمی کے نام لے کر جو سوال اٹھائے ہیں ان سے اس رپورٹ کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس رپورٹ کو افشاء نہ کر کے سابق وزیر اعظم وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے بعض معاملات کو اخفا میں رکھنے پر مصر ہیں۔ اگرچہ چوہدری نثار اگر اس رپورٹ کے مندرجات پبلک پلیٹ فارم پر بیان کر دیں گے ان مندرجات کی سرکاری حیثیت نہیں ہو گی تاہم ایک واقفِ حال کا بیان ہو گی اور میاں نواز شریف یہ نہیں چاہیں گے کوئی اور راستہ نکالنے کی ضرور کوشش کریں گے۔ چوہدری نثار اگرچہ علی الاعلان کہتے رہے ہیں کہ وہ نواز شریف کو مشورے دیتے رہے ہیں تاہم ہفتہ کے روز کی پریس کانفرنس میں انہیں ایسے مشورے دیے ہیں جو تنقید کا درجہ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ عدلیہ سے محاذ آرائی مسلم لیگ ن کی نہیں بنتی۔ انہوں نے کہا ہے کہ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پارٹی کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جمہوریت کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو پہلے پارٹی میں جمہوریت قائم کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ پہلے پارٹی میں ''ووٹ کا تقدس'' بحال کریں۔ اس طر ح انہوں نے میاں نواز شریف کی سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے خلاف آنے کے بعد کی پارٹی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ مسلم لیگ ن کا بیانیہ کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے موجوہ سٹانس کے بارے میں کہا ہے کہ ''عجیب طوفان بدتمیزی برپا'' ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں بن رہا اور نہ ہی وہ ایسی کسی حرکت کا حصہ بنیں گے۔ اس کی بجائے انہوں نے کہا ہے کہ مشکل وقت میں پارٹی کو متحد رکھنا مشکل کام ہے اور وہ پارٹی کے اندر اور باہر پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے فعال کردار ادا کریں گے۔ چوہدری نثار ایک طرف پارٹی کے موجودہ بیانیہ کو طوفانِ بدتمیزی کہتے ہیں اور دوسری طرف اس سے اختلاف کرتے ہوئے پارٹی کو متحد رکھنے کا مشکل کام کرنے کے عزم کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ خالی خولی دعویٰ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس کی بنیاد یہ تصور کی جا سکتی ہے کہ انہیں پارٹی کے اندر اپنے نقطۂ نظر کے حامی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ شہباز شریف کے ساتھ کام کر سکتے ہیں اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ماتحتی میں کام کر سکتے ہیں لیکن جونیئرز کو سر یا میڈم نہیں کہہ سکتے۔ یہ اشارہ مریم نواز کی طرف ہے لیکن مریم نواز ن لیگ کے اس بیانیہ کی نمائندگی کرتی ہیں جسے چوہدری نثار علی خان طوفانِ بدتمیزی قرار دیتے ہیں۔ اور چوہدری نثار کے پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے ارادہ سے ظاہر ہے کہ انہیں پارٹی میں ایسے اور بہت سے لوگ نظر آتے ہیں جو اس بیانیہ سے اتفاق نہیں رکھتے جو چوہدری نثار کی طرح سمجھتے ہیں کہ پارٹی کی عدلیہ سے محاذ آرائی نہیں بنتی' جن کے مطابق اداروں سے پارٹی کو محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے ، جو سمجھتے ہیں کہ پارٹی میں جمہوری طریق کار کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں ' جو یہ سمجھتے ہیں کہ پہلے پارٹی میں''ووٹ کا تقدس'' بحال ہونا چاہیے ۔ چوہدری نثار کی کامیابی کی توقع کی جا سکتی ہے کیونکہ مسلم لیگ جو اب مسلم لیگ ن ہو گئی ہے کبھی انقلابی پارٹی نہیں رہی ، نہ یہ پارٹی تصادم کے راستے پر کبھی چلی۔ مسلم لیگ ن میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو پارٹی میں آمریت نہیںچاہتے ، جو مشاورت چاہتے ہیں، پرامن سیاسی جدوجہد کے حامی ہیں۔ میاں نواز شریف کی قیادت کے دوران پارٹی سے جن لوگوں نے علیحدگی یا خانہ نشینی اختیار کی ان سب کی شکایت یہ رہی ہے کہ پارٹی میں مشاورت نہیں کی جاتی۔ اب بھی ریاض پیرزادہ کی مثال سامنے ہے جنہوں نے چند ہفتے پہلے پارٹی قیادت کے بارے میں ایسی ہی شکایت کی تھی۔ لہٰذا یہ اندازہ غلط نہیں ہوگا کہ پارٹی میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اگست کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ن لیگ کے بیانیہ سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان میں پارٹی کے بعض بڑے لیڈر بھی شمار کیے جا سکتے ہیں۔ چوہدری نثار نے تو کہا کہ وہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ کام کر سکتے ہیں لیکن شاہد خاقان عباسی نے میاں نواز شریف کے جوشیلے وزراء طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ان سے جوشِ تقریر میں کوئی نازیبا کلمات سرزد ہو چکے ہوں تو وہ عدالتِ عظمیٰ سے معذرت کر لیں جب کہ میاں صاحب نے جلسہ عام میں ان کے ہاتھ کھڑے کرکے کہا تھا کہ ان کے حق میں''عوامی عدالت'' کا فیصلہ آگیا ہے۔ یعنی ایسا عنصر پارٹی میں موجود ہے جو قانونی عدالت کے سامنے ''عوامی عدالت'' کی فوقیت پر یقین نہیں رکھتا۔میاں شہباز شریف نے پارٹی کے بھرے جلسے میں میاں نواز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ یہ آپ کا کنبہ ہیں ان سے مشاورت کیجئے اور انتخابی اصلاحات کے بل میں جس نے ختم نبوت کے حوالے سے نئی ترمیم پیش کی اسے نکال دیجئے ۔لیکن میاں نواز شریف سے چوہدری نثار علی خان کو شکایت ہے کہ آٹھ ماہ سے پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے پارلیمانی بورڈ نہیں بنایا اور مریم نواز کہتی ہیں کہ پارٹی قیادت کو ٹکٹوں کی تقسیم کا حق حاصل ہے۔ چوہدری نثار کی طرح اور بہت سے لوگ پارٹی میں ہوں گے جو پارٹی کے جمہوری اداروں کی مشاورت کو فوقیت دیتے ہوں گے اور جونیئرز کو سر یا میڈم کہنے میں عار سمجھتے ہوں گے۔ چوہدری نثار جو 1985ء سے مسلم لیگ کے ساتھ وابستہ ہیں بہت سے ایسے لوگوں سے واقف ہوں گے ۔ وہ پارٹی میں فعال کردار ادا کریں تو پارٹی کو جمہوری پارٹی بنا سکتے ہیں۔ لیکن چوہدری صاحب پر شاید ابھی یہ روشن نہیں ہے کہ وہ یہ کام عام انتخابات سے پہلے کریں گے یا بعد میں۔ پارٹی پر مشکل وقت عام انتخابات سے پہلے کا ہے اور چوہدری نثار کہتے ہیں کہ مشکل وقت میں پارٹی کو متحد رکھنا ہی مشکل کام ہے۔

اداریہ