مشال و نقیب اور ہمارا معاشرتی رویہ

مشال و نقیب اور ہمارا معاشرتی رویہ

پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلا واقعہ ہے کہ ایک ہجوم پر ایک شخص (مشال خان) کے قتل کا مقدمہ درج ہوا اور مقدمہ بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے اس انداز میں فیصل ہوا کہ مشال خان پر پستول کے ذریعے فائر کرنیوالے شخص کو ویڈیو اور تصاویر کے ذریعے شناخت کر کے عدالتی کارروائی کے بعد پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ چار پانچ کو25 سال قید اور کچھ کو چار چار سال قید کی سزا دی گئی اور بیسیوں لوگوں کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا۔ اب یہ بات تو طے ہے کہ عدالتیں جب فیصلہ کر لیتی ہیں تو فریقین کیساتھ ساتھ عوام اور سیاستدانوں کو بھی یہ فیصلے قبول کرنے ہوں گے۔ اگر فرض کریں اور ایسا ہوتا بھی ہے ہمارے معاشرے میں کہ ہر آدمی اپنی مرضی وخواہش کا فیصلہ سننا چاہتا ہے' بعض اوقات عدالتوں سے ایسے فیصلے آجاتے ہیں جو کسی بھی فرد' فریق یا جماعت کو پسند نہیں آتے تو یہ کسی طرح بھی جائز نہیں کہ عدالت پر دبائو ڈالنے کیلئے جلسوں جلوسوں کے ذریعے ایسی باتیں کی جائیں جس سے عوام الناس بہک اور بھٹک کر کسی اور طرف نکل جائیں۔ لیکن ہمارے ہاں گزشتہ کئی برسوں سے عدالتی فیصلوں کیخلاف جلسوں جلوس میں منظم طریقے سے بہت سخت زبان میں احتجاج کیا جاتا ہے جس سے یقیناً عدالتوں پر دباؤ پڑتا ہے اور عام لوگوں کی نظر میں ججوں اور عدالتوں کا وقار اور احترام کمزور بھی پڑتا ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کسی بھی معاشرے کے قیام وبقا کیلئے عدالتیں ہی اول وآخر ادارے ہوتے ہیں۔ جنگ عظیم میں لندن کی تباہی میں ججوں نے درختوں کے نیچے عدالتیں لگائیں لیکن اپنی قوم کو انصاف دلاتے رہے جس کے ذریعے معاشرہ زندہ رہا اور آگے بڑھتا رہا اور لندن دوبارہ تعمیر ہوا۔ ہمارے ہاں جمہوری دور ہو یا آمریت دونوں میں ججوں اور عدالتوں پر مختلف مواقع پر شدید دباؤ رہتا ہے۔ سیاستدان عوامی طاقت کے ذریعے طعن وتشنیع کے علاوہ عدالتوں اور ججوں کو مختلف نام بھی دیتے رہتے ہیں جس سے ان کے وقار کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک زمانے میں ہماری عدالتوںکو کنگرو کورٹس اور آج جج صاحب محترم کو ''بابا رحمتے'' کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے۔ اسی رجحان سے شہ پا کر مشال قتل کیس میں رہا ہونیوالوں کا جس طرح جلوس کی شکل میں استقبال کیا گیا اور اس میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے اپنے جھنڈوں کیساتھ شرکت کی، یقیناً ہماری عدالتوں پر دباؤ کا باعث بنے گا اور عوام الناس کو پیغام جائے گا کہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے پریشر گروپ بنانا بہت ضروری ہے ورنہ پاکستان جیسے معاشرے میں رہنا مشکل ہوتا جائے گا۔ مشال قتل کیس کو یقیناً بعض لوگ توہین رسالت سے جوڑتے ہیں اور عدالتی فیصلے کے باوجود کہ وہاں کوئی ٹھوس ثبوت اس سلسلے میں پیش نہ کیا جاسکا لوگ اس حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود بات پھر وہی ہے کہ اگر کوئی بات تھی تو ان ہی لوگوں کو چاہئے تھا کہ شواہد وثبوت کیساتھ عدالت میں جاتے' قانون کا سہارا لیتے' قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی پر الزام لگا کر اور خود عدالت بن کر سزا سنانا اور نافذ کرنا یقیناً مہذب اور قانون کا احترام کرنیوالوں کا معاشرہ نہیں کہلاتا۔آج پاکستان کے بڑے مسائل میں ایک مسئلہ یہی ہے کہ لوگ قانون اور بعض اوقات عدالتی فیصلوں سے سقم اور کمزوری کی آڑ میں قانون کو ہاتھ میں لینے کیلئے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ یہ کسی صورت جائز نہیں۔ ہمارے ہاں آج ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کو سیاست آلودہ (Politicize) کرلیتے ہیں۔ مشال قتل کیس ہو یا نقیب اللہ ماورائے عدالت قتل کیس' سیاست اپنی جگہ بنا ہی لیتی ہے۔ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کیخلاف سکورنگ اور اپنی مقبولیت میں اضافہ کیلئے ایسے مواقع پر نتائج سے بے پروا ہو کر شرکت اور بیانات کے ذریعے معاملات کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ مشال کے والد صاحب آج کل لندن یاترا پر ہیں۔ معلوم نہیں کیوں' پاکستان میں اس قسم کے واقعات کے بعد مغرب (یورپ) اور امریکہ کو بھی دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ بھارت کو تو ہمارے معاملات میں ہاتھ پیر مارنا ازل سے مجبوری کے تحت مقدر میں ملا ہے لیکن اب ایک نیا فریق افغانستان بھی پیدا ہوا ہے۔ نقیب اللہ کیلئے ان کے خاندان اور قبائل کے افراد کا عدل وانصاف کا مطالبہ ہر لحاظ سے جائز ہے اور ان کو انصاف ملنا ہی چاہئے اور راؤ انوار جیسے لوگوں کو عدالت کے کٹہرے میں لانا چاہئے لیکن اسلام آباد میں دھرنا کے دوران افغانستان کے صحافی ویس بارک زئی نے جو پوسٹ شیئر کیا ہے اس میں پاکستان کے پختونوں کو ریاست کیخلاف اُکسانا اور وہ مذموم ترانہ سنوانا کہ ''یہ کیسی آزادی ہے' اٹھو پختونو! پاکستان سے آزادی حاصل کرو'' اس قسم کے لوگوں کو شٹ اپ کال دینا اور محسود قبائل کو سمجھانا چاہئے کہ نقیب اللہ کی شہادت کو غلط لوگ غلط مقاصد کیلئے استعمال نہ کریں ورنہ اس کا نقصان ان ہی کو ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں ''را'' جس انداز سے فعال ہے وہ صاحبان بصیرت سے پوشیدہ نہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مملکت خداداد کی سلامتی اور استحکام کیلئے ہماری صفوں میں موجود انسانی حقوق' عدل وانصاف کے حصول اور بعض دیگر حیلوں حربوں سے ''خیر خواہی'' کے لبادے اوڑھ کر آنیوالوں سے خبردار ہوشیار رہا جائے۔ آج کل وطن عزیز کیخلاف ففتھ کالم کے ذریعے جو پراکسی وار جاری ہے اس کے مذموم ہتھکنڈوں میں سے ایک یہی ہے۔ ادارے مضبوط ہوں تو ملک مضبوط ہوتے ہیں۔ جائز وقانونی حقوق کے حصول کیلئے قانون کے دائرے میں رہ کر جلسہ جلوس اور احتجاج انسان کا بنیادی حق ہے لیکن اس قسم کی چیزوں کی آڑ میں قانون کے دائرے سے نکلنا یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا یقیناً ملک وقوم کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

اداریہ