Daily Mashriq

بے رزق عقل

بے رزق عقل

سیانے کہتے ہیں کہ کوئی چیز بھی اپنی ذات میں اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بنا دیتا ہے۔ اگر کسی کے پاس دولت کی بہتات ہو اور یہ دولت حلال ذرائع سے کمائی گئی ہو اور نیکی کے کاموں میں خرچ ہو رہی ہو تو یقیناً ایسی دولت بہت بڑی نعمت ہے۔ حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ رب کی عبادت کیساتھ ساتھ مخلوق کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیا جائے تو زندگی پھولوں کی سیج بن جاتی ہے لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو پھر دولت دنیا وآخرت کی رسوائی بن جایا کرتی ہے۔ ایک بہت پرانی روایت ہے کہ ایک شخص بڑا عقلمند اور معاملہ فہم تھا، ہر بات کی تہہ تک بہت جلد پہنچ جاتا لوگ اس کے پاس مشورے کیلئے آتے اور اس کے اچھے اچھے مشوروں سے مستفید ہوتے لیکن اپنی تمام دانش اور عقل وفہم کے باوجود دانے دانے کا محتاج تھا اس کے پاس کھانے کیلئے بھی کچھ نہ ہوتا۔ ایک روز بھوکا پیاسا ایک سڑک کے کنارے کھڑا سوچ رہا تھا کہ کسی کے پاس لاکھوں درہم ودینار ہیں اور کوئی میری طرح نان شبینہ کا محتاج ہے۔ یہ کائنات کے اسرار ہیں نظام کائنات چلانے والا حکیم ہے ہر چیز میں اس کی حکمت پوشیدہ ہے ہم کیا اور ہماری بساط کیا جو اس کے کاموں میں دخل اندازی کریں، وہ دانا شخص انہی خیالات میں ڈوبا ہوا تھا، کیا دیکھتا ہے کہ اونٹوں کا ایک بہت بڑا قافلہ سامنے سے چلا آرہا ہے۔ اونٹوں پر بہت سارا مال لدا ہوا تھا، بھوک کے ہاتھوں نڈھال دانشور اونٹوں کی اس طویل قطار کو دیکھتا رہا۔ اس نے دیکھا کہ آخری اونٹ کیساتھ ایک شخص چند ملازمین کیساتھ چلا آرہا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اس شخص سے پوچھا کہ اونٹوں کا قافلہ اور یہ مال کس بڑے سوداگر کا ہے؟ اس شخص نے کہا کہ میں ہی ان اونٹوں اور اس سارے مال ومتاع کا مالک ہوں، مرد دانا نے کہا کہ تم تو بڑے خوش قسمت ہو جو اتنے مال ودولت کے مالک ہو، تم اتنے ہوشیار اور باکمال تاجر ہو کہ اتنے بڑے قافلے کے مالک ہو۔ ان اونٹوں پر کیا مال لدا ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ ہر اونٹ پر ایک طرف ایک من گیہوں اور دوسری طرف ایک من ریت ہے۔ عقلمند نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ ایک من ریت کیوں لاد رکھی ہے؟ تاجر نے کہا کہ اے میرے سادہ دوست تم اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتے کہ دونوں طرف وزن برابر ہونا چاہئے ورنہ مال اونٹ کی پیٹھ پر نہیں رکھا جاسکتا اور اس کے گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ فاقے سے نڈھال عقلمند نے اس کی بات سن کر کہا کہ بات تو تمہاری درست ہے اونٹ کے دونوں طرف برابر کا وزن ہونا چاہئے لیکن تم نے خواہ مخواہ ریت کا بوجھ لادنے کی بجائے یہ کیوں نہیں کیا کہ گیہوں کو ہی نصف نصف دونوں طرف لاد دیتے اس طرح ایک اونٹ پر دو من گیہوں لد جاتا اور ریت لادنے کی مصیبت سے تمہاری جان چھوٹ جاتی۔ تم نے اپنا پیسہ بھی ضائع کیا اور وقت بھی جب منزل پر پہنچ کر سامان اُتاروگے تو تمہیں اس بے فائدہ ریت کو بھی کہیں ٹھکانے لگانا پڑے گا۔ تاجر اس کی بات سن کر ششدر رہ گیا اور جلدی سے کہنے لگا کہ تم نے یہ بڑی عقل کی بات کی ہے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اونٹوں پر سامان لادتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات کیوں نہیں آئی، تم واقعی بہت عقلمند آدمی ہو۔ کہو تمہارے پاس کتنے اونٹ اور کتنا مال ومتاع ہے؟ اس نے بڑی بیچارگی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ میرے پاس تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں اور میں تو دو دن کے فاقے سے ہوں۔ تاجر نے اس کی بات سن کر کہا: سبحان اللہ! مال ایک کو دے دیا اور عقل دوسرے کو۔۔ بھائی ایسی بے رزق عقل تم کو مبارک ہو! ہم احمق ہی اچھے ہیں۔ شیخ سعدی کے ایک شعر کا مفہوم ہے کہ دانا کے پاس ایک دانہ نہیں اور جس کے پاس دانے ہیں اس کے پاس دانائی نہیں، اور نادان کو خدا اس طرح روزی پہنچاتا ہے کہ دانہ اس کے پیٹ کے اندر جا کر حیران ہوتا ہے کہ میں اس احمق کے پیٹ میں کیسے پہنچ گیا کسی عقلمند کی روزی کیوں نہیں بنا۔ سونے پر سہاگہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب صاحب مال احمق ہونے کیساتھ ساتھ کنجوس بھی ہو تو بیچارا ساری عمر اپنے مال کی چوکیداری کرتا رہتا ہے اور اس کی موت کے بعد اس کے ورثہ اس کے مال ومتاع کو آپس میں بانٹ کر خوب عیش وعشرت کرتے ہیں۔ ہم نے ایک دن اپنے ایک مخیر دوست سے کہا کہ یار تمہیں اللہ نے بہت کچھ دیا ہوا ہے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور انہیں اپنے استعمال میں لاؤ خود بھی کھاؤ اور جو حقدار ہیں ان پر بھی خرچ کرو۔ یہ تو شریعت کا بھی حکم ہے کہ جو نعمت تمہارے پاس ہے اس کا اظہار ہونا چاہئے ورنہ بصورت دیگر یہ تو کفران نعمت ہے۔مال ودولت کی جہاں اور بہت سی خوبیاں ہیں وہاں ایک خوبی یہ بھی کہ یہ بہت عیب پوش ہوتا ہے مالدار آدمی کے بہت سے عیب اس کی دولت کی وجہ سے چھپے رہتے ہیں لوگ اس کی ہر بات پر سر تسلیم خم کر لیتے ہیں ہر جگہ اس کی نام نہاد عزت کی جاتی ہے۔ نام نہاد کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ اس کی دل سے عزت نہیں کی جاتی۔ دولت کی سب سے بڑی خرابی یہی ہوتی ہے کہ یہ کوئی معیار نہیں ہوتا۔ آپ بھلے سے کروڑوں میں کھیل رہے ہوں لیکن اس دنیا سے رخصتی کے بعد یہ آپ کا حوالہ نہیں بن سکتی۔ مولانا روم فرماتے ہیں کہ دنیادار کو مال کی ضرورت زیادہ تر عیب پوشی کی وجہ سے ہوتی ہے خواہ وہ حماقت کی زندگی بسر کرتا ہو اور فسق وفجور میں ڈوبا رہتا ہو لیکن عوام کی زبان اس کے متعلق بند رہتی ہے۔

اداریہ