رفت گیا اور بود تھا

رفت گیا اور بود تھا

کتاب سے بہتر کوئی دوست نہیں۔ عہد رفتہ کی یہ بات بہت پرانی ہو چکی ہے۔ زمانہ اور اس کی قدریں بدل چکی ہیں۔ اک زمانہ تھا جب پڑھنے کے شوقین اپنے ماہانہ بجٹ کا حصہ اچھی کتابیں خریدنے پر خرچتے تھے اور جو لوگ کتابیں نہیں خرید سکتے تھے وہ لائبریریوں کا رخ کرتے تھے۔ کتابیں پڑھنے کا ذوق وشوق اتنا عام تھا کہ ہر شہر، گاؤں اور قصبے کی گلی گلی آنہ لائبریریاں کھلی ہوتی تھیں۔ لوگ ایک آنہ یومیہ کرائے پر کتابیں لے کر آتے اور کم ازکم وقت میں پوری کتاب پڑھ کر اگلے روز، یا دو ایک دن بعد پہلی کتاب واپس کرکے دوسری کتاب کرائے پر لینے اپنی گلی یا محلے کی لائبریری پہنچ جاتے، جو لوگ کرائے پر کتابیں دینے کی دکان یا کرائے کی کتابوں کی لائبریری کھولتے ان کو کاروبار میں روزی روٹی ملتی رہتی اور پڑھنے والوں کو اپنا ذوق مطالعہ پورا کرنے کا آسان اور سستا موقع ملتا رہتا۔ ایسی لائبریریوں میں زیادہ تر ناول رکھے جاتے کیونکہ ان کی ڈیمانڈ یا طلب کچھ زیادہ ہوتی۔ ناولوں میں ابن صفی کے جاسوسی ناول بڑے شوق سے پڑھے جاتے۔ رومانٹک ناولوں میں رضیہ بٹ کے ناول بے حد مقبول ہوتے۔ نئے ناول کے مارکیٹ میں آنے سے پہلے اس کا اشتہار آجاتا اور لوگ بڑی بے چینی سے نئے آنیوالے ناول کا انتظار کرنے لگتے اور کبھی کبھی آنہ لائبریری میں ایڈوانس کرایہ دے کر زیر طباعت ناول کی بکنگ کروا لیتے۔ پڑھنے کے رسیا لوگوں کے اس ذوق اور شوق کے علاوہ ان کی طلب کو پورا کرنے کیلئے لائبریری والے مقبول مصنف کے زیر طباعت ناولوں کے ایک سے زیادہ نسخے منگاتے تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین منہ مانگا کرایہ دیکر چھپ کر آنیوالے نوآمدہ ناولوں کا مطالعہ کر سکیں۔ ان دنوں ہمارے دوست بشیر عامر نے گنج بازار پشاور میں فرینڈز لائبریری کھول رکھی تھی۔ ہمارے دن کا بہت سا حصہ اس کی لائبریری میں گزرتا۔ ایک دن اس کو اس بات کا علم ہوا کہ رضیہ بٹ کا نیا ناول بازار میں آچکا ہے لیکن بکنگ کرانے کے باوجود اس کے پاس نہیں پہنچا تو وہ رضیہ بٹ کے والد صاحب کی دکان پر پہنچا۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے، مجھے یاد پڑتا ہے کہ پشاور شہر کے کابلی دروازے کے باہر رضیہ بٹ کے والد بزرگوار ٹرنک بکسوں کا کاروبار کرتے تھے۔ بشیر عامر ان کی دکان پر پہنچے اور ان کو گلہ کرنے کے انداز سے کہنے لگے کہ کتاب نہ صرف مارکیٹ میں آچکی ہے بلکہ کرائے پر بھی دستیاب ہے لیکن ایڈوانس ادائیگی کے باوجود میری لائبریری میں نہیں پہنچی اور یوں میرا نقصان ہونے لگا ہے۔ یاد نہیں آرہا رضیہ بٹ کے والد گرامی نے بشیر کو کیا جواب دیا۔ یہاں آنہ لائبریری کے دور کی اس یادداشت کو دہرانے کا مقصد یہ بتانا مقصود ہے کہ بیتے زمانوں کتابیں پڑھنے کے شوق کا یہ عالم تھا کہ کتاب معمولی سی تاخیر سے کرائے پر کتابیں مہیا کرنیوالی لائبریری کے مالک کو ملتی تو اس کو نقصان ہونے کا خدشہ ہو جاتا۔ اچھا منافع بخش کاروبار تھا۔ بعض دکانوں پر لوگ پرانی کتابیں کرائے پر لے جا کر پڑھنے کے شوق میں آتے۔ ایک شوق تھا، ایک عادت تھی، ایک کلچر تھا جو وقت کی دھول کے دبیز پردوں کے نیچے دب کر بھولی بسری یادوں کے تہہ خانوں میں اوجھل ہوگیا۔ یہ سب کچھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کی وجہ سے ہوا۔ ابتداء تھیٹریکل کمپنیوں کی جانب سے سٹیج کئے جانیوالے ڈراموں اور فیچر پروگراموں سے ہوئی۔ خاموش فلموں کے بعد بولتی اور نظر آنیوالی فلموں کے سحر نے لوگوں میں فلم بینی کا شوق پیدا کیا۔ اس دوران مارکونی کمپنی کی ریڈیائی مصنوعات میں سے ریڈیو سیٹ نے ہمارے پڑھے لکھے اور ان پڑھ طبقے کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔۔ شہر شہر ریڈیو سٹیشن معرض وجود میں آنے لگے۔ ریڈیو کی نشریات گلی گلی، گھر گھر پہنچنے لگیں۔ اس کے بعد ٹیلی ویژن کی نشریات کا دور شروع ہوا۔ یوں ہم آڈیو وژویل انقلاب کے اس دور میں داخل ہوگئے جب ذوق مطالعہ کی عادت سننے اور دیکھنے کے شوق میں بٹ کر رہ گیا۔ سمعی اور بصری ادب کے اس دور میں عادت مطالعہ کو اتنا نقصان نہیں پہنچا تھا جتنا دھچکا اسے بعد میں آنیوالے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طوفان بلاخیز نے پہنچایا۔ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ ریکاڈر، آڈیو پلیئر، وی سی آر ہمارے ہاں پہنچے تو گلی گلی کرائے پر ملنے والی کتابوں کی لائبریریوں کی بجائے کرائے پر ملنے والی کیسٹوں کی دکانیں کھلنے لگیں۔ لوگ کتابیں کرائے پر لے کر پڑھنے کی بجائے کرائے پر ملنے والی آڈیو یا ویڈیو کیسٹ حاصل کرکے سننے یا دیکھنے لگے۔ بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز تک ساری دنیا میں کمپیوٹر کی راج دھانی قائم ہوگئی۔ کرائے پر ملنے والی کیسٹوں کی بجائے سی ڈیز ملنے لگیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سی ڈیز کی قیمتوں میں اس قدر کمی آئی کہ انہیں کرائے پر حاصل کرنے کی بجائے لوگوں نے انہیں خرید کر ان سے استفادہ کرنے کی عادت اپنالی۔ پھر یوں ہوا کہ کمپیوٹرکی افادیت کو انٹرنیٹ کی سہولت نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ شروع شروع میں اس سہولت سے استفادہ کرنیوالے مختلف کمپنیوں کے سکریچ کارڈ خرید کر لاتے اور ان کے ذریعے آن لائن جاکر دنیا جہان کی خبروں، داستانوں، کہانیوں، افسانوں، ناولوں اور نظم ونثر کی تمام اصناف سے استفادہ کرتے۔ وائی فائی کی سہولت نے اس کام کو آسان سے آسان تر کر دیا۔ اب آپ کو کسی لائبریری میں جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ لائبریریاں خود چل کر آپ کے موبائل سیٹ یا آپ کے لیپ ٹاپ کی سکرین پر آجاتی ہیں اور اگر آپ کو کمپیوٹر استعمال کرنے کی ذراسی بھی شدھ بدھ ہے تو آپ ان سے بھرپور استفادہ کر کے کہہ سکتے ہیں۔
لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

متعلقہ خبریں