Daily Mashriq


عوام ظالم یا حکمران

عوام ظالم یا حکمران

پاکستانی کے21کروڑعوام سیاسی پا رٹیوں کو مہنگائی ، لاقانونیت، بے روز گاری، بد عنوانی اور دوسرے کئی ان گنت مسائل اور مشکلات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، مگر میری نا قص رائے میں ہمارے حکمران خواہ ان کا تعلق سرمایہ دار، کا رخانہ دار، جاگیر دار یا کسی بھی اشرافیہ طبقے سے ہو ، وہ اتنے ظالم اور سنگدل نہیں جتنے ہمارے یہی مفلوک الحال عوام ہیں۔میں تو ظالم ان حکمرانوں کو نہیں کہتا ، جو غریبوں کے کند ھوں پر پیر رکھ کر اقتدار کی چکر دار کرسی تک پہنچ پا تے ہیں، بلکہ میں تو پاکستان کے اُن ٢١ کروڑ سادہ لوح اور بے وقوف عوام کو ذمہ دار گردانتا ہوں جو ہمارے سیاست دانوں کو اقتدار کی مسند پر تو پہنچاتے ہیں ، مگر بعد میں نا اہل اور خود عرض سیاست دان ان غریبوں سے ایسے مُنہ موڑلیتے ہیں جیسے ان کوکبھی دیکھا نہ ہو۔حالانکہ غریب پہلے سے جانتے ہیں کہ انکے ساتھ یہی ہو گا، مگر نجانے یہ بات سمجھنے سے غریب عوام کیوں قاصر ہیں۔ اگر یہ غریب عوام ان بد عنوان سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو ووٹ نہ دیں ، انکو اقتدار کے ایوانوں تک نہ پہنچائیںتو کبھی بھی ان کا استحصال نہیں کر سکیں گے۔مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ان غریب لاچار اور مجبور عوام کو اُ س وقت تک چین اور سکون نہیں آتا ، جب تک یہ ان سرمایہ دار اور جاگیر دار سیاست دانوں کی خوشامد نہ کریں۔پاکستانی تا ریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ جلوس اور جلسوں میں غریب تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے اور گھائل ہو جاتے ہیں، مگرسرمایہ دار، جاگیردار اور نام نہاد لیڈروں کو کچھ نہیں ہو تا۔مُجھے وطن عزیز کے غریب اور پسے ہوئے عوام اس سوال کا جواب دیں کہ اس ملک کو کس نے لوٹا؟۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے قرضے کس نے لئے اور وہ پیسے کدھر گئے؟۔اداروں کی نجکاری میں اربوں ڈالر کس نے کھائے؟۔ ملک کے مزدور اور ہنر مند طبقے کو نج کاری کی زد میں کس نے بے روز گار کیا؟۔امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں کو ن مارے جا رہے ہیں؟۔ غُربت کی چکی میں کو ن پس رہا ہے؟۔ اس ملک کے اربوں اور کھربوں ڈالرز کے وسائل کن کی جیبوں اور تجوریوں میں جا رہے ہیں۔1947سے اب تک اربوں روپے کس نے معاف کئے؟۔ اس سب کا جواب یہ ہے کہ اس ملک کے غریب اور لاچارعوام بد عنوان حکمرانوں کی وجہ سے یہ سارا نُقصان اُٹھا رہے ہیں.اگر دیکھا جائے تو وطن عزیز میں تمام سیاست دان جو جا گیراداروں ، سرمایہ داروں اور کار خانہ داروں کی شکل میں ہو تے ہیں انکی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ باپ ایک پا رٹی میں ہے جبکہ بیٹا دوسری پا رٹی میں۔ بھتیجے کی ایک سیاسی جماعت سے وابستگی ہو تی ہے جبکہ ماموں کی دوسری سیاسی پارٹی سے۔ اگر دیکھا جائے تو سب ایک تالی کے چٹے بٹے ہیں۔سب کا مقصد اس ملک کے غریبوں کو بے وقوف بنا کر ان کا استحصال کرنا ہے۔مُجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس ملک کے غریبوں کو کب سمجھ آئے گی۔ اس ملک کے وسائل پر چند ہزار سیاست دانوں ' مطلق العنان فوجی آمروں، بیوروکریٹس کا قبضہ ہے ، جو وطن عزیز کے 21کروڑ عوام کی قسمت سے کھیلتے رہتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ملک میں غریب کی حالت میں کوئی تبدیلی کیوں نہیں آتی؟۔ اس ملک کے غریب کسمپرسی کی حالت میں کیوں مر رہے ہیں؟۔ کیونکہ جب تک ان غریبوں کے پاس اقتدار نہیں آئے گا اس وقت تک کسی اچھائی اور مُثبت تبدیلی کا تقا ضا عین نادانی ہے۔جب ایوب خان اقتدار میں تھے تو لوگ ان کو اپنی مالی اور معاشی مشکلات کی وجہ سے بُرا بلا کہتے۔ جب ایوب خان کوہٹا یا گیا اور یحییٰ خان آگئے تو یحییٰ خان نے لوگوں کی زندگی اتنی اجیرن کی کہ لوگ ایوب خان کو اچھا کہنے لگے۔ جب یحییٰ خان ہٹائے گئے اور ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی تو پھر لوگ یحییٰ خان کو اچھا کہنے لگے۔جب صدر پر ویز مشرف اقتدار میں تھے تو لوگ اُنکو بُرا بلا کہتے تھے۔ اب جب سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیںتو انہوں نے لوگوں کو اتنی مشکلات میں پھنسا دیا کہ اب لوگوں کو پرویز مشرف بھی اچھے نظر آنے لگے۔حالانکہ مشرف کا دور تو امن و امان اور معاشی لحاظ سے سب سے زیادہ بدحل رہا مگر موجودہ حکومت خواہ اُسکا تعلق پاکستان مسلم لیگ، پی پی پی ، ایم کیو ایم یا اے این پی سے ہے انہوں نے لوگوں کو مہنگائی، بے روز گاری اور دہشت گر دی کی جنگ میں اتنا دھنسا دیا کہ اب عوام کو مشرف بھی اچھے نظر آتے۔ اگر دیکھا جائے تو ہماری اس نا گفتہ بہ حالت میں ہمارے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ اس ملک کے غریب عوام بھی ذمہ دار ہیں۔اگر یہ غریب عوام ان کرپٹ سیاست دانوںکو ووٹ نہ دیںتو یہ کبھی بھی اقتدار کی مسند پر بیٹھ کر ہمارا استحصال نہیں کر سکیں گے۔اس ملک کے عوام کو کب ہو ش آئے گا؟۔کب سمجھیں گے؟ غریبو جا گ جائو ، اس ملک کے سرمایہ دار بھیڑ بکریوں کی طر ح آپکو بیچتے رہتے ہیں تو آپ میں بھی شعور ہو نا چاہئے۔ آپ کا بھی آئندہ انتخابات کے لئے ایجنڈا ہونا چاہئے ۔ آپکو بھی پتہ ہو نا چاہئے کہ آپکی تر جیحات کیا ہیں۔

متعلقہ خبریں